وزارتیں، ناراض اراکین اور بڑھتا سیاسی دباؤ

تحریر : عابدحمید


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ سے چند ہفتے قبل کابینہ میں توسیع کرکے حکومت سے نالاں پارٹی رہنماؤں کو اعتراضات کاسنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔

جب کابینہ میں توسیع کے عمل میں تاخیر کی جارہی تھی تب بھی پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں میں بے چینی پائی جاتی تھی اور جب کابینہ میں توسیع کر دی گئی ہے تب بھی بے چینی موجود ہے۔بعض اراکین اسمبلی نے گزشتہ روز کابینہ میں توسیع کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اضلاع کو کابینہ میں مکمل طورپر نظرانداز کیاگیا۔ ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے شکیل خان کی کابینہ میں واپسی ہوئی ہے۔ شکیل خان کو اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنی کابینہ سے نکالاتھا۔ علی امین گنڈاپور نے بھی شکیل خان کو کابینہ سے فارغ کیا۔شکیل خان کے مطابق دونوں بار انہوں نے اُس وقت کے وزرائے اعلیٰ کے طرزِ حکومت،مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس کی پاداش میں انہیں وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اب ایک بارپھر و ہ کابینہ کا حصہ بن گئے ہیں۔ شکیل خان کو عاطف خان گروپ کا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے اس مضبوط گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم پشاور سے تعلق رکھنے والے قاسم علی شاہ کابینہ میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔انہیں علی امین گنڈاپور کا حمایتی سمجھا جاتاہے۔

کابینہ کی تشکیل سے چند روز قبل وزیراعلیٰ اور اراکین اسمبلی کیلئے دیاگیاان کا عشائیہ بھی کسی کام نہ آسکا۔ صوبائی کابینہ پر نظر ڈالی جائے تو پرانے اور نئے دونوں طرح کے چہرے نظرآئیں گے جن کا تعلق پارٹی کے اندر موجود مختلف گروپوں سے ہے۔اب ان  گروپوں میں وزارتوں پر سرد جنگ شروع ہو گئی ہے۔ محکمہ بلدیات اور سی اینڈ ڈبلیو کی وزارتیں پرکشش اور بڑی وزارتیں ہیں۔ کابینہ کے دو اراکین میں ان وزارتوں پر رسہ کشی جاری ہے۔ محکمہ بلدیات مینا خان آفریدی کے پاس ہے جبکہ شکیل خان بھی اس وزارت کے خواہاں ہیں۔ سی اینڈ ڈبلیو کامحکمہ وزیراعلیٰ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ شکیل خان کو اگر من پسند وزارت نہ ملی تو کیا وہ دوبارہ علم بغاوت بلند کریں گے، فی الوقت کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن ان کا ماضی اس کا گواہ ہے کہ ان کے گروپ کی جانب سے ہر وزیر اعلیٰ کے دور میں کوئی نہ کوئی تنازع سامنے آیا۔ بعض وزرا نے محکموں کے حصول سے قبل ہی پرتعیش دفاتر کے حصول کی دوڑ شروع کردی ہے اور وزرا کے دفاتر کیلئے مختص بلاک میں من پسند کمروں پر اپنے نام کے سٹیکر تک لگا لئے ہیں۔ 

دوسری جانب وہ اراکین اسمبلی جو کابینہ میں شمولیت کے امیدوار تھے کابینہ میں نہ لیے جانے پر ناراض ہیں۔ ان میں بعض وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قریبی سمجھے جانے والے ایم پی اے ہیں۔ گزشتہ روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ان اراکین اسمبلی نے کھل کر اپنی ناراضگی کااظہار کیا۔بعض سابق وزرا جو کابینہ میں شامل ہونے سے محروم رہ گئے انہوں نے بھی سوشل میڈیا پر واویلا شروع کردیا ہے۔ علی امین گنڈا پور کے قریب سمجھے جانے والے اراکین اسمبلی کو  بھی کابینہ میں جگہ نہیں مل سکی۔ جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے پختون یارخان علی امین گنڈاپور کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے، انہیں بھی کابینہ کاحصہ نہیں بنایاگیا۔ کچھ اور نام بھی ہیں جنہیں نظرانداز کیاگیا۔بہرحال بجٹ سے قبل کابینہ میں توسیع وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے مشکلات پیدا کرتی نظر آتی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ منظورکروانے میں بھی انہیں مشکلات کاسامنا کرنا ہوگا؟اگرچہ اس کا امکان کم ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی پارٹی پالیسی سے ہٹ کر چلیں گے لیکن وہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں جن میں ترقیاتی فنڈز اور سکیموں سے محرومی کے حوالے سے ایوان میں براہ راست تنقید بھی شامل ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال گزشتہ روز ایوان میں نظرآئی جب پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی سرکاری محکموں میں مبینہ کرپشن پر برس پڑے۔ تاہم سہیل آفریدی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ صوبے میں مالی بے قاعدگیاں ہورہی ہیں۔

وزیراعلیٰ کی تمام تر توجہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر ہے۔ انہیں علی امین گنڈاپور کی جگہ وزیراعلیٰ منتخب کرنے سے قبل یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ اس حوالے سے تحریک میں جان ڈالیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ یہ تنقید اتنی بڑھ گئی کہ انہیں ہٹانے کی باتیں بھی شروع ہوگئیں۔ سہیل آفریدی نے اس حوالے سے جو حکمت عملی اپنائی اس میں جلسے جلوس اور عوامی اجتماعات شامل ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے پنجاب اور کراچی کے دورے بھی کئے اور سٹریٹ موومنٹ بھی شروع کی، بانی پی ٹی آئی رضاکار بھرتی کرنے کا نعرہ بھی لگایا لیکن ورکروں کی جانب سے ان اقدامات کو ناکافی قراردیاگیا۔ اگلے روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں انہوں نے اڈیالہ جیل جانے کا اعلان کیا اور ہر ایم پی اے کو خود آنے اور اپنے ساتھ سو سو ورکروں کو لانے کی ہدایت کی۔ منگل کے روز جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا قافلے کے ساتھ اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئے تو یہ تعداد کم تھی۔ اگرہرایم پی اے اس موقع پر موجود ہوتا اور اپنے ساتھ سو سو بندے لاتا تویہ تعداد دس ہزار کے قریب بنتی تھی۔ یوں لگ رہاہے کہ اب پی ٹی آئی کی قیادت اس حوالے سے محتاط ہو گئی ہے۔ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد پر چڑھائی اور اس میں جانی نقصان کے بعد پارٹی قیادت دوبارہ اس صورتحال کی طرف نہیں جانا چاہتی۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اس وقت کی پی ٹی آئی قیادت نے دوبارہ ایسا کوئی مارچ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی جس کے بعد تمام جلسے، جلوس اورمظاہرے خیبرپختونخوا کی حدود میں ہوئے۔

اس کی ایک وجہ وفاق کی جانب سے دی جانے والی سخت تنبیہ بتائی جارہی ہے، اس کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی منگل کے روز مختلف رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے علیمہ خان تک پہنچ ہی گئے۔ کارکنوں کی بھی بڑی تعداد اُن کے ساتھ تھی یہ ایک اچھی بات تھی کہ سہیل آفریدی نہ صرف خود پرسکون رہے بلکہ پولیس کے روکنے کے باوجود کارکنوں کو بھی پرسکون رہنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے یہ ایک اچھا پاور شو قراردیاجاسکتا ہے جو اُن پرموجود دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔اس سے قبل علیمہ خان کی جانب سے ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی تاہم اب ان کا لب ولہجہ بدل گیا ہے۔ سہیل آفریدی اپنے اوپر پڑنے والے دباؤ کو اب وفاق کی طرف منتقل کرنا چاہتے ہیں جس میں وہ گزشتہ روز کافی حد تک کامیاب رہے‘ لیکن کارکنوں کو مطمئن کرنے کیلئے انہیں ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہو گا۔تاہم مرکزی قیادت کی عدم یکسوئی اور اس حوالے سے قابل ذکر پالیسی نہ ہونے سے پارٹی کے اندر کنفیوژن موجود ہے اورسہیل آفریدی خودبھی اسی کنفیوژن کا شکار نظرآتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔

مہنگائی کا طوفان، حکومت کیلئے امتحان

پاکستان اس وقت دلچسپ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر بیرونی اور سفارتی محاذ کی بات کی جائے تو دنیا پاکستان کی امن کوششوں کی معترف ہے لیکن اندرونی محاذ کی بات کی جائے تو عوام مسائل کی آگ میں سلگ رہے ہیں۔

منشیات نیٹ ورک، تہلکہ خیز انکشاف

کراچی میں انمول عرف پنکی سمیت دیگر ہائی پروفائل منشیات فروش گروہوں کی گرفتاری کے معاملے پر دنیا نیوز نے تحقیقات کیں تو ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ چھ ماہ قبل سندھ حکومت نے وفاقی سول حساس ادارے سے اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست کی تھی جس پر انسداد منشیات مہم کے لیے سندھ حکومت سے فری ہینڈ مانگا گیا تھا۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود پیش رفت

رواںہفتہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کااجلاس اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ اورسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب جبکہ گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کوئٹہ اور مختلف منصوبوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا چاہتی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست نئے موڑ پر

آزاد جموں و کشمیرقانون ساز اسمبلی کے اس پانچ سالہ دور کی مدت دو اگست کو پوری ہو جائے گی۔ یوں آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ قانون ساز اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل انتخابات کو یقینی بنائے۔

کام اور رشتوں میں توازن مضبوط تعلقات کیسے قائم رکھیں؟

آج کی خواتین زندگی کے کئی میدانوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ بیک وقت ملازمت، کاروبار، گھر، بچوں کی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔