پاکستانی ادب کا اختصاص
اردو ادب میں پاکستانیت کے اظہار کی بات کی جائے تو نظم میں ان اثرات کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے۔
میرا جی ، ن م راشد اور ضیاجالندھری نے نظموں میں طرح طرح کے تجربے کیے اور ان میں سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ تہذیبی، مذہبی اور سیاسی مسائل و موضوعات کو علامتوں اور استعاروں کی مدد سے نظم کا موضوع بنایا۔ اختر الایمان اور فیض احمد فیض نے ترقی پسندانہ خیالات کو اپنی نظموں میں پیش کیا۔ ان کے علاوہ مجید امجد بھی نظم کا ایک انتہائی معتبر نام ہے۔ سید محمد جعفری، نذیر احمد شیخ، مجید لاہوری، ضمیر جعفری، انور مسعود، سرفراز شاہد اور انعام الحق جاوید کی مزاحیہ نظمیں بھی پاکستانی معاشرت کی آئینہ دار ہیں۔ نعت گوئی بھی پاکستان میں تخلیق پانے والے شعری ادب کی نمایاں انفردیت قرار دی جاسکتی ہے۔ حمد نگاری اور مرثیہ گوئی بھی پاکستانی ادب کا اختصاص ہے۔ پھر ماہیا اور ہائیکو لکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ماہیا ہماری دیہاتی اور ثقافتی زندگی کی ترجمانی بہت عمدگی سے کرتا ہے۔ نثری ادب میں افسانہ اپنے موضوعات کی وسعت فکر و نظر کی گہرائی اور زبان و بیان کے تنوع کے لحاظ سے پاکستانی ادب کی سب سے زیادہ توانا اور مؤثر صنفِ سخن ہے۔ سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، منشایاد، ممتاز مفتی، خالدہ حسین، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، اسد محمد خان ، حفیظ خان ، سمیع اہوجہ، حمید شاہد افسانے کے حوالے سے اہم نام ہیں جن کے افسانوں میں دھرتی کی خوشبو رچی بسی ہے۔
ناول کے حوالے سے بات کریں تو شوکت صدیقی کا جانگلوس ایک ایسا ناول ہے جو نہ صرف پاکستانیت کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے بلکہ اس کے جغرافیے ، شہروں، دیہاتوں ، گلی محلوں، سڑکوں اور نہروں کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں میں سفر کرتا مختلف ثقافتوں، رسموں، رواجوں سے روشناس کرواتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوک گیت، ماہیوں، دوہڑوں اور سمیوں کے علاوہ مناظر کی بھی جھلک دکھاتا ہے۔ پاکستانی دیہات کا پس منظر سید شبیر حسین کے ناول جھوک سیال میں منعکس ہوتا ہے۔ غلام الثقلین نقوی کا’ میرا گاؤں‘،بانو قدسیہ کا راجہ گدھ، مستنصر حسین تارڑ کا راکھ، اکرام اللہ کا گردِ شب جبکہ اختر رضا سلیمی کا’ جندل‘ ہزارہ ایبٹ آباد اور کوہستانی تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ طاہرہ اقبال نے بھی اپنے ناول میں پوٹھوہاری تہذیب اور کلچر کو دکھایا ہے۔ جنگوں کے حوالے سے الطاف فاطمہ کا ناول ’مسافر‘ سلمیٰ اعوان کا’ تنہا‘ طارق محمود کا ’اللہ میگھ دے‘ قراۃ العین حیدر کا آگ کا دریا، عبداللہ حسین کا اداس نسلیں، مختار مسعود کا آوازِ دوست، مسعود مفتی کا رپورتاژ بھی پاکستانی نثر کا شاہکار ہیں ہیں۔ ٹیلی ویژن ڈرامے میں امجد اسلام امجد کا ڈرامہ وارث ،نورالہدیٰ شاہ کا جنگل، یونس جاوید کا اندھیرا اجالا، منو بھائی کا سونا چاندی اور عطالحق قاسی کا شب دیگ بھی اردو ادب میں پاکستانیت کی عمدہ مثالیں ہیں۔
اردو بول چال میں اشفاق احمد کا تلقین شاہ اور منچلے کا سودا ماحول کی عمدگی کے ساتھ عکاسی کرتا ہے۔ نثری ادب میں سفر نامہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے مستنصر حسین تارڑ کے شمالی علاقہ جات کے تمام سفرنا مے۔ سلمیٰ اعوان کے گلگت اور بلتستان کے حوالے سے لکھے گئے سفر نامے، سید شوکت علی کا بلوچستان کا سفر نامہ اجنبی اپنے دیس میں، پاکستانیت کی عمدہ مثالیں ہیں۔ انشائیہ بھی خالصتاً پاکستانی صنفِ نثر ہے جس نے پاکستانی ادب کے رویے اور رجحان سے بڑھ کر تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ڈاکٹروزیر آغا کا خیال پارے، نظیر صدیقی کا شہرت کی خاطر ، مشکور حسین یاد کی کتاب جو ہر اندیشہ۔ ان کے علاوہ جاوید صدیقی ، ممتاز مفتی، جسٹس رستم کیانی ، غلام جیلانی اور اصغر جمیل آذر کے نام کافی نمایاں ہیں۔ قصہ مختصر پاکستان میں رہنے والے اہل قلم اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا تعلق خواہ کسی بھی صنف سے ہو مٹی کی خوشبو ان کی تخلیقات میں پوری طرح رچی بسی ہے۔