معرکۂ حق قومی سیاست پر غالب، سیاسی جماعتوں اور عوام میں فاصلے کیوں؟

تحریر : سلمان غنی


پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب‘آپریشن معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یادگاری تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف طبقاتِ فکر، سیاسی و سماجی انجمنوں اور تعلیمی اداروں کی جانب سے اس حوالے سے تقریبات کا سلسلہ جاری ہے جس میں جہاں اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو عسکری محاذ پر شکست فاش دینے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے وہیں معرکۂ حق کے حوالے سے جاری عمل کو مسلسل عمل قرار دیتے ہوئے اپنے پاکستان کی معاشی مضبوطی کیلئے بروئے کار لانے کا عزم بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ تقریبات اور اس حوالے سے جاری سرگرمیوں میں بظاہر سیاسی سرگرمیاں تو دب کر رہ گئی ہیں اور عام لوگ اور خصوصاً نوجوان نسل پاکستان اور پاکستانیت کے حوالے سے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتی دکھائی دے رہی ہے ‘جہاں تک سیاسی محاذ کا سوال ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں اور ان کے کردار میں کمی آئی ہے جس کی بڑی وجہ سیاسی قیادتوں، جماعتوں اور عوام کے درمیان بڑھتے فاصلے ہیں، اس لئے کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں جہاں ملک و قوم کے مفادات کی امین ہوتی ہے وہاں وہ پریشان حال مہنگائی زدہ اور مسائل زدہ عوام کی آواز بنتی نظر آتی ہیں اور لوگ بھی سیاسی قیادتوں اور جماعتوں سے اچھی توقعات قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ جہاں ملک میں مسائل بڑھ رہے ہیں وہیں سیاسی جماعتوں کا کردار کمزور ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں محض اپنے سیاسی مفادات اور خصوصاً اقتدار کے لیے تگ و دو کر تی نظر آتی ہیں، انہیں عوام کے مسائل سے زیادہ سروکار نہیں رہا جس کی وجہ سے عوام کے اندر مایوسی پیدا ہوئی ہے اور وہ مشکل حالات سے پستے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ماضی میں اپوزیشن جماعتیں اہم ایشوز پر عوام کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے سیاسی کردار ادا کرتی تھیں جس کا حکومت پر بھی دبائو ہوتا تھا اور حکومتیں عوامی اور سیاسی دبائو کے پیش نظر عوام پر بوجھ ڈالتے ہوئے سو مرتبہ سوچتی تھیں، لیکن اب سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل کو اہمیت دیتی نظر نہیں آ تیں۔ عوام کوبھی ان سے توقعات نہیں رہیں۔ یہ ملک میں جمہوریت اور سیاست کے حوالے سے اچھا شگون نہیں۔ رواں ہفتہ وزیراعظم شہبازشریف نے جاتی عمرہ میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک تھیں۔ اس ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف نے امریکہ، ایران جنگ کے دوران پاکستان کے کردار اور مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے حکومتی تگ و دو سے پارٹی قائد کو آگاہ کیا اور انہیں اب تک کی حکومتی کارکردگی اور امریکہ ایران جنگ کے پاکستان کی معیشت اور خصوصاً پٹرولیم کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے متعلق بھی بتایا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ قائد مسلم لیگ (ن) نوازشریف نے اس ملاقات میں جہاں بیرونی اور سفارتی محاذ پر حکومتی کردار خصوصاً وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہا وہاں انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز پر زور دیا کہ مشکلات کے باوجود کوشش ہونی چاہئے کہ عام آدمی کو ریلیف مہیا کیا جائے اور ان کی زندگیوں میں اطمینان آنا چاہئے۔

کیونکہ عوام کی زندگیوں میں اطمینان آئے گا، ان کی دال روٹی کا سلسلہ چلے گا تو ملک میں استحکام آئے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو وہ ہمیشہ سے اپنی سیاست کو عام آدمی کے مسائل اور خصوصاً ان کیلئے روزگار کی فراہمی سے مشروط کرتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ( ن) کی سیاست کو نوازشریف کے کردار سے مشروط سمجھا جاتا ہے اور آج کی صورتحال میں بھی جب حکومتوں کو درپیش بڑے چیلنجز کا ذکر ہوتا ہے اور اس میں حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو بلاشبہ وہ چیلنجز کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے سرگرم نظر آتے ہیں لیکن اس میں عوامی مسائل کے ضمن میں جب بھی کوئی مؤثر آواز آتی ہے تو وہ جاتی عمرہ میں مقیم ان کی پارٹی کے لیڈر نوازشریف کی ہوتی ہے جو سیاست کی مضبوطی کو عوام کی تائید و حمایت سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔ ان کا اصرار ہمیشہ عوام کی ریلیف پر ہوتی ہے تو دیکھنا ہوگا کہ( ن) لیگ کی حکومتیں عوام کی ریلیف اور انہیں مہنگائی کے طوفان سے بچانے اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا مداوا کرنے کیلئے کچھ کرتی ہیں اس لئے کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں اور ملک سیاسی استحکام سے ہمکنار ہو جائے۔

پنجاب میں امن و امان اور ناجائز تجاوزات کے خاتمہ کے بعد اگر کسی منصوبہ کے اثرات عوامی سطح پر دیکھنے کو ملتے ہیں اور لوگ اسے سراہتے نظر آتے ہیں تو وہ ستھرا پنجاب پروگرام ہے جس کے تحت پنجاب بھر سے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں صفائی ستھرائی کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے عملہ متحرک نظر آتا ہے۔ اس منصوبہ کے دو سال مکمل ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں جہاں انہوں نے حکام اور اہلکاروں کی تگ و دو کو سراہا وہاں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس پروگرام میں بہتری کی گنجائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی سستی اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کی 40ہزار گاڑیوں اور ایک لاکھ چھہتر ہزار کارکنوں کی کارکردگی کی اے آئی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مذکورہ اجلاس کو اس حوالے سے بروقت قرار دیا جا سکتا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑے پیمانے پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے جس کے تحت شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو آلائشوں سے پاک رکھا جائے۔ ماضی میں بھی عیدالاضحیٰ کے موقع پر حکومت کی تحریک پر ہونے والے اقدامات مؤثر رہے اور پنجاب کے عوام اسے سراہتے نظر آئے۔اس سال بھی عیدالاضحیٰ پر اس پروگرام کیلئے بڑا چیلنج آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانا ہوگا۔ یہ عمل مؤثر مانیٹرنگ کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ اس پروگرام کے تحت بدعنوانیوں، بے ضابطگیوں اور مخصوص افراد کو نوازنے کے عمل کا سدباب بھی کرنا ہوگا۔ اس طرح کے پروگرام حکومتی کارکردگی میں اضافہ کر سکتے ہیں  مگر کچھ افراد کی بے ضابطگی اور کرپشن پورے پروگرام پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

7 مئی 2026ء کا پاکستان

گزشتہ ایک برس کے دوران دنیا کا پاکستان کو دیکھنے کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ مئی 2025ء سے قبل جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق عالمی تاثر کچھ اور تھا۔

کراچی میں معرکۂ حق کی یاد!

مئی کا مہینہ پاکستان کے عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں جہاں آم پک پک کر زمین پر گرتے ہیں وہیں پاکستان نے بھارتی جہازوں کو بھی پکے ہوئے آموں کی طرح مار گرایا۔

KPمیں گورننس بحران

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اندرونی اور بیرونی دباؤکا شکار لگ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ملاقات میں انہوں نے بتایاکہ انہوں نے صوبے میں ایماندار افسر تعینات کئے ہیں اور رشوت کے راستے بند کردیے ہیں اس لیے ان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیاجارہا ہے۔

ورثہ، سیاست اور حکمرانی کی کشمکش

بلوچستان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں ریاستی فیصلے، عدالتی مداخلت، سیاسی بیانیے اور سماجی اضطراب ایک دوسرے سے الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔

معرکۂ حق کی فتح پر ملی جوش و ولولہ

گزشتہ سال معرکۂ حق آپریشن بنیان مرصوص میں فتح و کامرانی پرملک بھر کی طرح لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیری بھی شاداں و فرحاں تھے ۔

والدین اور بیٹی کا رشتہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی بنیاد

والدین اور بیٹی کا رشتہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ بیٹی کی شخصیت سازی، خوداعتمادی اور مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔