قربانی کی روح اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر : ڈاکٹر مفتی سّید اطہر علی


’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37) اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرنے سے بندے کی اپنے رب سے دوریاں قربت میں بدل جاتی ہیں ہر عمل کیلئے نیت خالص ہونی چاہیے، قربانی کیلئے جس مال سے جانور خریدنا ہواُس کا پاک ہونا ضروری ہے

اسلام ایک مکمل دین اور ضابط حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی زندگی کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی عظیم عبادات میں سے ایک اہم عبادت قربانی بھی ہے۔ قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ بندہ مؤمن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، وفاداری، اطاعت اور تقویٰ کا عملی اظہار ہے۔ عید الاضحی کا دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز اہم نہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37)۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی کا اصل مقصد دلوں میں تقویٰ اور اخلاص پیدا کرنا ہے۔

قربانی کا مفہوم 

قربانی عربی لفظ ‘‘قرب’’ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’’قریب ہونا‘‘۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مخصوص دنوں میں مخصوص جانور ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔اسلام میں ہر عبادت انسان کو اللہ کے قریب کرنے کیلئے ہے، اسی لیے قربانی کو بھی عبادت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:پس آپ اپنے رب کیلئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں‘‘ (سورۃ الکوثر: 2)۔اس آیت میں نماز اور قربانی دونوں کو عبادت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔قربانی دراصل انسان کے ایمان کا امتحان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے یا نہیں۔

قربانی کی فضیلت

قربانی ایک عظیم عبادت ہے جس کی فضیلت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے‘‘(سورۃ الحج: 34)۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف اُمت محمدیہ ہی نہیں بلکہ سابقہ امتوں میں بھی مشروع تھی۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں ’’رسول اللہﷺ نے دو سفید اور سیاہ رنگ والے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی اپنے ہاتھ سے کی‘‘(صحیح بخاری: 5558)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہماری قربانی کرے، اس نے سنت کے مطابق قربانی ادا کی‘‘ (صحیح بخاری: 5545)۔ 

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘(صحیح بخاری:1)۔یہ تمام صحیح احادیث قربانی کی عظمت اور اخلاص کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔

فلسفہ قربانی اور جذبہ ایثار

قربانی کا اصل مقصد انسان میں ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر چیز قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔حضرت ابراہیم  ؑنے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ تاریخ انسانیت کا عظیم ترین امتحان تھا۔قرآن مجید میں حضرت اسماعیل  ؑ کا جواب نقل کیا گیا ہے: ’’ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کر گزریئے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘ (سورۃ الصافات: 102) ،یہ آیت اطاعت، صبر اور رضا کی اعلیٰ مثال ہے۔قربانی انسان کو سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھو، خواہشات کو قربان کرو،  دوسروں کیلئے جینا سیکھو ، ایثار اور ہمدردی اپناؤ۔ اگر قربانی کے بعد بھی انسان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اس عبادت کی روح حاصل نہیں ہوتی۔

سنتِ ابراہیمی اور اطاعتِ الٰہی

حضرت ابراہیم  ؑکی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی کا عظیم نمونہ ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے فوراً حکم مان لیا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جب دونوں نے حکم مان لیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا‘‘ (سورۃ الصافات: 103)۔یہ واقعہ رہتی دنیا تک ایمان اور اطاعت کی مثال بن گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر اور رضا کا عظیم نمونہ پیش کیا۔آج ہمیں بھی اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مقدم کرنا چاہیے۔

قربانی اور معاشرتی فلاح

اسلام نے قربانی کو صرف عبادت نہیں بلکہ معاشرتی فلاح کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو‘‘ (صحیح مسلم: 1971)۔ قربانی کے گوشت سے غریب، مساکین اور محتاج  لوگ بھی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔قربانی کے ذریعے غرباء کی مدد ہوتی ہے ،بھائی چارہ بڑھتا ہے، محبت پیدا ہوتی ہے ،معاشرتی مساوات قائم ہوتی ہے ۔یہی اسلام کا حسن ہے کہ عبادت کے ساتھ انسانیت کی خدمت بھی شامل ہے۔

 قربانی میں اخلاص کی اہمیت

ہر عبادت کی قبولیت اخلاص پر موقوف ہے۔ اگر قربانی صرف دکھاوے، شہرت یا مقابلے کیلئے ہو تو اس کا اجر کم ہوجاتا ہے۔آج بعض لوگ قربانی کو نمائش کا ذریعہ بنالیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جانتے ہیں۔اصل قربانی وہ ہے جو خالص اللہ کیلئے ہو ،سنت کے مطابق ہو، عاجزی کے ساتھ ہو ،تقویٰ کے جذبے سے ہو ۔

ہماری ذمہ داریاں

قربانی ہمیں زندگی گزارنے کا ایک مکمل سبق دیتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ قربانی اخلاص کے ساتھ کریں ،سنت کے مطابق کریں ، غریبوں کا خیال رکھیں ، دکھاوے سے بچیں، تقویٰ اختیار کریں، اللہ کے احکام پر عمل کریں  معاشرے میں محبت پھیلائیں۔

قربانی کس پر واجب ہے؟

 قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید الاضحٰی کے ایام میں نصاب کا مالک ہے،یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم اس کی ملکیت میں موجود ہو۔ اس کی ملکیت میں استعمال سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یا رہائش کے مکان سے زائد مکان یا جائیداد وغیرہ ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے۔ نیز قربانی واجب ہونے کیلئے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔ عید الاضحٰی کے دنوں تک جو قرض یا اخراجات واجب الادا ہیں، اتنی مقدار منہا کرکے نصاب کا حساب کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہو گی۔ (ردالمحتار ، ج:6، ص: 312)

کن جانوروں کی قربانی جائز ہے

جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا بعد میں ٹوٹ گئے ہوں ، بشرطیکہ سینگ جڑ سے نہ ٹوٹا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔جس بھیڑ یا کی دم پیدائشی طور پر چھوٹی ہو ،جس کا کانا پن ظاہر نہ ہو، جس جانور کا کان چیر دیا گیا ہویا ایک تہائی سے کم کاٹ دیا گیا ہو،لنگڑا جانور جو چلنے پر قادر ہو اور چوتھا پاؤں زمین پر رکھ کر چلتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔جو جانور بیمار ہو لیکن اس کی بیماری ظاہر نہ ہو تو اس کی قربانی درست ہے۔جسے کھانسی یا خارش ہو اس کی قربانی درست ہے۔ جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں، اگر کچھ گر گئے ہیں لیکن باقی ہیں اور چارہ کھا سکتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔جس کے بال کاٹ دیے گئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے۔خصی بکرے، مینڈھے اور بیل کی قربانی جائز ہے۔جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہو اس کی قربانی صحیح ہے، البتہ ولادت کے قریب ذبح کرنا مکروہ ہے ، تاہم ذبح کے بعد بچہ زندہ ہو تو اس کو بھی ذبح کر لیا جائے ، اگر مردہ ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں۔

 قربانی کیلئے مانع عیوب

(1) ایسامجنون جانورجو جنون کی وجہ سے چارہ نہ کھاتا ہو۔ (2)جو خارش کی وجہ سے  کمزور ہو گیا ہو۔ (3) ایسا جانور جو دیکھ نہ سکتا ہو۔ (4) ایسا جانور جو لاغر ہو۔ (5)ایسا جانور جس کا ایک تہائی کان یا دم یا بینائی یا چکتی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ جا چکا ہو۔ (6)ایسا جانور جس کے پیدائشی کان نہ ہوں۔ (7) ایسا جانور جس کے تھنوں کا سرا کٹا ہوا ہویاجس کے تھن خشک ہو گئے ہوں۔ (8)ایسا جانور جس کی ناک کٹی ہوئی ہو۔(9)ایسا جانور جو خنثی ہو۔ (الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین)

قربانی اسلام کی عظیم عبادت اور سنت ابراہیمی کی یادگار ہے۔ یہ عبادت ہمیں اطاعت، ایثار، صبر، اخلاص اور تقویٰ کا درس دیتی ہے۔ قربانی کا اصل مقصد جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنی خواہشات اور برائیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے قربان کرنا ہے۔ اگر مسلمان قربانی کی حقیقی روح کو سمجھ لیں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عظیم تبدیلی آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔ مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔یہ دن کیسے گزارا جائے، آئیے شریعت کی رہنمائی میں دیکھتے ہیں۔

ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام

ذبیح اللہ حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام جدالانبیاء حضرت سیدناابراہیم ؑ کے بڑے صاحبزادے اورنبی آخرالزماںﷺ کے جداعلیٰ ہیں۔ آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک کی متعددسورتوں میں موجودہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 125 تا 127، سورۃ الانعام کی آیت نمبر86، سورۃ مریم کی آیت نمبر55،54، سورۃ الانبیاء کی آیت 86،85، سورۃ الصافات کی آیت نمبر 101تا 107 اورسورہ ص کی آیت نمبر48 میں آپ ؑ کا ذکر تفصیلاً ملتا ہے۔ آپ ؑکی سیرت کے اہم گوشوں کو اس مضمون میں اختصار سے بیان کیا جاتا ہے۔

آب زم زم رحمت الٰہی کا مقدس تحفہ

مسجد الحرام میں دیوار کعبہ سے کچھ فاصلے پر چار گز چوڑا اور69 گز گہرا حجر اسود کے سامنے اور جنوب مشرقی سمت میں ایک کنواں (چاہ)ہے جسے ’’چاہ زم زم‘‘ کہتے ہیں۔ یہ چھوٹاسا کنواں پوری کائنات میں مشہور ہے، اسی کنویں کے پانی کو آب زم زم کہتے ہیں۔

مسائل اور ان کا حل

باوقت ذبح نکلنے والے خون کی بیع حرام سوال: کیا حلال جانور وں کا وہ خون جو باوقت ذبح نکلتا ہے اس کی خرید و فروخت جائز ہے؟(بشیر، لاہور)جواب :جائز نہیں ۔اس سے احتراز کرنا ضروری ہے ۔

28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔

مہنگائی کا طوفان، حکومت کیلئے امتحان

پاکستان اس وقت دلچسپ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر بیرونی اور سفارتی محاذ کی بات کی جائے تو دنیا پاکستان کی امن کوششوں کی معترف ہے لیکن اندرونی محاذ کی بات کی جائے تو عوام مسائل کی آگ میں سلگ رہے ہیں۔