شکرادا کرنا!

تحریر : نعیم انصر ہاشمی( جھنگ )


اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔

 اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اللہ کی خوشی اور خوشنودی انسان کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ 

اللہ کی مخلوق کا شکر ادا کرنا بھی انسان کے فرائض میں شامل ہے۔ انسان کا انسان کے کام آنا، انسان کا انسان کی مدد کرنا بھی عین فرض اور عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ اللہ کی مخلوق کے کام آنا فلاح انسانیت کہلاتا ہے۔

 جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا انسان کے فریضہ اوّلین میں شامل ہے، وہاں انسان کا شکریہ ادا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی انسان دوسرے انسان کی مدد کرتا ہے، اس کی کسی مشکل کو آسان کرتا ہے، چاہے وہ مدد روپے پیسے کے ذریعے ہو، یا کسی کام میں مدد کرنا، کسی کو کھلانا، پیاسے کی پیاس بجھانے کے بعد کھلانے پلانے اور مدد کرنے والے کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

بچو! آپ کے اساتذہ کرام آپ کو پڑھاتے ہیں، ہر طالب علم اپنے معلم کا شکریہ ادا کرے۔ بچے والدین کا بھی شکریہ ادا کریں کیونکہ والدین اولاد کی پرورش کرتے ہیں اور ان کو پائوں پر کھڑا کرتے ہیں۔

 انسان کو شکریہ ادا کرنے کے کئی طریقے اور اظہار ہیں۔ ہم کسی کا شکریہ بذریعہ زبان ادا کرتے ہیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہمارے کسی کام آتا ہے تو ہم پر بھی فرض ہے کہ مدد کرنے والے کی ضروریات کے وقت مدد کریں، جس نے ہمارے کام کو آسان کیا، ہم بھی اس کے کام میں اس کی مشکل اور ضرورت کے وقت کام آئیں۔ ہم اگر بیمار ہوتے ہیں تو تیمار دار نے ہماری خدمت کی، بیماری میں دیکھ بھال کی، وقت آنے پر ہم بھی اس کی تیمار داری کریں۔ کسی زخمی کو مرہم پٹی کروانے میں مدد کریں۔ اگر کوئی حادثہ پیش آئے تو ہم ہسپتال پہنچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ کسی بزرگ ضعیف کو اپنی سواری پر بٹھا کر اس کی مطلوبہ جگہ پہنچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ کسی سے ہمدردی کرنا، کسی کی شکستہ دلی میں حوصلہ بڑھانا، یتیم سے احسن سلوک سے پیش آنا، لاوارث بچوں کی کفالت کرنے سے آپ کے شکر گزار اور احسان مند رہتے ہیں۔ اللہ کی مخلوق سے نرمی سے اور شفقت سے پیش آنا راہ چلتے ایک دوسرے کو سلام کرنا، کسی کیلئے محفل میں جگہ بنانا، لہجوں اور رویوں سے ایک دوسرے کے دل میں جگہ بنانا یہ سب اللہ کی مخلوق کے شکریہ ادا کرنے کا  طریقہ ہے۔

 ہمیں چاہئے کہ ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے کے کام آئیں۔ ذرا سی بات پر دست و گریباں ہونا، غصہ میں آنا، بلاوجہ کسی سے نفرت کرنا، حسد کرنا ان سب عوامل کو ترک کریں۔ یہی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کا شکریہ ادا کرنے کے انتہائی معمولی اور آسان ذرائع ہیں۔ ان عوامل سے نا صرف انسان ایک دوسرے کا شکر گزار رہے گا بلکہ اللہ تعالیٰ بھی اپنی مخلوق سے راضی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا انسان کیلئے اگلے جہاں بخشش کا ذریعہ بنے گی۔ یہی قرب الٰہی کا بہتر سے بہترین ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ اور اللہ کی مخلوق کا شکر اور شکریہ ادا کرتے رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

افلاطون:جس کے مکالمات نے سقراط کو زندہ کر دیا

اگرچہ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ افلاطون دنیا کا سب سے بڑا فلسفی تھا، لیکن اس نے جو مکالمات لکھے ہیں، ان میں وہ دوسروں کے اقوال نقل کرتا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

پولیس کاروں پر فلیش لائٹ کیوں ہوتی ہے؟

محنت ہی سے راحت ملتی ہے

محنت ہی سے راحت ملتی ہے،محنت ہی سے عظمت ملتی ہے

سنہری باتیں

٭:اپنے تھوڑے کو دوسرے کے زیادہ سے بہتر جانو، سکون میں رہو گے۔

ذرا مسکرائیے

ماں نے دیکھا کہ بیٹا بلب زور زور سے اپنے سر پر رگڑ رہا ہے۔