گاؤں سے جب آئے گائے

تحریر : شاہین اقبال اثر


گاؤں سے جب آئے گائے

پہلے تو شرمائے گائے

شہروں کا جب پی لے پانی

پھر خود پر اترائے گائے

جاتے ہیں سب اہلِ محلہ

کون اکیلا لائے گائے

بے چارہ ہو جائے انساں

چارہ اتنا کھائے گائے

عید الاضحی میں ہر جانب

گائے گائے گائے گائے

جب واپس ہو جائے گاہک

گیت خوشی کے گائے گائے

باڈی بلڈر بھی ہو عاجز

طاقت جب دکھلائے گائے

بکرا، دنبہ اونٹ سے بڑھ کر

بچوں کو تو بھائے گائے

چھیڑیں جب بھی مکھی مچھر

اپنی دم لہرائے گائے

پکڑو پکڑو پکڑو پکڑو

ہاتھ سے چھوٹی ہائے گائے

انسانوں کی خاطر اثر

جان سے اپنی جائے گائے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ

سنہری باتیں

٭…صبر کا دامن تھام لو اور صرف اللہ تعالیٰ کے طلبگار بن جاؤ۔

ذرا مسکرائیے

گاہک (دکاندار سے) :بھائی صاحب! آپ کے پاس چینی ہے؟۔

پہیلیاں

دیکھی اک نازک سی بیٹی،باندھ کے اک دھاگے کی پیٹی