ذرا مسکرائیے
بچہ (اپنے دوست سے): میرے دادا اتنے بہادر تھے کہ انہوں نے ایک جنگ میں ایک آدمی کی ٹانگ کاٹ دی۔
دوسرا بچہ: ٹانگ کیوں کاٹی؟ گردن کیوں نہیں کاٹی۔
پہلا بچہ: کیونکہ گردن پہلے ہی کسی نے کاٹ دی تھی۔
٭٭٭
چڑیا گھر کے دو ملازم بیٹھے رو رہے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: ارے بھئی تم رو کیوں رہے ہو۔
ایک ملازم نے آنسو پونجھتے ہوئے بتایا: ہمارے چڑیا گھر کا ہاتھی مر گیا ہے۔
اس آدمی نے کہا: اچھا تو تمھیں اس سے بہت محبت ہو گی۔
ملازم نے روتے ہوئے کہا: نہیں، محبت تو نہیں تھی لیکن ہمارے مالک نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا ہے۔
٭٭٭
استانی (بچوں سے): ایسے جانور کا نام بتائو جو بہت تیزی سے بڑھتا ہے؟۔
ایک بچے نے کھڑے ہو کر کہا: مچھلی۔
استانی:’’شاباش! کیا تم اس کے بڑھنے کی رفتار بتا سکتے ہو؟۔
بچہ:جی ہاں مس! پچھلے ہفتے ابو جان نے ایک مچھلی پکڑی تھی۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ روزانہ دو تین انچ کا اضافہ کر دیتے ہیں اور ابھی اسی رفتار سے اضافہ جاری ہے۔
٭٭٭
دوست: آج میں نے آپ کی دولت مندی کی بہت تعریف کی ہے۔
نیا دوست: مگر کس سے؟
دوست: انکم ٹیکس آفیسر سے۔
٭٭٭