7 مئی 2026ء کا پاکستان

تحریر : عدیل وڑائچ


گزشتہ ایک برس کے دوران دنیا کا پاکستان کو دیکھنے کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ مئی 2025ء سے قبل جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق عالمی تاثر کچھ اور تھا۔

 بھارت اپنی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت، وسیع عسکری بجٹ اور بین الاقوامی سفارتی روابط کے بل بوتے پر خطے میں برتری کا دعویدار دکھائی دیتا تھا،اور وہ پاکستان کے خلاف سفارتی تنہائی کا بیانیہ مسلسل آگے بڑھا رہا تھا جبکہ بھارتی قیادت اور اس سے وابستہ میڈیا کے بیانات میں اعتماد سے زیادہ غرور کی جھلک تھی۔ نئی دہلی یہ سمجھنے لگی تھی کہ عسکری حجم اور عالمی حمایت اسے خطے میں ناقابلِ چیلنج قوت بنا چکی ہے، مگر 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب کے واقعات نے نہ صرف اس تاثر کو بدل کر رکھ دیا بلکہ جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تاہم افواجِ پاکستان مکمل طور پر تیار تھیں۔ پاک فضائیہ نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے چند ہی لمحوں میں دشمن کے آٹھ جنگی طیارے مار گرائے۔ اس کارروائی نے بھارتی فضائی برتری کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا۔ بھارت فرانس سے رافیل طیارے خریدنے کے بعد ذہن میں کچھ اور بٹھائے ہوئے تھا مگر رافیل طیارے بھارتی غرور سمیت زمین بوس ہو گئے۔ چند ہی گھنٹوں میں پاکستان کی یہ کامیابی عالمی میڈیا کی ہیڈ لائنز اور بحث کا موضوع بن گئی۔ کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ جدید ترین اور مہنگے رافیل طیارے اس طرح بھارت کی ناکامی کی سند بنیں گے۔ 

دوسری جانب پاک فوج نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے پار دشمن کی کئی اہم فوجی تنصیبات، پوسٹوں اور بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ بھارتی قیادت جو طاقت کے زعم میں مبتلا تھی اس مؤثر جواب سے بوکھلا گئی۔ جہاں مودی سرکار اپنے عوام سے اس سبکی کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی وہیں عالمی میڈیا مسلسل بھارت کی اصلیت دنیا کو دکھا رہا تھا۔ طیارے گرنے اور کئی چوکیاں اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تباہ ہونے کے بعد بھارت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب کیا کیا جائے ۔ اگلے 48 گھنٹوں تک اس نے پاکستانی سرزمین پر کئی ڈرون حملے کئے۔ ان حملوں کا مقصد پاکستانی عوام کو خوفزدہ کرنا تھا مگر عوام خوفزدہ ہونے کی بجائے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی۔ اسی اثنا میں ایک اور مس کیلکولیشن کرتے ہوئے نواور 10 مئی کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان کی کچھ بیسز پر میزائل حملے کئے جو ناکام بنا دیئے گئے۔ بھارت چاہتا تھا کہ وہ کسی طرح اپنے گرائے گئے آٹھ طیاروں کا بدلہ لے کر اپنے عوام کو اور دنیا کو بتا سکے کہ اس نے حساب چکتا کر دیا مگر یہ مس کیلکولیشن مس ایڈونچر بن گئی اور اسے لینے کے دینے پڑ گئے۔ افواجِ پاکستان کی بروقت تیاری اور دفاعی حکمت عملی کے باعث دشمن اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا۔ انہی حملوں کے بعد رات تین بجے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مختصر مگر اہم ترین اعلان کرتے ہوئے بڑا واضح پیغام دیا کہ اب ہمارے جواب کا انتظار کرو۔

اس اعلان کے فوری بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا اور صبح پانچ بجے آپریشن بنیان المرصوص کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران پاکستان نے بھارت کے ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے کیے گئے تھے۔پاکستانی میزائل سسٹمز نے متعدد حساس اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ براہموس میزائلوں کی سٹوریج تنصیبات تباہ ہوئیں جبکہ پٹھان کوٹ ،پونچھ، ادھم پور، آدم پور اور جموں سمیت کئی بھارتی فوجی مراکز اور ایئر فیلڈ ز کی تباہی کے مناظر دنیا نے دیکھے۔ پاکستان کے فتح ون میزائل سسٹم نے دشمن پر قہر ڈھا دیا۔ سائبر حملوں کے ذریعے بھارت کے متعدد بجلی گرڈز اور مواصلاتی نظام متاثر ہوئے جبکہ دہلی میں پاکستانی ڈرونز پرواز کرتے دکھائی دینے لگے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ بھارت کی کسی بھی ایئر بیس سے کوئی جنگی طیارہ اڑان نہ بھر سکا۔

پاک فضائیہ نے جہاں رافیل سمیت دیگر بھارتی طیارے گرائے وہیں پاکستان کے جے ایف17 تھنڈر طیارے نے ہائپر سونک میزائلوں کے ذریعے آدم پور میں بھارت کے جدید روسی ساختہ ایس400 دفاعی نظام کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اس نظام کی مالیت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر تھی اور اسے بھارت کی فضائی دفاعی حکمتِ عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی۔بوکھلاہٹ کا شکار نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ بندی کیلئے درخواست کی اور پھر امریکی درخواست پر پاکستان جنگ بندی پر رضا مند ہوا۔ پاکستان نے اس شاندار کامیابی کو معرکۂ حق کا نام دیا۔ اس عظیم کامیابی کا کریڈٹ پاکستان کی موجودہ قیادت کی بر وقت ، درست ، مؤثر فیصلہ سازی اور افواج کی پیشہ وارانہ تیاری کو جاتا ہے۔ پاکستانی ردِعمل کی شدت نے بھارت کو سفارتی سطح پر بھی دباؤ کا شکار کر دیا۔ دنیا جان چکی تھی کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ سال بھر بیسیوں مرتبہ جہاں اس جنگ کو رکوانے کا کریڈٹ لیتے رہے وہیں پاکستان کی جانب سے بھارت کے آٹھ طیارے گرانے کی دنیا بھر کے سامنے تصدیق بھی کرتے رہے۔ اس معرکے کے بعد چیف آف دی آرمی سٹاف سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ اس معرکے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے کیونکہ دنیا کو اندازہ ہو چکا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم پلیئر ہے اور خطے میں قیام امن کیلئے اس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 

آج 7 مئی 2026 ،پاکستان دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کیلئے ایک اہم ترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جس پر تمام بڑی طاقتیں اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔ اسلامی دنیا میں پاکستان کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ چکی ہے۔ ایک سال قبل امریکہ نے پاک بھارت جنگ بندی کروائی ، ایک سال بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کروا کر دنیا کو نہ صرف بڑی تباہی سے بچایا بلکہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں نے پاکستان کے اس اقدام پر سکھ کا سانس لیا اور اس کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ اس جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکہ کے ممکنہ معاہدے پر سب کی نظریں ہیں جس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔