چہرے کی فالتو چکنائی کا مسئلہ پریشان ہونا چھوڑئیے

تحریر : افشاں خان


جس طرح خشکی جلد کیلئے مضر ہے اسی طرح چہرے کی زائد چکنائی بھی جلد کیلئے نقصان دہ ہے۔ اگر آپ کی جلد چکنی ہے اور اس پر موجودہ دانوں کیل مہاسوں کے باعث آپ میک اپ نہیں کرپاتیں اور شاید اسی لئے آپ تقریبات میں کم کم شرکت کرتی ہیں تو یہ اس مسئلے کا حل نہیں ۔

 میک اپ کرنا اور خود کو سنوارنا آپ کا بنیادی حق ہے اور چہرے کی فالتو چکنائی سے جان چھڑانا آپ کے بس میں ہے۔روزانہ صبح آئینے میں جب آپ اپنا دیدار کرتی ہیں تو سب سے پہلے آپ کی توجہ چہرے پر موجود اس چکنائی پر مرکوز ہو جاتی ہے جس سے آپ پریشان رہتی ہیں ۔ صرف یہی نہیں یہ تیل آپ کے چہرے کو اکثر و پیشتر دانوں کیل مہاسوں کی آماجگاہ بھی بنائے رکھتا ہے۔ بیشتر خواتین جو اس مسئلے کا شکار ہیں یعنی جن کی جلد چکنی ہے وہ بازار سے مختلف کیمیکلز سے بھر پور مہنگی لیکن غیر مؤثر دوائیں ، کریم ، لوشن کا استعمال کرتی ہیں مگر نتائج بے سود ہوتے ہیں۔ 

پانی زیادہ پئیں

 روزانہ علی الصبح ایک گلاس پانی نہار منہ پئیں اور اگر اس میں چند قطرے لیموں کے اور ایک چائے کا چمچ شہد بھی شامل کر لیں تو اس سے نہ صرف آپ کی جلد کی رنگت نکھر جائے گی بلکہ آپ اپنے چہرے پر نئے نکلنے والے مہاسوں سے نجات حاصل کر لیں گی۔ طبی نقطہ نگاہ سے یوں بھی ایک نارمل انسان کو آٹھ تا دس گلاس پانی ضرور پینا چاہئیں۔

 کھیرے کا استعمال اور جلد

 چہرے کی فالتو چکنائی ختم کرنے کیلئے کھیرے کا رس بہترین چیز ہے۔ ایک عدد کھیرے کا جوس نکالیں اور اس میں چند قطرے ٹھنڈے پانی کے شامل کر لیں اور اس سے پورے چہرے کی لیپائی کریں۔ اپنی جلد کو اسی حالت میں تقریباًایک گھنٹے تک رکھیں بعد میں ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ اس طرح آپ کا چہرہ فریش ہو جائے گا۔

 عرق گلاب کا استعمال

 موسم گرما میں چہرے کو بازاری کیمیکلز سے صاف کرنے کی بجائے خالص قدرتی عرق گلاب کا استعمال کریں اور تازہ عرق گلاب اپنے فریج میں رکھیں۔ اگر عرق گلاب کے ساتھ بیسن کا آمیزہ تیار کر لیں اور اس میں ایک چمچ دہی بھی شامل کر لیں اور پھر اسے پورے چہرے پر لگائیں اور تھوڑی دیر تک یونہی لگا رہنے دیں بعد میں چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے چہرے کو تازگی ملے گی بلکہ فالتو چکنائی بھی صاف ہو جائے گی۔ یہ ہیں وہ چند سادہ ہدایات، جن پر عمل کر کے خواتین گھر بیٹھے اپنی جلد کی زائد فالتو چکنائی سے نجات حاصل کر لیں گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ اگر آپ کی جلد چکنائی کا شکار ہے تو آپ کو اپنی خوراک میں سبزیاں، دالیں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنی چاہئیں۔ البتہ گوشت بالخصوص سرخ گوشت کے استعمال سے چہرے پر مہاسے اور داغ نمودار ہونے لگتے ہیں لہٰذا ایسی خوراک سے بھی پرہیز کرنا ہو گی۔ اگر آپ ہر وقت ٹینشن، تفکر اور فرسٹریشن کو خود پر طاری رکھتی ہیں تو اس سے جلد از جلد نجات حاصل کر لیں، تازہ خوراک کھائیں اور خوش رہیں تاکہ آپ کی صحت آپ کے چہرے پر بھی بشاشت اور تازگی لائے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔