وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

تحریر : نعیم انصر ہاشمی( جھنگ)


ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

 ہم پہلے تو صفائی کے معاملات میں ہر لحاظ سے پیچھے ہیں۔ سڑکوں، گلیوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا اور پھیلانا ہمارا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔ جہاں تھوڑی سی صفائی نظر آئے ہمیں گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔ بارش کے بعد سڑکوں، گلیوں میں بارش کا پانی جمع نہ ہو تو ہماری طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔ کھانے، پینے کا سامان جس لفافہ یا ڈبہ میں دستیاب ہے کھا کر لفافہ اور ڈبہ گلی سڑک پر نہ پھینکیں تو کھانا ہضم کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ پانی کی بوتلیں مشروب کے ٹین پیک استعمال کے بعد اس کو فٹ بال کی طرح پائوں سے اُچھال پھینکنا گتہ بند مشروب کو پینے کے بعد ڈبہ پر پائوں مار کرپٹاخہ بجا کر نہ دیکھ لیں تب تک پائوں میں کُھجلی ہوتی رہتی ہے۔ 

موٹرسائیکل کا سلنسر نکال کر بے ہنگم آواز سلنسر سے نکلتی ہے، اسے سنیں نہ تو بلڈ پریشر اوپر نیچے ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پان کھا کر اس کی پچکاری دیواروں پر نہ پھینکیں، دیواریں اور سڑکیں رنگین نہ کریں تو پان کا مزہ نہیں آتا۔گھر کے دروازہ پر لگی گھنٹی(کال بل) بجا کر بھاگ جانا ہمیں مزہ دیتا ہے۔ بلاوجہ دوسروں کے معاملات میں زبردستی مشورہ دینا اپنے تجربات دوسروں پر تھوپنا ضروری سمجھتے ہیں اور تو اور اپنے مرض میں استعمال شدہ ادویات زبردستی دوسروں کو کھلانے پر نہ صرف اصرار کرتے ہیں بلکہ کھلا کر چھوڑتے ہیں۔ 

ہم سوڈا کی بوتل کا ڈھکن، دروازہ کی چٹخنی دانتوں سے کھول سکتے ہیں۔ موبائل فون کا تو بچہ بچہ، مرد خاتون خود ساختہ انجینئر( میکنک) ہے، کس کس طریقہ سے فون کی بیٹری کے بارے میں تجربات کرتے ہیں، اسے تھپڑوں کی بارش سے، ٹھونک بجا کر، زبان سے لعاب لگا کر اسے چارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں کہ پناہ خدا کی!

 الیکٹرک اور الیکٹرونکس اور دیگر آلات کو کس کس طریقہ ہائے دیسی استعمال کر کے موجد اور بنانے والوں کو حیران کرنا ہمیں خوب آتا ہے ’’کیونکہ دل ہے پاکستانی‘‘ والا معاملہ بھی تو نبھانا ہے۔ 

 بچو! ذرا سوچیے اوپر جو بھی تحریر اور بیان کیا گیا ہے کیا ایسا ممکن ہے؟ ’’ہرگز نہیں‘‘ کیونکہ ہم پاکستانی ضرور ہیں مگر کیا ایسا کرنا درست ہے؟ غلط طریقہ استعمال کرکے چیزوں کو استعمال کرنا، گندگی پھیلانا جائز ہے، نہیں بالکل بھی نہیں۔ 

ہم سچے پاکستانی ہیں ہمیں صفائی پسند ہونا چاہئے، جہاں رہتے ہیں صفائی کا خیال رکھیں۔ گلیوں سڑکوں کو ستھرا رکھیں، کھانے پینے کی اشیاء جس میں بند ہو کھا پی کر لفافے ڈبے اور دیگر پیکنگ کو احتیاط سے کچرا دان میں ڈالیں، عام بول چال میں بے مقصد گفتگو نہ کریں۔ ہرگز ایسا کام نہ کریں جس سے ہمارا شہر ملک کا نام بدنام ہو۔ 

اچھے کام کریں۔ ملک صاف رکھیں۔ یہی تقاضا بھی ہے اور یہی پاکستان کی پہچان ہونا چاہئے۔ ہمیں ایسے کام ہرگز نہیں کرنے چاہئیں جس سے کسی کو نقصان ، تکلیف اور دل آزاری  ہو۔ 

اچھے کام کریں، اچھے بنیں، اچھے کہلائیں ’’کیونکہ دل ہے پاکستانی‘‘۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، ہمیں سمجھدار شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہئے، کیونکہ دل ہے پاکستانی، پاکستان سے ہم ہیں ہم سے پاکستان ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔