سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

تحریر : عدیل وڑائچ


پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

 تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان سفارتی کامیابیوں کے ثمرات عام پاکستانی شہری تک منتقل ہو رہے ہیں؟

 زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کا متوسط اور غریب طبقہ اس وقت شدید ترین معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملوں نے عالمی تیل مارکیٹ کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ اوپیک ممالک کی مجموعی تیل پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگرچہ خطے میں جنگ بندی برقرار رہتی ہے، تب بھی ریفائنریوں اور تیل کے انفراسٹرکچر کی بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ قطر کی ریفائنریوں کی مکمل بحالی کیلئے ایک سال جبکہ سعودی عرب اور کویت کے لیے چار سے چھ ماہ درکار ہو سکتے ہیں۔ عالمی توانائی ڈیٹا اور مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی ’’کیپلر‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے باوجود خلیجی ممالک کی توانائی صنعت معمول پر آنے میں طویل وقت لے سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق برآمدی رکاوٹیں، ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، انشورنس مسائل اور ریفائنریوں کو پہنچنے والا نقصان بحالی کے عمل کو مزید سست کرے گا۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے بھجوائی گئی نئی تجاویز مسترد کر چکے ہیں اور دوبارہ عسکری کارروائی کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر جنگ بندی جاری رہنے کی توقع ہے لیکن آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے اختیار کی گئی حکمت عملی دونوں ممالک کے لیے اعصاب کی جنگ بن چکی ہے۔ ایران شدید معاشی دباؤ میں ہے جبکہ امریکہ خطے میں اپنی برتری قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک معاہدہ تو چاہتے ہیں مگر اپنی اپنی شرائط پر، اور یہی ضد عالمی معیشت کو مسلسل غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔

اس عالمی بحران کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک پر زیادہ شدت سے پڑ رہے ہیں۔ مگر پاکستان میں مسئلہ صرف عالمی مارکیٹ نہیں بلکہ حکومتی معاشی پالیسیوں کا بھی ہے جنہوں نے عوام کے لیے صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر بڑھتے ہوئے ٹیکس اور لیوی نے مہنگائی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔حالیہ دنوں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا اس کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ ٹیکسز اور لیوی میں اضافہ ہے۔ پٹرول پر عائد لیوی میں 13 روپے 91 پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعد یہ 103 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ڈیزل پر عائد لیوی 28 روپے 6 پیسے سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔اس وقت پٹرول کی فی لیٹر قیمت پر تقریباً 143 روپے 67 پیسے مختلف ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کی صورت میں وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ پٹرول کی اصل ایکس ریفائنری قیمت تقریباً 271 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ یعنی عوام عالمی بحران سے زیادہ حکومتی مالیاتی پالیسیوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ 

حکومت کی دلیل یہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت محصولات کے اہداف پورے کرنا ضروری ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے محصولات بڑھانے کے لیے آسان ترین راستہ اختیار کیا ہے۔ براہ راست ٹیکس اصلاحات، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے حکومت نے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے فوری ریونیو اکٹھا کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔یہ پالیسی وقتی طور پر حکومتی خزانے کو سہارا تو دے سکتی ہے مگر اس کے ملکی معیشت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات نہیں بڑھاتا بلکہ ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خوراک، سبزیاں، ادویات، بجلی، صنعتی پیداوار اور تعمیراتی لاگت سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا طوفان شدت اختیار کر چکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026ء میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.89 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ مالی سال 2025-26 ء میں جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی 6.19 فیصد رہی۔ عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، مزدور اور چھوٹے کاروباری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت پاکستان نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا تھا تاہم حکومت مئی ہی میں اس ہدف سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ اضافی وصولیاں ایف بی آر کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ رواں مالی سال میں اپریل تک ایف بی آر کو تقریباً 684 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر ٹیکس اکٹھا کرنے والے ادارے اپنے اہداف پورے کرنے میں ناکام ہیں تو اس کا بوجھ صرف عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ حکومت نے آسان ترین راستہ اختیار کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی بڑھا دی مگر اس کے نتیجے میں عوام کو مشکل ترین معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب سفارتی کامیابیوں کو معاشی استحکام اور عوامی ریلیف میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر حکومت واقعی اپنی سفارتی کامیابیوں کو عوامی سطح پر مؤثر بنانا چاہتی ہے تو اسے معاشی پالیسیوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ صرف آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنا کافی نہیں بلکہ عوام کی قوتِ خرید، مہنگائی پر قابو اور معاشی انصاف بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسے اس آئی ایم ایف پروگرام کے بعد اپنی معیشت کو اس چنگل سے چھٹکارا دلوانے کی بھی اشد ضرورت ہے ورنہ آئندہ برسوں میں آئی ایم ایف پروگرام میں رہنا پاکستانی عوام کے لیے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا، جہاں حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی مارجن نہیں ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

منشیات مافیا اور طاقت کے سائے

یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔

خیبر پختوا کے جنوبی اضلاع غیر محفوظ کیوں؟

خیبرپختونخوامیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پردہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود استحکام کی نئی امید

بلوچستان میں ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو گمراہ کرنے کی منظم سازشیں ہیں تو دوسری جانب ریاست، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن، ترقی اور قومی وحدت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

آزاد کشمیر: انتخابات سے قبل سیاسی کشمکش تیز

آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت اسی سال دو اگست کو مکمل ہو جائے گی۔

خوداعتماد خواتین کامیاب اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

خوداعتمادی انسان کی شخصیت کا وہ جوہر ہے جو اسے زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔