خیبر پختوا کے جنوبی اضلاع غیر محفوظ کیوں؟
خیبرپختونخوامیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پردہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان جو دہشت گردوں کی نرسری بن چکا ہے وہاں سے گولہ بارودلیے دہشت گردقبائلی اضلاع میں داخل ہوتے ہیں اور عوام لوگوں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ ضلع چارسدہ میں جے یو آئی کے ضلعی چیئرمین اور مولانا فضل الرحمان کے دیرینہ ساتھی مولانا ادریس کی شہادت ہو یابنوں اور لکی مروت میں خودکش دھماکے، ان تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان میں موجوددہشت گردوں سے ملتے ہیں جہاں انہیں افرادی اورمالی سمیت ہرقسم کی سپورٹ مل رہی ہے۔ اس وقت خیبرپختونخوامیں امن وامان کی صورتحال 2008ء اور2009ء سے زیادہ خراب ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس وقت عام لوگوں اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔ کہنے کوتو قبائلی اضلاع کا ایک ایک انچ سرکاری عملداری میں ہے لیکن حکومتی رٹ کہیں نہیں۔ دہشت گردوں کو افغانستان سے قبائلی اور وہاں سے بندوبستی علاقوں تک پہنچنے کا رستہ کیسے مل جاتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے اس میں یقینا ہماری کوتاہیاں بھی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں اور وہ لوگ بھی جودانستہ اور نادانستہ ان دہشت گردوں کے سہولت کار بن رہے ہیں۔چارسدہ میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی گئی تقریر کافی سخت تھی، دیکھا جائے تو اے این پی کے بعد جے یو آئی کے رہنماسب سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ باجوڑ سے مہمند اور پشاورتک اس سیاسی مذہبی جماعت کے رہنماؤں کو نشانہ بنایاگیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ بنوں میں درجن سے زیادہ پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ جس طرح سے انہیں نشانہ بنایاگیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شدت پسند پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں۔ اگرچہ مختلف قبائلی علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن میں دہشت گردوں کو بڑی تعداد میں مارا گیا لیکن انہیں افغانستان سے برابر کمک مل رہی ہے۔قبائلی علاقوں کو انضمام کے بعد بھی جس طرح زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا اس کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں۔بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردی کی وجوہات دیگر اضلاع سے مختلف ہیں، فیصلہ سازوں کو اس طرف توجہ دینی ہی ہوگی۔
پے درپے شہادتوں کے باعث پولیس کے جوانوں میں بے چینی پھیل رہی ہے جو کئی سالوں سے اس محاذ پر صف ِاول پر لڑ رہے ہیں۔ بنوں حملے کے بعد پولیس آفیسر جس طرح موقع پر پہنچے وہ قابل ستائش ہے۔ پولیس فورس میں ایسے جری جوانوں کی ضرورت ہے جو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرسکیں۔ان علاقوں میں پولیس کیلئے بم پروف تھانوں کی ضرورت ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ جن عمارتوں میں یہ تھانے قائم ہیں وہ ایسے دھماکے سہنے کے قابل ہی نہیں۔ اس سے قبل بھی دہشت گردی کے متعدد دواقعات میں دھماکے سے کم اور عمارت منہدم ہونے سے زیادہ اموات ہوئیں۔ حکومت کو امن وامان کیلئے دی جانے والے رقوم کا آڈٹ کروانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ امن وامان کیلئے مختص کی گئی رقم اسی مقصد کیلئے خرچ کی جائے۔ پولیس فورس اپنے سے دوگنا بڑے اور چھپے ہوئے دشمن سے لڑرہی ہے، پولیس جوانوں کو جدید اسلحے اور آلات سے لیس کیاجاناضروری ہے۔ صوبائی حکومت کو اس حوالے سے اپنے طرز عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک طرف صوبائی حکومت کامؤقف ہے کہ ان اضلاع میں امن وامان کی ذمہ داری اسے سونپی جائے دوسری جانب پولیس اہلکاروں کے پاس مناسب اسلحہ اورمحفوظ تھانے نہیں۔ سی ٹی ڈی جس کا کام ہی اس قسم کے مشن انجام دینا اور دہشت گردوں پر نظررکھنا ہے، اس کی استعدادِ کار اور نفری انتہائی کم ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرقیادت گزشتہ سے پیوستہ ہفتے ڈرون حملوں اورامن وامان کے حوالے سے ایک گرینڈ جرگہ بھی ہوا تھا۔اس طرح کے جرگے اس سے قبل بھی ہوئے۔ ہر جرگے میں بلند بانگ دعوے کئے گئے لیکن ان میں سے کسی بھی دعوے کو عملی جامہ نہ پہنایاجاسکا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو وفاق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا،جرگوں اور میڈیا پر بیان بازی اور ڈیڈ لائن جاری کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔وفاق اور صوبے کو مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔گزشتہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلے کئے گئے تھے ان پر بھی عملدرآمدکرنا ہوگا۔تب ہی جاکر اس صوبے میں امن قائم ہونے کی امید بنتی ہے۔ ایپکس کمیٹی میں فیصلہ کیاگیا کہ ایک سب کمیٹی بنائی جائے گی جس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے اور وہ صوبے میں جاری آپریشنز کا جائزہ لے گی۔ یہ کمیٹی آج تک نہیں بن سکی۔ وہ کوآرڈینیشن جو وفاقی اورصوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں میں قائم ہونا تھا وہ آج تک قائم نہیں ہوسکی۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ہماری حکومتیں امن وامان کے قیام کے معاملے میں کتنی سنجیدہ ہیں۔ سنجیدگی کا یہ عالم بھی دیکھیں کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو اورپولیس کے سربراہ ایک دن بعد بنوں پہنچے۔ ایک اور مسئلہ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا پولیس فورس کے بارے میں ہتک آمیز رویہ ہے۔ موجودہ حالات میں پولیس فورس کو سراہنا تو دور کی بات اُن کی بعض معاملات میں حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو افسوسناک امر ہے۔ اس سے پولیس فورس کا مورال گرے گا۔
دوسری جانب گزشتہ ہفتے ایک نئی پیشرف سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے سابق سپیکر اسد قیصر کی قیادت میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں خیبرپختونخوا میں سی این جی کی بندش سمیت این ایف سی ایوارڈاور پنجاب سے گندم کی بندش کے حوالے سے گفتگو کی گئی، لیکن اسے سیاسی طورپر اہم پیش رفت قرار دیاجارہا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی اٹھایاجارہا ہے کہ یہ ملاقات وزیراعلیٰ کی جانب سے کیوں نہیں کی گئی۔ بظاہر تو دو بڑے گھروں کے ان مکینوں کے مابین تعلقات مثبت لگتے ہیں اور کئی مواقع پر اکٹھے بھی نظرآئے ہیں لیکن اس موقع پر وزیراعلیٰ کے بجائے پارٹی کے وفد کی ملاقات قدرے حیران کن ہے۔ ماضی قریب میں بھی دیکھاگیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیپلزپارٹی کیلئے نرم گوشہ ظاہر کیاگیا۔ شنید ہے کہ جس وقت خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی باتیں ہورہی تھیں پیپلزپارٹی راضی نہیں ہوئی، مستقبل میں بھی دونوں جماعتیں مل کر کوئی صف بندی کرسکتی ہیں۔ فی الوقت یہ بعید از قیاس لگتا ہے لیکن وطن عزیز میں اکثر انہونی بھی ہونی ہوجاتی ہے، دیکھتے ہیں کہ یہ قربتیں کوئی رنگ لائیں گی یا نہیں یا پھر سوشل میڈیا کے دباو ٔپرایک بارپھر پی ٹی آئی بیک فٹ پر چلی جائے گی۔