ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام
ذبیح اللہ حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام جدالانبیاء حضرت سیدناابراہیم ؑ کے بڑے صاحبزادے اورنبی آخرالزماںﷺ کے جداعلیٰ ہیں۔ آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک کی متعددسورتوں میں موجودہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 125 تا 127، سورۃ الانعام کی آیت نمبر86، سورۃ مریم کی آیت نمبر55،54، سورۃ الانبیاء کی آیت 86،85، سورۃ الصافات کی آیت نمبر 101تا 107 اورسورہ ص کی آیت نمبر48 میں آپ ؑ کا ذکر تفصیلاً ملتا ہے۔ آپ ؑکی سیرت کے اہم گوشوں کو اس مضمون میں اختصار سے بیان کیا جاتا ہے۔
ولادت و اسم گرامی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر جب 86 سال ہو چکی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ’’اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرما، پس ہم نے انہیں بڑے بُرد بار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دی‘‘ (الصافات: 100-101)
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب سیدہ ہاجرہ امیدسے ہوئیں تو ایک چشمے کے پاس گھبرائے ہوئے بیٹھی تھیں کہ ایک فرشتہ نے آ کر کہا:مت ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ اس لڑکے سے،جسے تو نے پیٹ میں اٹھا رکھا ہے خیر پیدا کرے گا،اس کا نام اسماعیل رکھنا اور انہیں واپس جانے کا حکم دیا(البدایہ و النہایہ، ج1، ص176)۔
آپ علیہ السلام کالقب ذبیح اللہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کے والدگرامی کوانہیں ذبح کرنے کا حکم دیا اورآپ ؑنے فرمان باری تعالیٰ سن کربغیرکسی ترددکے خود کو قربان ہونے کیلئے پیش کردیا۔
بعثت
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قوم عمالیق کی طرف مبعوث فرمایا۔جنہیں آپ ؑ نے وعظ و تبلیغ فرمائی، کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ کافر ہی رہے (الروض الانف، ج1، ص42)۔آپ ؑ پر کوئی کتاب نازل ہوئی نہ کوئی صحیفہ بلکہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام پرنازل ہونے والے صحیفوں کی اتباع کرتے ہوئے احکام الٰہی کی تبلیغ کرتے،ساتھ ساتھ بعض احکامات اللہ تعالیٰ کی جانب سے بذریعہ وحی آپ علیہ السلام پر نازل ہوئے۔قرآن مجیدمیں ہے: (اے حبیب!) بیشک ہم نے آپ کی طرف (اُسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف اور ان کے بعد (دوسرے) پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب اور (ان کی) اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (علیھم السلام) کی طرف (بھی) وحی فرمائی (النساء: 163)
اوصاف حمیدہ
اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کونہایت ہی عمدہ اور اعلیٰ اوصاف کا مالک بنایا، ان میں سے سات کاذکرقرآن مجیدمیں ملتاہے۔
(1،2)وعدہ کے سچے اورغیب کی خبریں دینے والارسول:قرآن کریم میں ہے: آپ (اس) کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کریں، بیشک وہ وعدہ کے سچے اور صاحب رسالت نبی تھے (سورہ مریم:54)
(3)بہترین فردِ معاشرہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیھم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، وہ سارے کے سارے چنے ہوئے لوگوں میں سے تھے(ص48:38)۔
(4)پسندیدہ بندہ: آپ ؑاپنی اطاعت و اعمال، صبرواستقلال اوراپنی عادات وخصائل کی پاکی کی وجہ سے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی پسندیدہ تھے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وہ اپنے رب کے حضور مقام مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)۔ (مریم 55)
(5)صابر: آپ علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے صابرین کے گروہ میں شامل فرمایا،ارشادباری تعالیٰ ہے: اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے۔ (الانبیاء : 85)
(6)نمازوزکوٰۃ کی تلقین کرنیوالے اورمقام رضا پر فائز: آپ ؑاپنے گھراورقبیلہ والوں کونمازقائم کرنے اورزکوٰۃ ادا کرنے کاحکم دیاکرتے اورمقام رضا پر فائز تھے، ارشادباری تعالیٰ ہے: وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے، اور وہ اپنے رب کے حضور مقام مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی رب ان سے راضی تھا) (مریم :55)
(7)بیت اللہ کے رکھوالے: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام کو تاکیداًبیت اللہ کو صاف رکھنے اوراس کی دیکھ بھال کا حکم دیا،قرآن مجید میں ہے: ’’ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کیلئے پاک (صاف) کر د و‘‘(البقرہ:125)۔
انعامات خداوندی
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زندگی مبارکہ میں بہت سے انعامات فرمائے جن میں صرف تین کا ذکرحسب ذیل ہے۔
(1،2)رحمت خداوندی کاحقدار اورصالحین میں شمار: اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کواپنی رحمت خاصہ میں شامل کرتے ہوئے اپنے مقربین خاص نیک و کاروں میں شمار کیا۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: ہم نے انہیں اپنے (دامن) رحمت میں داخل فرمایا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھے ۔ (الانبیاء: 86)
(3)تمام جہان والوں پر فضیلت: قرآن مجید میں ہے: اسمٰعیل، الیسع ،یونس اور لوط (علیھم السلام کو بھی ہدایت سے شرف یاب فرمایا)، اور ہم نے ان سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی‘‘ (الانعام: 86)۔
قربانی اسماعیل ؑ
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حیات مبارکہ کا عظیم واقعہ آپ کی قربانی کاہے : ایک دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :کہ اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں، انبیاء علیہم السلام کی خواب حق اور وحی الہٰی ہوتے ہیں، لہٰذا اب تو دیکھ لے اس بارے میں تیری کیا رائے ہے؟ والد محترم کی بات سنتے ہی حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کی : اے ابا جان !آپؑ وہ کیجیے جس کا آپؑ کو حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عنقریب آپؑ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ،بیٹے کے جواب کے بعد حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کیلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے کے ہمراہ منیٰ پہنچے اور یہاں ایک جگہ پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیشانی کے بل لٹایا اور پتھر پر رگڑ کر چھری تیز کرنے لگے۔چھری تیز ہو جانے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھے اور پیشانی کے بل لیٹے ہوئے اپنے محبوب بیٹے کے گلے پر پوری قوت سے چھری چلا ئی لیکن چھری نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا گلا نہیں کاٹااورنہ ہی ان کے گلے پر ذرا سی خراش آئی،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :کہ ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھا بھیجا جو آپ کی جگہ ذبح کیا گیا۔
قربانی یادگارابراہیم ؑ
عید الاضحی کے موقع پر کی جانے والے قربانی حضرت ابراہیم ؑ کی اسی قربانی کی یادگار ہے اور آپ ؑ کی یہ سنت دین اسلام میں صاحب نصاب پر وجوب کادرجہ رکھتی ہے۔ حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے پوچھا:اے اللہ کے رسولؐ! یہ قربانی کیا ہے؟ ارشاد فرمایا :تمہارے والد حضرت ابراہیم ؑکی سنت ہیں، صحابہ نے عرض کیا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟ ارشاد فرمایا :ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے،صحابہ نے مزید پوچھا: اور اون میں؟ ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی ایک نیکی ہے (ابن ماجہ: 3127)۔
وفات وتدفین
ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن احمد السہیلی لکھتے ہیں :حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی زندگی کی 130 بہاریں دیکھ کروفات پائی اورمقام حجر(حطیم کعبہ) میں اپنی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی قبرانورکے قریب دفن ہوئے۔ (الروض الانف، ج1، ص40)