سنہری باتیں

تحریر : (اربش انجم، فیصل آباد)


٭…کھانے کو ٹھنڈا کر لیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔

 ٭…علم مال سے بہتر ہے کیوں کہ مال فرعون اور قارون کی میراث ہے اور علم انبیا کی۔

 ٭…خوشی انسان کو اتنا نہیں سکھاتی جتنا کہ غم سکھاتا ہے۔

 ٭…بزرگوں کا ادب زندگی کا سرور  ہے۔

 ٭…سچائی ایک ایسی دوا ہے جس کی لذّت کڑوی مگر تاثیر میٹھی ہے۔

 ٭… جن کے پاس علم ِ نافع ہے وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔

 ٭… اگر تمہیں ایک دوسرے کی نیتوں کا علم ہوتا تو تم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کرتے۔

 ٭…اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نہ جھگڑو کہ بکھر کر کم زور ہو جا ؤ گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔

مخلوق کے کام آنا!

ہے کام آنا مخلوق کے عظمت انساں کی،ہیں محسن وہ کرتے ہیں خدمت انساں کی

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری

آؤ سُن جاؤ ایک بات مری،رات چوہوں نے ایک میٹنگ کی

ذرا مسکرائیے

بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔

پہیلیاں

دیکھ کر اس کا کمال اس کا ہنر،بادشاہوں کا بھی جھک جاتاہے سر

قربانی کی روح اور ہماری ذمہ داریاں

’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37) اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرنے سے بندے کی اپنے رب سے دوریاں قربت میں بدل جاتی ہیں ہر عمل کیلئے نیت خالص ہونی چاہیے، قربانی کیلئے جس مال سے جانور خریدنا ہواُس کا پاک ہونا ضروری ہے