خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

تحریر : نذیر مشتاق


شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

 اکبر تیرہ برس کی عمر میں باپ کے جانشین ہوئے۔ بیرم خان نائب السلطنت قرار پائے۔ اُس وقت ملک کی حالت بہت خراب تھی۔ کہیں افغان تخت پر دوبارہ قبضہ کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے تھے۔ کہیں ہیموں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور بعض دوسرے لوگ بھی سرکشی کر رہے تھے۔ آخر چودہ سال کی مسلسل کوشش کے بعد اکبر مالوہ، چتوڑ، رنتھنبور، کالنجر، گجرات اور بنگال کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے اور 1576ء تک سارا شمالی ہند اُس کے زیر نگین ہو گیا۔ 1586ء اور 1595ء کشمیر، سندھ، بلوچستان، قندھار اور اُڑلسیہ بھی مغل قلمرو میں شامل ہو گئے۔ شمال سے فارغ ہو کر وہ جنوب کی طرف متوجہ ہوا اور دکن میں خاندیش، برار اور احمد نگر پر قابض ہو گئے۔ اُس کی سلطنت ہندوکش سے گوداوری اور بنگال سے گجرات تک پھیلی ہوئی تھی۔

اکبر نے اپنی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا انتظام نہایت باقاعدہ کیا۔ ہندوؤں، خاص کر راجپوتوں، سے اُس کا سلوک نہایت روادارانہ تھا۔ سلطنت کے بڑے بڑے عہدے ہندوؤں کو دیے گئے اور تمام فرقوں اور مذہبوں سے ’’صلح کُل‘‘ کے اصول پر برتاؤ کیا۔ ابتدا میں تو راسخ العقیدہ مسلمان تھا، لیکن بعد میں کچھ اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اور کچھ سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر حقیقی دین اسلام سے دور اور علمائے اسلام سے بیزار ہو گئے اور ’’دین الٰہی‘‘ کے نام سے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی، لیکن چند امیروں وزیروں کے سوا اس دین کو کسی نے قبول نہ کیا۔

اگرچہ اکبر ان پڑھ تھے، لیکن اس کو علوم و فنون کی امداد اور سرپرستی کا خاص شوق تھا۔ بڑے بڑے شعرا، مصور، موسیقار، معمار اور دوسرے با کمال اس کی بخشش اور قدر دانی سے مالا مال ہوتے رہتے تھے اور اس کا دربار دُور و نزدیک کے ماہرین فن کا مرکز بن گیا تھا۔ شہزادوں اور امیرزادوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ کرتا تھا۔ بلاشبہ اکبر نہ صرف عظیم فتوحات بلکہ نظم و نق کے معیار اور علم و فن کی سرپرستی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے تھا۔

جلال الدین محمد اکبر بادشاہ 1014ھ ( 1605ء )میں تریسٹھ سال کی عمر پا کر فوت ہوئے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے پہلے تو شرمائے گائے شہروں کا جب پی لے پانی پھر خود پر اترائے گائے