کراچی میں معرکۂ حق کی یاد!

تحریر : طلحہ ہاشمی


مئی کا مہینہ پاکستان کے عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں جہاں آم پک پک کر زمین پر گرتے ہیں وہیں پاکستان نے بھارتی جہازوں کو بھی پکے ہوئے آموں کی طرح مار گرایا۔

 بھارت کے خلاف معرکۂ حق پاکستان کی ذہنی برتری کے ساتھ ساتھ کامیاب فوجی حکمت عملی کا بھی ثبوت ہے۔ اسی مناسبت سے پیپلز پارٹی نے یہاں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق پاکستانی عوام اور فوج کے عزم و حوصلے کی  داستان ہے۔ پاکستان نے دنیا پر ثابت کردیا کہ وہ نہ صرف ایک مضبوط ملک ہے بلکہ سیاسی اور معاشی مسائل اور نامساعد حالات کے باوجود جب دفاع وطن کی بات آئے تو پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے اور اپنی فوج کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے۔ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی کارروائیوں میں اپنی برتری دنیا پر ثابت کی۔ وہی پاکستان جسے دنیا ایک برس پہلے شک کی نظرسے دیکھتی تھی وہی دنیا آج پاکستان کا احترام کرتی اور اس کے عالمی کردار پر رشک کرتی ہے۔ دشمن نے حملہ کرتے ہوئے سوچا تھا کہ وہ پاکستان کو شکست دے سکتا ہے لیکن پاک فوج کے ردعمل سے بھارت کا غرور خاک میں مل گیا۔ یہ بات سب کو اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کبھی سرینڈر نہیں کرے گا، دشمن کو شکست دے کر پاکستان نے ثابت کردیا کہ یہ صرف ہتھیاروں کی فتح نہیں بلکہ ایک مضبوط قوم کے عزم و حوصلے کی داستان ہے۔ ایسے لوگوں کی داستان جن کا سر کٹ تو سکتا ہے لیکن خدائے بزرگ و برتر کے سوا کسی کے آگے جھک نہیں سکتا۔یہ اس قوم کی داستان ہے جس نے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو گھٹنوں کے بل گرا دیا اور وہ دشمن آج تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل میمن نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستانی شاہینوں کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بھارت کو چند ہی گھنٹے میں اپنی حیثیت کا اندازہ ہوگیا، ہمیں اپنی فضائیہ پر فخر ہے۔ شرجیل میمن نے بھی پاک فوج اور قوم کو خراج تحسین پیش کیا جس نے اپنے اتحاد اور عزم سے بھارت کو عبرتناک شکست دی۔

ادھرسندھ اسمبلی کے اجلاس میں طویل عرصہ بعد اپوزیشن اور حکومت ایک معاملے میں ایک پیج پر آگئی ہے اور یہ نام نہاد  غیرت کے نام پر کاروکاری اور قتل کا معاملہ ہے۔ اس طرح کے واقعات کے خلاف قانون سازی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ایوان کو بتایا کہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خواتین کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں، خواتین  کے خلاف کسی اقدام کی نہ پہلے کبھی اجازت دی گئی اور نہ آئندہ دی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے رکن عادل عسکری نے نکتہ اعتراض پیش کیا جس پر وزیرداخلہ بولے کہ مشترکہ تحریک التوا پیش کی جائے حکومت قانون سازی کے لیے تیار ہے۔ امید ہے جلد ہی ایوان ایسا قانون منظور کرلے گا کہ کسی خاتون کی طرف کوئی انگلی اٹھاتے ہوئے بھی دس بار سوچے گا۔ 

اجلاس کے دوران بجلی کمپنیوں پر بھی بحث و مباحثہ ہوا۔ شرجیل میمن نے ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی پر تنقید کی اور کہا کہ  متحدہ نے وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی میں بجلی کمپنیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ سندھ کے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلوائی جائے۔ لوڈ شیڈنگ کی تو بات ہی نہ کریں تو اچھا ہے۔ کراچی سے لے کر سندھ کے  آخری کونے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تک جاپہنچی ہے۔ پورا صوبہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، درجہ حرارت 50ڈگری کو چھو رہا ہے، صرف کراچی میں درجن بھر افراد موت کی نیند سو گئے، کئی کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ایسے میں گھر، دکان یا دفتر میں پنکھا بھی نہ چلے تو عوام کے پاس مرنے کے سوا کیا رہ جاتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کا کوئی بھی جواز پیش کیا جائے لیکن اسے ظلم کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اگر بجلی کمپنیوں کے پاس بجلی نہیں تو بجلی بنائیں، اگر بجلی چوری ہوجاتی ہے تو بجلی چوری کو روکیں، اگر تار ٹوٹ جاتے ہیں تو تار بدلیں۔ کوئی اور مسئلہ ہے تو اس کا حل نکالیں مگر عوام کو بجلی دیں۔ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ حل  کرنا عوام کی ذمہ داری نہیں ۔ جو کمپنیاں اربوں کھربوں کما رہی ہیں ذمہ داری بھی انہی کو اٹھانی چاہیے۔ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ عوام بجلی چوری کرتے ہیں، بات بالکل ٹھیک ہے، اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن بجلی کمپنیاں ایک کام کریں جو لوگ بجلی چوری کرتے ہیں اور سرکاری و نجی ادارے اور فیکٹریاں وغیرہ جو بجلی چوری کرتی ہیں ان کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھیں۔ اس کے بعد بجلی چوری میں جو بھی ملوث ہو اسے عبرت کا نشان بنادیں۔ ارباب اختیار سمیت سب کو معلوم ہے کہ عوام جو بجلی چوری کرتے ہیں وہ تجارتی اور کمرشل بنیادوں پر چوری کی جانے والی بجلی کا عشرعشیر بھی نہیں۔ ہم یہاں عوام  کی جانب سے بجلی چوری کی حمایت نہیں کررہے۔ عوام کو بھی بجلی چوری نہیں کرنی چاہیے اور اگر کسی کو بجلی چوری کرتا پائیں تو انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں، قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔