مخلوق کے کام آنا!

تحریر : نعیم انصر ہاشمی( جھنگ )


ہے کام آنا مخلوق کے عظمت انساں کی،ہیں محسن وہ کرتے ہیں خدمت انساں کی

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بے شمار اقسام کی مخلوق پیدا کی۔ زمین اور آسمان سے لے کر سمندر میں بھی رب تعالیٰ کی مخلوق آباد ہے اور اللہ تعالیٰ جس طرح انسان کو رزق عطا فرما رہا ہے، اسی طرح آسماں کی وسعت اور سمندر کی عمق گہرائیوں میں بسنے والی مخلوق کے رزق کا انتظام اللہ پاک کرتا ہے، تاہم اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہی عظیم ترین اور افضل مخلوق ہونے کا شرف عظیم عطا کیا۔ 

دنیا میں بسنے والے رب تعالیٰ کے بندے ایک دوسرے سے تعاون کئے بغیر نامکمل اور ادھورے تصور کئے جاتے ہیں۔ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے اور انسان کا انسان کے کام آنا افضل ترین ہے۔ انسان ازل سے گروہ یا قبائل کی صورت میں زمین پر رہتا آیا ہے۔ ایک دوسرے کی امداد اور تعاون سے ہی امور زندگی انجام دیتا آیا ہے۔ ایسا کرنا اسی انسان کیلئے بہتر ہے۔ تجارت کا نظام ہو یا محنت مزدوری ہو یا زندگی کے دیگر شعبہ جات میں ایک دوسرے سے تعاون کئے بغیر امور زندگی کو انجام دینا مشکل ترین ہی نہیں تقریباً ناممکن بھی ہے۔ ایک دوسرے کی امداد، ہمدردی اور تعاون ہی سے معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔

بچو! ہمیں بھی چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے کے کاموں میں مدد کریں۔ ہم گھر میں رہتے ہوئے والدین کے ہمراہ گھریلو کاموں میں مدد کریں۔ سکول میں اپنے ہم جماعت اور ساتھیوں سے تعاون کریں۔ تعلیمی امور میں ہم دوسروں کی بڑھائی میں مدد کر سکتے ہیں۔ جو بچے پڑھنے میں کمزور ہیں ان کو پڑھانے اور سمجھانے میں تعاون کر سکتے ہیں۔ پڑوسیوں سے اچھا سلوک کریں ان کی مدد کریں چاہے وہ مدد لین دین میں ہو یا سودا سلف لا کر دینے میں۔ دیگر گھریلو امور میں ایک دوسرے کو آسانی  پہنچائیں، اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا بھی ہے ۔ 

ہمارے انبیاء کرام ؑ بھی انسانی خدمت کو بھرپور طریقہ سے سرانجام دیا۔ حضرت محمد ﷺ نے بھی لوگوں اور امت کی بھرپور مدد اور خدمت کی۔ محمدﷺ کا مشہور واقعہ جو ایک بڑھیا کے بوجھ کو اٹھا کر اس کے گھر تک پہنچانا آپ ﷺ کا ایک مثالی اور خدمت کرنے کا جذبہ سے بھرپور سبق ہے۔ اس طرح کے دیگر واقعات جس میں آپ حضرت محمد ﷺ نے انسانی مدد خود بھی کی اور صحابہ کرام ؓ کو بھی عوام کی خدمت کرنے کی فضیلت سے آگاہ فرمایا۔

 موجودہ زمانے میں انسان انسان سے تقریباً لاتعلق اور لا پرواہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے کا احسان ہمدردی انسانی دل سے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ چند ہی لوگ ہیں جو غیروں سے ہمدردی کرتے ہیں۔ بعض خوش نصیب ایسے بھی ہیں جو چھپ چھپا کر غرباء، یتیم اور مساکین کی مدد کرتے ہیں۔ یتیموں کی کفالت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ جو بیمار لوگوں کو ادویہ فراہم کرتے ہیں، بھوکوں کو کھلانا، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے لوگوں کے کام آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کا نام نیک اعمال کرنے والوں میں تحریر فرما دیتے ہیں۔ اپنے ایسے بندوں کو دنیا و آخرت میں ثواب و اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ اس کیلئے اطاعت و خدمت کو شعار بنائیں اور نیت کریں کہ ہم اللہ کی رضا کیلئے اللہ کے بندوں کے کام آئیں گے۔

بچو! بین الاقوامی طور پر بھی جو امور سرانجام دیئے جاتے ہیں، وہ بھی اسی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں کہ انسان کی ضروریات زندگی دیگر ذرائع سے پوری کی جاتی ہیں۔ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ملکوں کا نظام چلتا ہے۔ پاکستان نسبتاً زرعی ملک شمار ہوتا ہے۔ گندم، چنا، چاول اور دیگر اشیاء خورو نوش ملک سے باہر بھیجتا ہے۔ اس کے بدلہ میں ملکی ضروریات زندگی کا سامان خریدتا ہے۔یہی نظام زندگی ہے۔ اسی میں رب کی مخلوق کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم جہاں جہاں آباد ہیں وہاں وہاں فلاح و بہبود سے کام کرتے رہیں اور اللہ کی مخلوق کے کام آئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری،رات چوہوں نے ایک میٹنگ کی

سنہری باتیں

٭…کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔

ذرا مسکرائیے

بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔

پہیلیاں

دیکھ کر اس کا کمال اس کا ہنر،بادشاہوں کا بھی جھک جاتاہے سر

قربانی کی روح اور ہماری ذمہ داریاں

’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37) اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرنے سے بندے کی اپنے رب سے دوریاں قربت میں بدل جاتی ہیں ہر عمل کیلئے نیت خالص ہونی چاہیے، قربانی کیلئے جس مال سے جانور خریدنا ہواُس کا پاک ہونا ضروری ہے