عید کی سچی خوشی !
فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے سے کچھ دیر قبل کلاس میں مس حنا نے سب سے پوچھا کہ آپ سب نے عید کیلئے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟
فضہ جو کہ اچھے گھر سے تھی بولی ’’مس ہم نے دو بکرے لینے ہیں اور پھر ان کی قربانی کر کے انھیں سب رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کرنا ہے‘‘۔
مس نے کہا: بہت خوب !۔ اس کے بعد مس سب بچوں سے پوچھتی ہوئی نور کے پاس آئیں تو نور چپ سی ہوگئی، جس پر فضہ بولی کہ مس یہ لوگ قربانی نہیں کرسکتے، ان کے مالی مسائل ہیں۔
نور، فضہ کی بات سن کر اداس اور غمگین ہو گئی۔ اس کا دل بہت برا ہوا کہ اس نے سب کے سامنے ایسا کیوں کہا،آخر وہ کوئی بہانہ بنا سکتی تھی۔
کچھ دیر میں چھٹی ہوئی تو سب بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ سب نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اور گھروں کی راہ لی۔فضہ اور نور ایک ساتھ گھر آرہی تھیں مگر نور سارا راستہ خاموش رہی۔ فضہ نے بات کرنا چاہی مگر نور نے جواب نہ دیا۔ اس کی اس چپ کو فضہ نے محسوس کیا۔ اس طرح دو دن گزرے فضہ نے نور کو فون بھی کیامگر نور نے خوش دلی سے جواب نہ دیا۔
فضہ کے ابو اس کی پسند کا خوبصورت سفید رنگ کا بکرا لے آئے۔ جس پر فضہ نے نور کو بکرا اس کے گھر جاکر دکھانا چاہا مگر اس نے ہلکی سی مبارک دی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔
نور کے امی ابو نے بکرے کی مبارکباد دی تو فضہ نے قبول کی لیکن نور کے اس رویے کو فضہ نے بہت محسوس کیا اور پھر اس نے اس کے اس رویے کا ذکر دادی جان سے چاند رات کو کیا۔ انھوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کچھ تفتیش کی اور پوچھا کہ آخری بار کلاس میں کوئی بات تو نہیں ہوئی جو نور قطع تعلقی کر بیٹھی ہے۔ فضہ نے آخری بار کلاس میں مس حنا کی وہ بات جو انھوں نے سب کلاس کے بچوں سے پوچھی تھی بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ اس نے نور کے بارے میں خود مس کو بتایا کہ اس کے گھر والے قربانی نہیں کرتے۔ انھیں مالی تنگی ہے۔
یہ سن کر دادی جان نے کہا ’’بیٹا یہ تم نے غلط کیا۔اس کی عزتِ نفس کا سب کے سامنے مزاق بنادیا۔ اگر وہ قربانی نہیں کرسکتے تو تم نہ بولتیں، وہ خود کوئی جواب دے دیتی۔یہ بات اس کو تکلیف دے گئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ چپ ہے۔ اب تم میرے ساتھ اس کے گھر جا کر معافی مانگ لینا تاکہ دلوں میں گلے شکوے مزید نہ رہیں اور دوستی برقرار رہے۔ فضہ اپنی غلطی سمجھ گئی کہ کیسے انجانے میں اس نے نور کی سب کے سامنے دل آزاری کی۔
اگلے روز عید کی صبح سب نے مل کر نمازادا کی۔ فضہ کے بکرے کی قربانی ہوئی اور گوشت تقسیم ہونے لگا تو سب سے پہلے نور کے حصہ کا گوشت فضہ اپنی دادی کیساتھ نورکے گھر گئی اور ساتھ میں اپنی کے امی کے ہاتھ سے بنی ہوئی فرنی بھی لے کر گئی۔ اس کے امی ابو اور نور نے دادی جان اورفضہ کا استقبال کیا اور عید کی مبارکباد دی۔
دادی جان نے نور کا ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں پیار سے پکڑا اورفضہ کاہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑ کر نور سے کہا ’’بیٹا نور ! فضہ آپ سے اپنی غلطی کی معافی مانگتی ہے۔ اس نے کلاس میں آپ کی دل آزاری کی۔ اسے بولتے ہوئے پتہ نہیں چلا، آپ معاف کر دیں‘‘ ۔
نور نے فضہ کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھیں نم تھیں اور اس نے اپنی انجانی غلطی کی معافی چاہی تو نور نے فوری طور پر آگے بڑھ کر اسے معاف کر دیا۔ فضہ اور نور ایک دوسرے کے گلے لگیں اور یوں دونوں کے دلوں سے بے چینی ختم ہوئی۔
نور کی امی بولیں: آخر یہ عید صبر و برداشت اور رواداری کا ہی تو درس دیتی ہے۔ اس لیے ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرتے رہنا چاہیے۔ اس طرح ہم سب بطور مسلمان اور پاکستانی مل جل کر رہیں گے تو اتحاد برقرار رہے گااوراسی طرح تو ہمارا پاکستان ایٹمی طاقت بھی تو بنا تھا‘‘۔ یہ سن کر سب بہت خوش ہوئے۔ دادی جان نے پاکستان اور امت مسلمہ کی سالمیت کیلئے دل سے دعا دی۔
اس کے بعد نور اور اس کے گھر والوں کو کلیجی کھانے کی دعوت دی جس کو سب نے قبول کیا۔ کچھ ہی دیر بعد نور اور اس کے امی ابو فضہ کے گھر تھے۔ یوں دونوں سہیلیوں نے مل کر عید قرباں منائی۔