مسائل اور ان کا حل
باوقت ذبح نکلنے والے خون کی بیع حرام سوال: کیا حلال جانور وں کا وہ خون جو باوقت ذبح نکلتا ہے اس کی خرید و فروخت جائز ہے؟(بشیر، لاہور)جواب :جائز نہیں ۔اس سے احتراز کرنا ضروری ہے ۔
قربانی کا مسئلہ
سوال : رسول اکرم ﷺ نے خود قربانی فرمائی اور کتنے سال قربانی فرمائی ؟(وجاہت ، ملتان)
جواب : ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے مدینہ منورہ کے10سالہ قیام میں ہرسال قربانی فرمائی۔
لنگڑے جانور کی قربانی
سوال :ایک جانور خریدا ہے، بکرا ہے مگر وہ کچھ لنگڑاتا ہے، کیا اس کی قربانی درست ہے ؟ (محمد یوسف ،حیدر آباد)
جواب :اس کا لنگڑا پن اگر اس کے چلنے پھرنے کیلئے مانع نہیں ہے یعنی وہ تھوڑے سے لنگڑاپن کے باوجود چل پھر سکتا ہے تو اس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے ۔(وفی الدر المختار، ج2 ص 323)
قربانی کس پر واجب ہے؟
سوال:قربانی کس شخص پر واجب ہو تی ہے۔یعنی جس کے پا س کتنا مال ہو کہ اس پر قربانی لازم ہو تی ہے برائے کرم اس کا معیار بتا دیں۔(محمد انور،خانیوال)
جواب:جس مسلمان غیر مسافر کی ذاتی ملکیت میں عید کے 3 دنوں میں صرف سونا ساڑھے سات تولہ ہو یا سونا چاندی، نقدی مال تجارت یا ضرورت سے زیادہ گھریلو ساز وسامان میں سے کو ئی ایک یا ایک سے زیادہ چیز وں کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔
طواف کے دوران نماز پڑھنے
والے کے سامنے سے گزرنا
سوال: کیا طواف کے دوران نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرا جا سکتا ہے؟ (عبدالکریم، کراچی)
جواب:۔ جی ہاں طواف کے دوران نمازی کے سامنے سے گزرنے کی گنجائش ہے۔(السنن الکبریٰ للبیہقی، 2/ 273)، (الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین)
دوران طواف نماز کا مسئلہ
سوال: طواف کے دوران نماز فرض شروع ہو جائے تو نماز کے بعد طواف کہاں سے شروع کیا جائے۔ (محمد نعیم، کوئٹہ)
جواب : جہا ں طواف روک کر نماز شروع کی تھی وہیں سے نماز کے بعد طواف جاری رکھیں ۔دوبارہ سے طواف یا چکر شروع کرنے کی ضرورت نہیں ۔
اجتماعی قربانی میں مشکوک
آمدنی والے فرد کا شامل ہونا
سوال:کراچی میں فلیٹ کلچر کی وجہ سے اجتماعی قربانی کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اگراجتماعی قربانی میں کوئی ایسا شخص ہمارا حصہ دار ہو جس کی آمدنی پر شک ہو یا پھر وہ ایسا کاروبار کرتا ہوں جس کی آمدنی میں مشکوک ہو تو اس طرح کی قربانی میں حصہ ڈالنا صحیح ہے یا غلط۔ اس مسئلہ کا کوئی حل بتائیں ہم حصہ ڈالیں یا نہ ڈالیں۔(کبیر علی ،کراچی)
جواب:اگر کسی کی آمدن کے بارے میں کوئی علم نہ ہو تو بلا وجہ شک وشبہ میں پڑنا اور اس کی تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے۔ مسلمانوں کوحکم یہ ہے کہ دیگر مسلمانوں کے بارے میں نیک گمان رکھیں۔اس لئے کہ عام طور پر مسلمان حرام نہیں کماتا۔محض شک کی بنیاد پر کسی کی قربانی پر کوئی اثرنہیں ہوتا۔ اگر اجتماعی قربانی میں کسی ایک شریک کی کل یا اکثر آمدنی حرام ہو اور واقعتاً اس نے قربانی میں حرام مال سے ہی شرکت کی ہو اور دیگر شرکاء اور اجتماعی قربانی کے منتظمین کو اس کا علم بھی ہو تو ایسی صورت میں فقہ کی عام تصریحات کے مطابق باقی شرکاء کی قربانی بھی درست نہ ہو گی۔ تاہم امام کرخی رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس قربانی کی ادائیگی تصورکی جا سکتی ہے۔ مذکورہ شخص اور دیگر شرکاء کی قربانی درست ہو جائے گی۔(الحجرات: 12)، وفی الفتاوی الہندیۃ (5/ 304))