پہیلیاں
بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)
بے شک پائوں کے نیچے آئیں
پھر بھی پھول نہ مسلے جائیں
(قالین یا دری کے پھول)
تول میں پوری لے کر آئے
گھر تک لاتے ہی گھٹ جائے
(برف)
اک منا پانی میں نہائے
ساتھ ہی پانی پیتا جائے
جتنا پانی پیٹ میں ڈالے
کلی کر کے اُسے اُچھالے
(فوارہ)
دھرتی ہی سے رشتہ جوڑے
دھرتی ہی سے سر بھی پھوڑے
گھر گھر میں ہے اس کا کام
بولو کیا ہے اس کا نام
(جھاڑو)
٭٭٭٭
وہ رہتی ہے گھر میں اکیلی کھڑی
چلے آپ تو ساتھ ہی چل پڑی
(چھڑی)
ہے شرط اس میں خاموش ہونا
چاندی تو کیا پھر ملتا ہے سونا
(سونا یعنی نیند)