پہیلیاں
دیکھ کر اس کا کمال اس کا ہنر،بادشاہوں کا بھی جھک جاتاہے سر
(نائی)
صدیوں کا ہے اک گلزار
پھول ہیں جس کے سدا بہار
(تارے)
لکڑی کی ڈبیا جب ہاتھ آئی
ڈبیا کو توڑا، کھا لی مٹھائی
(بادام)
دیکھی ہم نے ایک مشین
کھانے پینے کی شوقین
جب چاہو وہ کھولے پیٹ
اس میں لے ہر چیز سمیٹ
(فریج، ریفریجریٹر)
لکھنے کا ہے ڈھنگ نرالا
جو بھی ہو گا لکھنے والا
بنا قلم کے ہاتھ چلائے
اور تیزی سے لکھتا جائے
(ٹائپ رائٹر)
اک بڈھے کے سر پر آگ
گاتا ہے وہ ایسا راگ
اُس کے منہ سے نکلیں ناگ
جو تیزی سے جائیں بھاگ
(حقہ)