آزاد کشمیر کی سیاست نئے موڑ پر

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیرقانون ساز اسمبلی کے اس پانچ سالہ دور کی مدت دو اگست کو پوری ہو جائے گی۔ یوں آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ قانون ساز اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل انتخابات کو یقینی بنائے۔

 الیکشن کمیشن نے اب تک انتخابی فہرستوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ حلقہ بندیوں کا کام بھی مکمل کر لیا ہے اور سوموار کو آزاد جموں و کشمیر کے دس اضلاع کے لئے مختص 33اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے بارہ انتخابی حلقوں، جن میں چھ جموں اور چھ مقبوضہ وادی کشمیر کے مہاجرین رائے دہندگان کے لئے مختص کئے گئے ہیں کی ووٹر لسٹیں بھی نادرا کی مدد سے مکمل کر لی گئی ہیں اور جلد ہی ریٹرننگ آفیسر ز کی فہرست بھی جاری کر دی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن قانون اور آئین کے مطابق انتخابی تیاریوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں حکومت آزاد جموں و کشمیر بھی ان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے انتخابات کے بر وقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے 75کروڑ روپے بھی جاری کر دئیے ہیں تاہم پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پولنگ کے سامان کی ترسیل کے لئے حکومت اضافی اخراجات کے لئے  بھی تیار ہے۔ 

آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے جاری غیر یقینی صورت حال اس وقت اچانک تبدیل ہوئی جب سوموار کو مظفرآباد میں اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کیا گیاکہ 24 مئی سے قبل انتخابی شیڈول جاری کیا جا سکتا ہے تاکہ عید الاضحی کے دنوں میں سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں تیزی لا سکیں۔ اگر مئی میں کسی وجہ سے انتخابی شیڈول جاری نہ ہو سکا تو دو جون سے قبل انتخابی شیڈول جاری کرنا آئینی ضرورت ہے۔ 2021ء میں 29 لاکھ رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور گزشتہ پانچ سال کے دوران پانچ لاکھ نوجوانوں کے نئے ووٹ بھی درج ہوئے ہیں جو جولائی میں پہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ مجموعی طور پر 34 لاکھ ووٹرز انتخابات میں 45 اراکین قانون ساز اسمبلی کو منتخب کریں گے۔ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پر امن انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کر سکتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں چار انتخابی حلقے چڑھوئی، نکیال، بھمبر اور کھاوڑہ مظفرآباد حساس ترین سمجھے جاتے ہیں۔ ان انتخابی حلقوں میں فوج کی تعیناتی ضروری ہے۔ 

ادھر الیکشن کمیشن نے اب تک کل نوسیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن مکمل کر کے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف سمیت دو درجن سے زائد سیاسی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2020 کے تحت اپنے کوائف اور دستاویزات مکمل نہیں کر سکیں۔ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن کے حوالے موقف یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر وفاق میں پابندی ہے اور جس سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی نشان جاری نہیں کیا اس جماعت کو آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن بھی رجسٹرڈ کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دے گا۔ آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر شاخ نام کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ 

ترمیمی الیکشن ایکٹ 2020 کے بعد اب آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے لئے رجسٹریشن ایک مشکل اور پیچیدہ عمل بن چکا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن میں کسی بھی سیاسی جماعت کے اندراج اور رجسٹریشن کے لئے دو ہزار کارکنان کے شناختی کارڈز کی مصدقہ نقول بشمول رجسٹریشن فیس مبلغ دو لاکھ روپے نقد جمع کرانا لازمی ہے۔ الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعت کا انتظامی ڈھانچہ، بینک اکاونٹس کی تفصیلات اور جماعتی عہدیداران کے کوائف کے ساتھ ساتھ آڈٹ رپورٹ اور فنڈنگ کے ذرائع بتانے لازمی ہیں۔ یوں آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی رجسٹریشن آسان کام نہیں۔2021ء میں تین درجن سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ملی تھی جبکہ عملاً ڈیڑھ درجن سیاسی و مذہبی جماعتوں نے الیکشن لڑا تھا۔ 

ادھر پیپلزپارٹی مسئلہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین مقیم پاکستان کی اہمیت کو اقتدار کے حصول کے لئے نظر انداز کر رہی ہے اور عملاً مشترکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی پاکستان کے چاروں صوبوں میں قانون ساز اسمبلی کی 12 نشتوں کوختم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں پیپلزپارٹی کا گورننس کے حوالے سے کردار تسلی بخش نہیں، جس کے اثرات عام انتخابات میں بھی سامنے آ سکتے ہیں؛چنانچہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور اپنے اقتدار کو مزید 90 دن تک بڑھانے کے لئے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کو توڑنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق اگر وزیر اعظم قانون ساز اسمبلی توڑ دے تو وہ مزید 90 دن تک قائم مقام وزیر اعظم کے طور پر کام جاری رکھ سکتا ہے۔ آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے اس ماحول میں پیپلزپارٹی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔

مہنگائی کا طوفان، حکومت کیلئے امتحان

پاکستان اس وقت دلچسپ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر بیرونی اور سفارتی محاذ کی بات کی جائے تو دنیا پاکستان کی امن کوششوں کی معترف ہے لیکن اندرونی محاذ کی بات کی جائے تو عوام مسائل کی آگ میں سلگ رہے ہیں۔

منشیات نیٹ ورک، تہلکہ خیز انکشاف

کراچی میں انمول عرف پنکی سمیت دیگر ہائی پروفائل منشیات فروش گروہوں کی گرفتاری کے معاملے پر دنیا نیوز نے تحقیقات کیں تو ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ چھ ماہ قبل سندھ حکومت نے وفاقی سول حساس ادارے سے اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست کی تھی جس پر انسداد منشیات مہم کے لیے سندھ حکومت سے فری ہینڈ مانگا گیا تھا۔

وزارتیں، ناراض اراکین اور بڑھتا سیاسی دباؤ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ سے چند ہفتے قبل کابینہ میں توسیع کرکے حکومت سے نالاں پارٹی رہنماؤں کو اعتراضات کاسنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود پیش رفت

رواںہفتہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کااجلاس اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ اورسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب جبکہ گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کوئٹہ اور مختلف منصوبوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا چاہتی ہے۔

کام اور رشتوں میں توازن مضبوط تعلقات کیسے قائم رکھیں؟

آج کی خواتین زندگی کے کئی میدانوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ بیک وقت ملازمت، کاروبار، گھر، بچوں کی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔