پرندوں کا دوست ببلو

تحریر : محمد صابرعطا( لیہ )


ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

 ببلو کو فطرت سے بہت محبت تھی،وہ پودوں کی حفاظت کرتا، اپنے گھر کے ساتھ ساتھ گلی کے پودوں کو بھی پانی لگاتا،اُن کی نگہبانی کرتا مگر سب سے زیادہ اُسے پرندوں سے محبت تھی۔

 صبح سویرے جب سکول جانے لگتا تو وہ سب سے پہلے اپنے ناشتے کے وقت روٹی کے ٹکڑے کرتا اور ناشتے کے بعد ان ٹکڑوں کو بَبلو اپنے گھر کی چھت پر جا کر پرندوں کیلئے ڈال دیتا۔کبھی کبھار وہ باجرے اور گندم کے دانے بھی چَھت پر بکھیر دیتا۔پرندوں کیلئے اس نے چھت پر برتن رکھے ہوئے تھے اور وہ صبح شام پانی بھی تبدیل کرتا۔جیسے ہی وہ چھت پر دانہ پانی رکھنے کیلئے جاتا تو پرندے فوراً اس کی چھت پر آجاتے اور خوب چہچہاتے۔ببلو اُن کی آوازیں سُن کر بہت خوش ہوتا۔ 

گاؤں والے اکثر کہتے کہ ببلو! تمہیں پرندوں سے اِتنی محبت کیوں ہے؟

ببلو مسکرا کر جواب دیتا: میری دادی اماں مرحوم کہا کرتی تھیں کہ یہ اللہ کی خوبصورت مخلوق ہیں۔ یہ کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے، بس محبت بانٹتے ہیں۔ وہ بھی اِن کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں ۔

ایک دن ببلو سکول سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک اس نے ایک درخت کے نیچے پَھڑ پَھڑانے کی آواز سنی۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک ننھی سی چڑیا زخمی حالت میں پڑی تھی۔ شاید کسی نے غْلیل سے اُس کا نشانہ لیا تھا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو کر درخت  سے گر گئی تھی۔ اس کے ایک پر میں چوٹ لگی ہوئی تھی۔

ببلو نے بہت نرمی سے اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور بولا: ڈرو مت،میں تمہاری مدد کروں گا۔ 

وہ چڑیا کو گھر لے آیا۔ اس کی آپی نے ایک  پنجرے میں نرم کپڑا بچھایا اور چڑیا کیلئے آرام دہ جگہ بنا دی۔ ببلو ہر روز سکول جانے سے پہلے اسے دانہ دیتا، پانی پلاتا اور اس کے زخمی پر پہ دوا لگاتا۔

چند دنوں میں چڑیا ببلو سے مانوس ہو گئی۔ جب بھی ببلو اس کے قریب آتا، وہ خوشی سے چہچہانے لگتی۔ 

ایک شام ببلو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ چند بچے غلیل سے پرندوں کو مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

ببلو فوراً ان کے پاس گیا اور انہیں روکتے ہوئے کہا کہ ایسا مت کریں، پرندے بھی درد محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی ہمیں پتھر مارے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے نا؟

بچوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے غلیل پھینک دی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی کسی پرندے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

کچھ ہفتوں بعد چڑیا مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی۔ ببلو اسے اسی درخت کے نیچے لے گیا جہاں سے اسے زخمی اٹھایا تھا۔اس نے اپنے ہاتھ کھولے تو چڑیا نے آسمان کی طرف اُڑان بھری۔ 

ببلو اسے اُڑتا دیکھ کر خوش بھی تھا اور تھوڑا اداس بھی ہوا ، مگر حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اگلے ہی دن وہی چڑیا دوبارہ اپنے کئی ساتھی پرندوں کے ساتھ ببلو کے گھر آ گئی۔ 

اب ہر صبح ببلو کے گھر کے آس پاس درجنوں پرندے جمع ہوتے۔ ان کی چہچہاہٹ سے پورا ماحول خوشگوار ہو جاتا۔

یہ دیکھ کر گاؤں کے لوگوں نے بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر پانی کے برتن اور دانہ رکھنا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ گاؤں پرندوں کیلئے ایک محفوظ جگہ بن گیا۔

 بچے درخت لگانے لگے تاکہ پرندوں کو گھونسلے بنانے کی جگہ مل سکے۔

ایک دن سکول میں پرنسپل پرویز اقبال  صاحب نے اعلان کیا کہ اس سال ’’ پرندوں سے محبت‘‘ کا انعام ببلو کو دیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے نہ صرف پرندوں کی حفاظت کی بلکہ پورے گاؤں کو ان سے محبت کرنا بھی سکھایا۔پوراسکول تالیوں سے گونج اٹھا۔ 

ببلو خوش تھامگر اسے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ اب گاؤں میں کوئی بھی پرندوں کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا بلکہ اس کا گاؤں پرندوں کی بہترین حفاظت گاہ تھا ۔

ایک دن ببلو عصر کے وقت چھت پر بیٹھا آسمان میں اُڑتے پرندوں کو دیکھ رہا تھا۔ ٹھنڈی ہواچل رہی تھی۔بادل آئے ہوئے تھے اور بارش برسنے کا ماحول بنا ہوا تھا کہ اچانک وہی چڑیا واپس آ کر اس کے قریب بیٹھی اور میٹھی آواز میں چہچہانے لگی۔جیسے وہ ببلو کا شکریہ ادا کررہی ہو۔

پیارے بچو !جانوروں اور پرندوں سے محبت کرنا اچھی بات ہے۔ہمیں کبھی کسی بے زبان مخلوق کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔

پہیلیاں

دیکھی اک نازک سی بیٹی،باندھ کے اک دھاگے کی پیٹی