بلوچستان: چیلنجز کے باوجود استحکام کی نئی امید
بلوچستان میں ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو گمراہ کرنے کی منظم سازشیں ہیں تو دوسری جانب ریاست، سکیورٹی ادارے، سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن، ترقی اور قومی وحدت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
حالیہ دنوں بلوچستان اسمبلی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس میں سامنے آنے والے حقائق اس امر کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی ادارے صرف دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہی نہیں کررہے عوامی مسائل کے حل، صحت، اقلیتی حقوق، خواتین کی فلاح، شفاف حکمرانی اور قومی دفاع جیسے اہم شعبوں میں بھی فعال کردار ادا کررہے ہیں۔
بلوچستان پاکستان کی سلامتی، جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کے باعث دشمن قوتوں کی سازشوں کا مرکزہے۔ بھارت سمیت کئی بیرونی عناصر بلوچستان میں بدامنی پیدا کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں مگر حالیہ واقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ریاستی ادارے مضبوط اور مربوط انداز میں سرگرم ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ایک کم عمر لڑکی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کی سازش کو بے نقاب کرنا اس خطرناک نیٹ ورک کی نشاندہی ہے جو بلوچ نوجوانوں اور بچیوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کاویژن بندوق کے مقابلے میں تعلیم، شدت پسندی کے مقابلے میں شعور اور تباہی کے مقابلے میں ترقی کا ویژن ہے۔ یہ حقیقت بھی قابل توجہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کو صرف سکیورٹی مسئلہ قرار دینے کے بجائے سماجی اور نفسیاتی پہلووں کو بھی اجاگر کیا۔ ماضی میں دہشت گرد تنظیمیں بلوچستان میں سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کے میدان میں زیادہ موثر تھیں مگر اب صورتحال بدل رہی ہے اور حکومت نے عوامی اعتماد بحال کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
حکومت عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ شیخ زید ہسپتال کی مشینری کی منتقلی کے معاملے پر وزیراعلیٰ کا فوری ردعمل، اسمبلی اور عوامی رائے کا احترام اور نئی مشینری ایئر لفٹ کرانے کا اعلان اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت تنقید کو برداشت کرنے اور عوامی جذبات کا احترام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جمہوری حکومتوں کی اصل طاقت یہی ہوتی ہے کہ عوامی نمائندوں کی آواز سنتی ہیں اور فیصلوں پر نظرثانی کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔Balochistan Institute of Cardiovascular Diseases جیسے امراض قلب کے جدید ادارے کا قیام بلوچستان کے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ اس سے ہزاروں مریضوں کو کراچی یا دیگر شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ اقدام صوبے کے صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں خواتین کے حفظان صحت سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کی بنیادی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے اسمبلی کے فلور پر زیر بحث لایا گیا۔ بلوچستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کرنا خود ایک بڑی سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غربت، شعور کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث بلوچستان کی ہزاروں لڑکیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ اگر حکومت خواتین کے لیے سستی اور معیاری حفظان صحت کی مصنوعات کی فراہمی یقینی بناتی ہے تو یہ نہ صرف صحت بلکہ تعلیم اور خواتین کی معاشی شرکت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
بلوچستان ہمیشہ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔گزشتہ دنوں صوبے میں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ حکومت کی یہ کوشش قابل تحسین ہے کہ وہ اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہتی ہے۔بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی جانب سے مختلف عوامی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ این 25 شاہراہ کی خستہ حالی، خاران میں بدامنی، مکران میں ڈینگی کیسز، لائیوسٹاک کے مسائل اور بارڈر ٹریڈ جیسے معاملات پر بحث کی گئی۔اسمبلی میں معرکہ حق پر منظور ہونے والی مشترکہ تہنیتی قرارداد نے قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاک فوج،پاک فضائیہ اورپاک بحریہ کی کامیابیوں پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کا متفق ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ مادر وطن کے دفاع میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔حالیہ کشیدگی میں دشمن کو بھرپور جواب دے کر ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ برتری ثابت کی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے سے متعلق بے ضابطگیوں پر اظہار کیا گیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر کسی منصوبے میں خامیاں یا کرپشن ہے تو متعلقہ اداروں کا فرض ہے کہ تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کا تعین کریں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور موقف اختیار کیا کہ حکومت شفافیت اور احتساب پر یقین رکھتی ہے۔ماحولیاتی تحفظ آج دنیا بھر کا اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ بلوچستان جیسے خشک اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ صوبے میں شجرکاری منصوبے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان منصوبوں میں بدانتظامی یا ناقص نگرانی ہوئی تو اس کی اصلاح ضروری ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلی بار ایسے منصوبوں کا باقاعدہ آڈٹ اور اسمبلی سطح پر جائزہ لیا جارہا ہے جو شفاف حکمرانی کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلوچستان اس وقت ایک نئی سیاسی، سماجی اور انتظامی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور پراپیگنڈے کی جنگ ہے تو دوسری طرف ریاستی ادارے، حکومت اور عوام ایک بہتر، پرامن اور ترقی یافتہ بلوچستان کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت بلوچستان نے واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بیرونی سازشوں کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں۔ریاستی اداروں کی کامیاب کارروائیاں، اسمبلی میں مثبت قانون سازی، عوامی مسائل پر مباحث اور احتسابی عمل اس بات کا اشارہ ہیں کہ بلوچستان میں بہتری کا سفر شروع ہوچکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سفر کو سیاسی استحکام، انتظامی تسلسل اور عوامی اعتماد کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ بلوچستان پرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال صوبہ بن سکے۔