بلوچستان: چیلنجز کے باوجود پیش رفت
رواںہفتہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کااجلاس اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ اورسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب جبکہ گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کوئٹہ اور مختلف منصوبوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا چاہتی ہے۔
بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ سونا، تانبا اور دیگر معدنیات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔تاہم بدامنی اور دہشت گردی کے باعث غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار رہے۔ مگر اب وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی حفاظتی دستوں، شاہراہوں پر نگرانی کے جدید نظام اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا فیصلہ اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا درست ہے کہ بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی، روزگار اور عوامی محرومیوں کا بھی ہے۔اس کا ازالہ کرنے کے لیے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے، تعلیم، فنی تربیت، روزگار، کھیلوں اور جدید مہارتوں کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر ہوں تو شدت پسند عناصر کے لیے انہیں گمراہ کرنا آسان نہیں رہے گا۔ وزیراعظم کی جانب سے نوجوانوں کے لیے وظائف، فنی تربیت اور جدید مہارتوں کی تعلیم پر زور دینا ایک مثبت اقدام ہے۔حکومت بلوچستان نے بھی اس دور میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بند سکولوں کی بحالی، میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی، صحت کے منصوبے، شمسی توانائی کے پروگرام اور عوامی سہولیات میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے۔ بلوچستان میں 99 فیصد سکولوں کا فعال ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔ بے شک تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے پسماندگی اور انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن ہے۔
بلوچستان کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بیانات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی کو جھوٹے پروپیگنڈے، افواہوں اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا۔سٹاف کالج کوئٹہ میں اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صرف روایتی جنگ کا نہیں بلکہ فکری اور اطلاعاتی جنگ کا بھی سامنا ہے۔ سوشل ذرائع ابلاغ کے ذریعے جھوٹا بیانیہ پھیلانا، نوجوانوں کو گمراہ کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنا دشمن قوتوں کا ہتھیار ہے۔ ایسے میں سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک صفحے پر ہونا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
بلوچستان میں ترقی کے ساتھ ساتھ بہتر طرز حکمرانی پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی خدمت اور ادارہ جاتی بہتری کے اقدامات خوش آئند ہیں۔ میرٹ پر بھرتیاں، صحت اور تعلیم کے منصوبے اور عوامی ٹرانسپورٹ کے منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے۔ کوئٹہ اور تربت میں عوامی بس سروس کا آغاز شہری سہولیات میں بہتری کی جانب اہم قدم ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورۂ کوئٹہ بھی سیاسی لحاظ سے اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے نہ صرف وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی کو سراہا بلکہ انہیں آئندہ برسوں میں جاری منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ صوبائی حکومت مستحکم ہے اور قیادت کو وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر اعتماد ہے۔ سیاسی استحکام کسی بھی صوبے کی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہوتا ہے خصوصاً بلوچستان جیسے حساس صوبے میں سیاسی انتشار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔صحت کے شعبے میں حالیہ اقدامات بھی قابل تعریف ہیں۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ ایسے میں ائیرایمبولینس سروس کا آغاز خوش آئند ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے یہاں اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ قوتیں بلوچستان میں ترقی نہیں چاہتیں،دشمن عناصر ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ بلوچستان میں بدامنی برقرار رہے تاکہ یہاں سرمایہ کاری نہ آسکے اور عوام ریاست سے بدظن رہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ دشمن جانتے ہیں کہ اگر بلوچستان ترقی کرگیا تو ان کے مذموم عزائم ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجائیں گے۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ بلوچستان اب بھی دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ نہیں۔ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر افراد کا لاپتہ ہونا اورنوشکی میں معروف براہوی شاعر اور ادیب پروفیسر غمخوار حیات کا قتل، بارکھان، پنجگور اور ڈیرہ بگٹی میں دھماکے اور سکیورٹی فورسز پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن عناصر اب بھی صوبے کے امن کو خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پروفیسر غمخوار حیات کا قتل انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ ادیب، شاعر اور اساتذہ کسی بھی معاشرے کا فکری سرمایہ ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو نشانہ بنانا بلوچستان کی علمی اور ثقافتی اقدار پر حملہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے تاکہ ادبی اور تعلیمی حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔اسی طرح سکیورٹی فورسز پر حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بارودی سرنگوں، دھماکوں اور دستی بم حملوں کے واقعات سے نمٹنے کیلئے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلوچستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی، انتشار اور بیرونی مداخلت کی سازشیں ہیں جبکہ دوسری جانب ترقی، استحکام اور خوشحالی کے امکانات روشن ہورہے ہیں۔ وفاقی حکومت، عسکری قیادت اور صوبائی حکومت اگر اسی یکسوئی، سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتی رہیں تو بلوچستان نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی کا مرکز بن سکتا ہے بلکہ امن و استحکام کی ایک نئی مثال بھی قائم کرسکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ یہ صوبہ ہمیشہ کے لیے دہشت گردی، محرومی اور بدامنی کے اندھیروں سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کی روشنی کی جانب گامزن ہوسکے۔