علامہ نیاز فتح پوری چمنستانِ اُردو کی ہمہ جہت شخصیت

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


وہ شاعر،افسانہ نگار، ناقد،محقق،مفکر،مؤرخ،عالم دین،نفسیات دان ،صحافی،مترجم ،کیا کیا نہ تھے:دنیائے اردو میں نیاز بحیثیت مترجم بھی ایک بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے ترجموں میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ طبع زاد معلوم ہوتے ہیں۔جہاں تک انشا پردازی کا سوال ہے وہ اس فن میں اپنے معاصرین سے بہت آگے نظر آتے ہیں

سوانحی اور ادبی خاکہ

نام: نیاز محمد خاں(والدہ کی طرف سے)۔ 

تاریخی نام: لیاقت علی خاں( والد کی طرف سے)۔ 

قلمی نام :نیاز فتح پوری

پیدائش:1884 بمقام سنئی گھاٹ ضلع بارہ بنکی ہندوستان۔ 

وفات: 24 مئی 1966 کراچی

تعلیم: فتح پورہسوہ میں ابتدائی تعلیم مولوی حبیب الدین سے اور اس کے بعد لکھنو میں مولوی صدیق حسن غازی پوری سے حاصل کی۔ دس برس کی عمر میں مدرسہ اسلامیہ فتح پور میں داخل ہوئے جہاں سے مڈل پاس کیا پھر مدرسہ اسلامیہ فتح پور سے 1899ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

نیاز فتح پوری ان ادبا میں شامل ہیں جنہوں نے اردو زبان کے خط و خال کو سنوارنے میں اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کیا اور اردو زبان کو ایسی لطافت، دل کشی اور شیرینی عطا کی جس سے نثر بھی نظم کا ایک جزو بن گئی۔ علامہ نیازفتح پوری شاعر،افسانہ نگار، ناقد، محقق، مفکر، مورخ، عالم دین، نفسیات دان، صحافی، مترجم، کیا کیا نہ تھے۔مگر تنقید کے میدان میں ان کا الگ رنگ تھا۔ وہ ہمیشہ عام زاویہ سے ہٹ کر بات کرتے  اور اختلاف رائے کا خیر مقدم کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ اس سے دو فائدے ہوتے تھے: ایک تو جس کے کلام پر وہ تنقید کرتے اس کی باقاعدہ اصلاح ہو جاتی اور دوسرے ایک ہی موضوع پر مختلف آراء سامنے آ جاتی تھیں۔اُن کی تنقید کی نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ فلسفیانہ اساس پر مبنی ہے اور اس میں کافی حد تک نیا پن موجود ہے۔ 

نیاز فتح پوری صاحب نے بہترین افسانے تخلیق کئے اور ان میں رومانیت کا رنگ سمو دیا۔ ان کے افسانے واردات قلب کی عکاسی کرتے ہیں۔ان افسانوں میں اصلاحی پہلو کم اور جمالیاتی پہلو زیادہ ہے۔ ان کی رومانی تحریروں نے اردو افسانہ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ نیاز فتح پوری کے افسانوں کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ وہ بہت معمولی سی بات کہنے کا بھی ایک انوکھا انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں کو پڑھ کر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ دیر پا بھی ہے اور فرحت بخش بھی۔ اور یوں بھی وہ چاہے افسانے لکھیں یا انشائیہ، ترجمہ کریں یا تنقید لکھیں ہر جگہ ان کا زورِ بیاں ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کے زورِ بیان سے نکھرتی ہیں اور ان کے جملے بامعنی اور گہرے ہیں۔

 نیاز صاحب کو الفاظ، تشبیہات اور استعارات کی تحقیق کا ستھرا ذوق تھا۔ ان کی تحریروں میں جوشِ صداقت اور وزن ہے۔ وہ اپنی تحریر کو جس طرف چاہتے تھے بلا تکلف موڑ دیتے، مذہبیات،  لسانیات اوردوسرے موضوعات پر ان کی قابل قدر تصانیف چمنستان اردو کی زیب و زینت میں اضافہ کرتی ہیںاور اپنے دیر پا نقوش چھوڑنے میں پوری طرح کامیاب نظر آتی ہیں۔دنیائے اردو میں نیاز بحیثیت مترجم بھی ایک بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے ترجموں میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ طبع زاد معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ جس زبان سے ترجمہ کرتے اس کو اردو کا اپنا رنگ دے دیتے اور اسی ماحول میں کھینچ لاتے جس میں پل کر اُردو جوان ہوئی۔ جہاں تک انشا پردازی کا سوال ہے وہ اس فن میں اپنے معاصرین سے بہت آگے  نظر آتے ہیں۔ ان کے انشائیہ کا اُس دور کے کسی بھی بڑے انشاپرداز سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ جس عنوان پر قلم اٹھاتے اپنی انشا پردازی کے جوہر بکھیرتے چلے جاتے، ان کی شعر نما نثر ایک بڑے عرصہ تک اردو ادب پر چھائی رہی۔

نیاز فتح پوری ادب کی دنیا میں دوربین اور پیشگو ثابت ہوئے۔ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے اور اپنی ذات میں ایک ایسا ادارہ تھے جہاں علم و ادب کے موتی لٹتے تھے۔ ان کا ذہن محبت کو بلند کردار سے ہم آہنگ کرنا چاہتا تھا۔ نیاز ان عناصر کو جو فکر انسانی میں پستی پیدا کرتے ہیں اپنے ارفع اور اعلیٰ ذہن سے دور  رکھنا چاہتے تھے چنانچہ تمام عمر ہر اس طاقت سے برسر پیکار رہے جو انسان کو بلند مرتبوں سے پستی کی طرف لے جاتی ہے۔ ان کا ذہن ہمیشہ  رعنائی، پاکیزگی اور تقدس جیسے تمام مثبت، صالح اور سعید مظاہر کے حصول کا متمنی رہا لیکن ان مظاہر کا تصور ان کے یہاں بڑا ہی انوکھا اور دلفریب ہے۔ وہ صنم کدے کے ان بتوں کو جو آپس میں بَیر رکھنا سکھائیں توڑ دنیا جانتے تھے۔ وہ دریا کے اس دھارے کا رخ بدلنا چاہتے ہیں جو سیلاب کی خبر دیتا ہو اور جس سے بھری بستیاں اُجڑ جاتی ہوں۔

  وہ اپنی قوم کی بہتری کیلئے ہمیشہ کوشاں نظر آئے۔ چاہے ان کی زبان کو خاموش کرنے کی کتنی بھی کوشش کیوں نہ کی گئی ہو وہ ہر بات خالص عقل کی روشنی میں کرنا جانتے تھے۔  کبھی کبھی ان کے ذہنی رجحانات میں تبدیلی بھی آئی کیونکہ تبدیلی زندگی کی دلیل ہے، تغیر اور تبدل سے زندگی کو دوام حاصل ہوتا ہے۔

 نیاز فتح پوری کی تحریروں کا مطالعہ کرتے وقت ہمیشہ مجھے خیال آیا کہ وہ کون سے اجزائے ترکیبی ہیں جن کے باہم جمع ہونے سے ایسی سحر افزا شخصیت کی تعمیر ہوئی۔ وہ کبھی افسانہ نگار اور صحافی، کبھی انشاپرداز اور شاعر، کبھی نقادا ور مکتوبات نگار اور کبھی مولانا کی حیثیت سے جس طرح اپنی وسعتِ علمی اور ہمہ گیری کا ثبوت  فراہم کرتے ہیں اس کی شیرازہ بندی کی جستجو ایک دقت طلب امر ہونے کے وجود دلچسپ اور مفید ضرور ہو سکتی ہے۔ 

 نیاز فتح پوری کا ذکر آتا ہے اور بات بہت دور تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کی پیدائش، پرورش، جوانی اور پھر پختہ عمر کی بیدار مغزی، غرض جتنی معلومات ہوتی جاتی ہیں نیاز کی شخصیت سے اتنے ہی پردے اٹھتے جاتے ہیں۔ نیاز کے نام کے ساتھ فتح پوری کا لفظ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُن  کی پیدائش فتح پور میں ہوئی ہو گی۔اصل بات یہ ہے کہ فتح پور ان کے آبائو اجداد کا وطن تھا، وہ خود رام سنئی گھاٹ ضلع بارہ بنکی میں 1884ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی نام نیاز محمد خاں ان کی والدہ نے رکھا جبکہ والد نے لیاقت علی خان نام رکھا۔مگرجب نیاز سنِ شعور کو پہنچے تو انہوں نے  قلمی نام نیاز فتح پوری اختیار کیا اور ہمیشہ اسی نام سے ادب کی دنیا میں بوقلمونی کی۔نیاز کے والد  کو علم و ادب کا گہرا شغف تھا اس لئے انہوں نے اپنے ذہین بیٹے کی تعلیم کا شروع ہی سے بہترین انتظام کیا۔مولوی حبیب الدین کے زیر نگرانی نیاز کی تعلیم کا آغاز ہوا۔اُس زمانے کے دستور کے مطابق ابتدا میں بچوں کو دینی تعلیم اور عربی، فارسی کا درس دیا جاتا تھا۔ نیاز کو بھی ان کتابوں سے سابقہ پڑا۔ بچپن ہی سے ذہین تھے ،شوق اور محنت سے پڑھنا شروع کیا تو جلد ہی اپنے ساتھیوںسے بہت آگے نکل گئے۔عمر کے اس حصہ میں جبکہ عام طور پر بچے صرف کھیلتے کودتے ہیں، نیاز تعلیم کے ان منازل سے گزر رہے تھے جو عموماً سن بلوغ میں طلبا کے سامنے آتی ہیں۔ مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ 1893ء میں جب ان  کی عمر سات سال کی تھی سکندر نامہ اور کیمیائے سعادت پڑھتے تھے۔گلستان اور بوستان والی منزل اس سے پہلے ہی عبور کی چکے تھے۔ جب نیاز نے اپنی عمر کے نویں برس میں قدم رکھا تو ان کے والد نے ان کا داخلہ فتح پور کے مدرسہ اسلامیہ میں کرا دیا۔ یہ سکول فتح پور کا بہترین سکول مانا جاتا تھا اور اس میں تعلیم کا بہت اچھا انتظام تھا۔نیاز نے اس سکول میں داخلہ لینے کے بعد نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ بہت سے تجربات حاصل کئے۔ان کی زندگی میں اس ماحول کا زبردست اثر پڑا یہی ماحول تھا جس نے ان کے دل میں تجسس کا جذبہ پیدا کیا اور یہی وہ فضا تھی جس نے نیاز کے دل میں روایات سے بغاوت کا بیج بویا۔ یہی وقت تھا جب نیاز مذہب کے آئینہ میں سچائی کی تلاش کی طرف گامزن ہوئے۔نیاز کے والد چونکہ ان کو عربی اور انگریزی دونوں قسم کی تعلیم دلانا چاہتے تھے اس لئے نیاز کو دو عملی زندگی سے گزرنا پڑا۔ وہ عربی اور انگلش دونوں ہی استادوں سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور دونوں کے تاثر سے ایک نئے خیال کو جنم دینا چاہتے تھے۔ 

جیسا کہ اوپر عرض کیا،نیاز نے اوائل عمری سے ہی فارسی ادب کا مطالعہ شروع کر دیا تھا۔ فارسی شاعری اور ادب کے رجحان کی وجہ سے ان کو تصوف سے بھی دلچسپی ہو گئی، انہوں نے تصوف پر محی الدین ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کا ترجمہ اُردو میں شروع کر دیا۔اسی زمانے میں شعر کہنے کا شوق پیدا ہوا۔ فارسی اور اردو دونوں میں طبع آزمائی کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حسرت موہانی بھی فتح پور ہی میں زیر تعلیم تھے۔ احباب کا ایک مخصوص حلقہ تھا جس میں شعر و شاعری کی محفلیں جمتی تھیں۔ نیاز نے بھی حسرتؔ کے رنگِ تغزل سے متاثر ہو کر عشق و عاشقی پر مبنی ہلکے پھلکے شعر کہنا شروع کر دئیے حالانکہ اس وقت نیاز کے تجربات پختہ نہ تھے، ان کا علم صرف کتابوں تک محدود تھا، اس لئے اس کے اظہار کا اچھا سلیقہ نہ تھا، لیکن انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ اسی دور میں جب نیاز کو فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے ادب کو سیکھنے اور ان پر کامل عبور حاصل کرنے کی لگن پیدا ہوئی۔ انہوں نے خود اپنے بارے میں لکھا ہے ’’فارسی ادب کا ذوق مجھ میں بہت کم سنی سے پیدا ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ اردو ادب کا بھی لیکن اس کی ابتدا نثر سے نہیں بلکہ شاعری سے ہوئی ‘‘۔

1962ء میں نیاز فتح پوری لکھنو سے کراچی چلے آ ئے اور پھر باقی عمر یہیں بسر کی۔پاکستان آنے سے کچھ عرصہ پہلے بھارتی حکومت نے انہیں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا تھا لہٰذا ان کا پاکستان ہجرت کا اقدام بھارت میں نکتہ چینی کا سبب بن گیا تاہم انہوں نے کسی تہمت کا جواب نہ دیا۔اردو کا یہ یگانہ روزگارمئی کی24تاریخ کو 1966ء کراچی میں راہی ملک عدم ہوا۔

تصانیف و تالیفات

-1مطالعاتِ نیاز

-2نگارستان( افسانے؍ مضامین)

-3علمائے قدیم(مقالات)

-4’جمالستان‘(افسانے) طبع اول 1933

-5 حسن کی عیاریاں اور دوسرے افسانے (یہ مجموعہ 

بعد میں ’ ’تاریخ کے گمشدہ اوراق‘ ‘کے نام سے شائع ہوا)

-6شہاب کی سرگزشت‘(طویل مختصر افسانہ )

-7شبنمستان کا قطرہ گوہریں( طویل مختصر افسانہ)

-8’قربان گاہِ حسن(ارضِ بابل کا ایک تاریخی طویل مختصر افسانہ) 

-9کیوپڈ اور سائیکی (طویل مختصر افسانہ)

-10صحابیات (سوانحی مضامین)

-11فلاسفہ قدیم کی روحوں کا اجتماع

-12مکتوباتِ نیاز

-13 جذبات بھاشا(مضامین) 

-14مجموعہ استفسارات و جوابات

-15انتقادیات( مضامین)

-16مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ

-17کہکشاں کا ایک سانحہ

-18اصحاب کہف‘(تاریخ؍سوانحی اشارے)

-19جھانسی کی رانی (سوانح)

-20مشکلاتِ غالب (تنقید)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اردو ادب میں پاکستانیت کا اظہار

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان اردو ہے۔اردو ادب کو تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کرنے والے اہل قلم کا تعلق خواہ شاعری سے ہو یا نثر نگاری سے مٹی کی خوشبو اس کے تخلیقی تجربے کو نکھارتی اور سنوارتی ہے۔

پشاورزلمی اور حیدرآباد کنگز مین آج مدمقابل

پی ایس ایل11 کا فائنل معرکہ:زلمی پانچویں مرتبہ فائنل کھیل رہی ہے،کنگزمین پہلی بار ٹرافی کی جنگ کیلئے میدان میں اترے گی:اسلام آبادیونائیٹڈ اور لاہور قلندرز تین، تین جبکہ پشاورزلمی، کراچی کنگز، ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اب تک ایک، ایک ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہیں:بابراعظم نے پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 4سنچریوں کاعثمان خان اور ایک سیزن میں سب سے زیادہ 588رنزکا فخرزمان کا ریکارڈ برابر کردیا

پی ایس ایل 11:ریکارڈز

پی ایس ایل 11 کے رواں سیزن میں جو29مارچ کو شروع ہوا تھا میں متعدد پرانے ریکارڈز ٹوٹے اور ان کی جگہ نئے ریکارڈز بنے، جن میں سے چند ریکارڈز درج ذیل ہیں۔

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔