منشیات نیٹ ورک، تہلکہ خیز انکشاف

تحریر : طلحہ ہاشمی


کراچی میں انمول عرف پنکی سمیت دیگر ہائی پروفائل منشیات فروش گروہوں کی گرفتاری کے معاملے پر دنیا نیوز نے تحقیقات کیں تو ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ چھ ماہ قبل سندھ حکومت نے وفاقی سول حساس ادارے سے اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست کی تھی جس پر انسداد منشیات مہم کے لیے سندھ حکومت سے فری ہینڈ مانگا گیا تھا۔

 ذرائع بتاتے ہیں کہ اب تک انمول عرف پنکی گروہ سمیت 25 سے 30 گینگز کو پکڑا جاچکا ہے۔ انمول عرف پنکی کی گرفتاری ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن تھا۔ گرفتاری کے وقت صرف چند لوگوں کو اس کا علم تھا کیونکہ آپریشن کی کامیابی کے لیے بیشتر افراد کو ملزمہ کی شناخت سے لاعلم رکھا گیا تھا۔ انمول عرف پنکی کی شناخت ساؤتھ پولیس کے ایک اہلکار سے کروائی گئی جو ملزمہ سے واقف تھا۔ ایک دوسرے آپریشن میں لیاری میں کئی دہائیوں سے کام کرنے والے با اثر منشیات فروش غلامک کو بھی گرفتار کیا گیا۔غلامک وہ کردار تھا جو رحمان ڈکیت کی والدہ سے بھی رابطے میں تھا۔

انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں کوکین لانے والے ایک افریقی گروہ کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ انمول عرف پنکی سے ڈیڑھ کلوگرام کوکین برآمد کی گئی۔ ماضی میں یہاں کوکین کی اتنی بڑی مقدار کبھی نہیں پکڑی گئی۔ کوکین کی ترسیل ایک سو گرام سے تین سو گرام تک کی جاتی تھی۔ انمول عرف پنکی نے اگر ایک کلوگرام مکسڈ کوکین بنانی ہوتی تو وہ کوکین کی 200 سے 300 گرام مقدار ہی منگواتی تھی۔وہ دو قسم کی مکسڈ کوکین بناتی تھی، ایک کا نام وائیٹ کوکین جبکہ دوسری کا نام گولڈن کوکین تھا۔ پنکی اپنی برانڈڈ کوکین پہلے خود چیک کرتی اور بہت اچھا بننے کی صورت میں 50 ہزار روپے فی گرام تک بیچتی تھی۔ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی سے تحقیقات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ ملزمہ کے خلاف مجموعی طور پر 25 مقدمات درج ہیں، 21 مقدمات گرفتاری سے قبل اور چار گرفتاری کے بعد درج ہوئے۔ یہ مقدمات کراچی، پنجاب اور اے این ایف میں درج ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ ملزمہ کی فون لسٹ میں سے ملنے والے تمام کانٹیکٹ نمبرز اس کے نہیں ہیں۔ 2700سے زائد کانٹیکٹ لسٹ میں سے اس کے کانٹیکٹس 868 ہیں اور پنکی کی کانٹیکٹ لسٹ کے آگے اس کامخصوص کوڈ لگا ہوا ہے، فون کے دیگر کانٹیکٹس اس کے سابق شوہر رانا ناصر کے ہیں جس نے اسے یہ کام سکھایا تھا۔ 868 میں سے 250 کانٹیکٹس کراچی کے ہیں۔ یہ وہ نمبرز ہیں جو کراچی کے رہائشیوں کے نام پر یا یہاں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ شہر میں استعمال ہونے والے زیادہ تر نمبر اب بند ہیں۔ اس کانٹیکٹ لسٹ میں سے کچھ نمبرز بین الاقوامی بھی ہیں جبکہ باقی کے 618 نمبرز اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے دیگر علاقوں کے ہیں۔ 20 سے زائد نمبرز انٹرنیشنل ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ منشیات سپلائی کرتے تھے۔

 اب تک اس کیس میں پنکی سمیت تین ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، دیگر گرفتار افراد میں پنکی کے اکاؤنٹ ہولڈرز شامل ہیں۔تحقیقات میں اب تک ملزمہ کے 11 اکاؤنٹس سامنے آچکے ہیں جن میں سے اکثر بے نامی ہیں کیونکہ منشیات فروش ملزمہ کا شناختی کارڈ بلاک ہے۔حکام بتاتے ہیں کہ بے نامی اکاؤنٹس کے لیے ایف آئی اے کو لکھا جاچکا ہے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات کے لیے سی ٹی ڈی کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے۔ ملزمہ انمول عرف پنکی کے ایک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے موجود ہیں۔ انمول عرف پنکی کے خلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تحقیقات کے معاملے پر کمیٹی سربراہ کا مؤقف ہے کہ شہر میں درج 21 مقدمات میں پنکی سے تفصیلی تفتیش کی ضرورت ہے،تاہم کراچی پولیس انمول عرف پنکی کو مکمل تفتیش کے بغیر پنجاب پولیس کے حوالے نہیں کرے گی۔ پنجاب پولیس انمول عرف پنکی سے تفتیش کر سکتی ہے اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کی ٹیم کراچی آسکتی ہے لیکن پنکی کو پنجاب پولیس صرف صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطے کے بعد ہی حاصل کرسکتی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب اس سلسلے میں محکمہ داخلہ سندھ سے رابطہ کرنے کا پابند ہے۔ بین الصوبائی رابطے کے بعد ٹرائل کورٹ کی اجازت مشروط ہوتی ہے اور اس اجازت کے بعد ہی پنجاب پولیس پنکی کو تحویل میں لے کر منتقل کرسکتی ہے۔یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ انمول عرف پنکی اپنا نیٹورک لاہور سے چلا رہی تھی۔ اسے منشیات ملتی بھی وہیں تھی اور وہیں یہ اسے مکسڈ اَپ کر کے ملک کے دیگر حصوں میں پہنچوایا کرتی تھی۔ بقول شرجیل میمن اس کیس میں بڑے بڑے نام سامنے آئے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ نشے کی لت سنگین اور سنجیدہ مسئلہ ہے اس لیے کسی کی کردار کشی یا تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔ ضیا الحسن لنجار کی بھی یہی رائے ہے۔ کوکین استعمال کرنے والوں کا نام پردے میں رہنا چاہیے۔شرجیل میمن منشیات کے خاتمے کے بڑے وکیل ہیں لیکن کراچی سمیت سندھ بھر میں منشیات جس طرح بکتی ہے، نشئی افراد سڑکوں پر مدہوش حالت میں پڑے نظر آتے ہیں، اس سے یہ لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں ایسا خلا موجود ہے جو منشیات کے سوداگروں کو کھلی چھوٹ فراہم کرتا ہے۔ ان کے راستے کی رکاوٹیں دور کرتا ہے اور ان کی طرف بڑھنے والوں ہاتھوں کو روک لیتا ہے۔انمول پنکی کی پولیس کو دھمکیاں، گرفتاری سے قبل آڈیو نوٹس میں چیلنجز، پیسہ کھلانے کی بات سب اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔

مہنگائی کا طوفان، حکومت کیلئے امتحان

پاکستان اس وقت دلچسپ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر بیرونی اور سفارتی محاذ کی بات کی جائے تو دنیا پاکستان کی امن کوششوں کی معترف ہے لیکن اندرونی محاذ کی بات کی جائے تو عوام مسائل کی آگ میں سلگ رہے ہیں۔

وزارتیں، ناراض اراکین اور بڑھتا سیاسی دباؤ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ سے چند ہفتے قبل کابینہ میں توسیع کرکے حکومت سے نالاں پارٹی رہنماؤں کو اعتراضات کاسنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود پیش رفت

رواںہفتہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کااجلاس اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ اورسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب جبکہ گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کوئٹہ اور مختلف منصوبوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا چاہتی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست نئے موڑ پر

آزاد جموں و کشمیرقانون ساز اسمبلی کے اس پانچ سالہ دور کی مدت دو اگست کو پوری ہو جائے گی۔ یوں آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ قانون ساز اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل انتخابات کو یقینی بنائے۔

کام اور رشتوں میں توازن مضبوط تعلقات کیسے قائم رکھیں؟

آج کی خواتین زندگی کے کئی میدانوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ بیک وقت ملازمت، کاروبار، گھر، بچوں کی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔