منشیات مافیا اور طاقت کے سائے
یونانی فلسفی اناکارسس نے کیا خوب کہا تھا کہ قانون مکڑی کاوہ جالا ہے جس کو طاقتور؍امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے جبکہ کمزور؍غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔
منشیات فروش انمول بلوچ عرف پنکی ڈان کی عدالت میں دندناتے ہوئے وڈیو اس قول پر مہر ثابت کر رہی ہے۔ ویسے تو ابھی نتاشا اور شاہ رخ جتوئی کو ہی لوگ بھول نہ پائے تھے کہ اب اس لسٹ میں ایک اور انٹری ہو گئی۔ انمول عرف پنکی کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آبائی تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ کراچی میں جہانگیر روڈ پر بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی۔ تحقیقاتی حکام بتاتے ہیں کہ ملزمہ کی عمر تقریباً31 سال ہے اور اسے اس دھندے کی جانب راغب کرنے والی ایک نائجیرین عورت تھی۔ انمول عرف پنکی نے10 سے 12 سال کی عمر میں منشیات کی دنیا میں قدم رکھا اور پچھلے 10 سال سے اپنے کام میں خود کفیل اور خود کا برانڈ چلا رہی تھی۔ اس کے خلاف گرفتاری پر گارڈن تھانے میں دو مقدمات درج کیے گئے جن میں سے ایک منشیات کی برآمدگی کا اور دوسرا غیر قانونی اسلحے کا ہے۔ اس سے قبل اس پر 11 مقدمات درج تھے جس میں ایک مقدمہ قتل کا بھی ہے۔ اس مقدمے میں ایک موت منشیات کی اوور ڈوز کے باعث ہوئی تھی جس میں عدالت نے اس کا تین روزہ ریمانڈ بھی دیا۔
عدالت میں پہلی پیشی پر پولیس کی جانب سے جو پروٹوکول منشیات فروش انمول عرف پنکی کو دیا گیا جب وہ خبروں کی زینت بنا تو کئی چھوٹے افسران کو معطل کردیا گیا اور اعلیٰ حکام نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ جن کا قصور تھا ان کے خلاف ایکشن لے لیا گیا۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو یہ جان بوجھ کر کیا گیا، جس پر شہریوں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ جن با اثر حکام کو پنکی کی جانب سے رقوم یا کسٹامائزڈ منشیات ملتی رہی یہ سہولت انہوں نے فراہم کی ہو گی۔ دوسری صورت میں واقعی معطل ہونے والے حکام نے اس ہائی پروفائل کیس کو اتنا لائٹ لیا کہ پھر باقیوں کی دوڑیں لگ گئیں اور لینے کے دینے پڑ گئے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ کسی ملزمہ کو ہتھکڑی عام طور پر نہیں لگائی جاتی تاہم انہیں ایسے بھی نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ لیڈ کرتی نظر آئیں نہ کہ ملزم۔ سینئر بیوروکریٹس نے بتایا کہ ایسے ہائی پروفائل کیسز میں سینئر ایس ایس پی یا ڈی آئی جی لیول کا افسر جج کے چیمبر میں جاکر ہائی پروفائل کیس کی اہمیت اور اس کے مندرجات سے خود آگاہ کرتا ہے تاکہ کیس کی اہمیت اجاگر ہو، جو پہلے دن نہ کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا یا واقعی کوتاہی برتی گئی؟ اس معاملے پربنائی گئی تحقیقاتی کمیٹیوں کی شفاف تحقیقات میں اس کا سامنے آنا مشکل نہیں ہے! حکام بتاتے ہیں کہ مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے پاس سے 1540 گرام کوکین برآمد ہوئی، برآمد ہیروئن میں 300 گرام بالکل تیار جبکہ 1240گرام خام تھی۔ خام ہیروئن کو انمول عرف پنکی مختلف کیمیکل ملا کر کوکین تیار کرتی تھی۔ ملزمہ نے کوکین سپلائی کے لیے مختلف اقسام کے مخصوص ڈبے بنائے ہوئے تھے اور ان ڈبوں پر پنکی ڈان کے پرنٹ والے سٹیکر لگائے جاتے تھے۔ پنکی برانڈ کی منشیات کے کئی دیوانے انتہائی ہائی پروفائل لوگ بھی بتائے جاتے ہیں۔ وہ لوگ یہ کسٹامائزڈمنشیات خریدا کرتے یا اپنی طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرلیتے تھے۔ باخبر افراد یہ بھی بتاتے ہیں کہ پنکی رشوت کے طور پر بھاری رقوم کے علاوہ اپنی خاص منشیات بھی بھجواتی تھی اور خاص افراد اس کی منشیات کے دیوانے بنے رہے اور اس کا دھندا چلتا رہے۔
انمول عرف پنکی کاکیس اس وقت پورے ملک میں زیر بحث ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بھی اس کا چرچا رہا۔ کمیٹی کے اجلاس میں اس کیس کے حوالے سے سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ کل ایک خاتون سرعام پھر رہی تھی جو منشیات کیس میں گرفتار تھی، کمیٹی کے چیئرمین فیصل سلیم نے کہا کہ ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کریں کہ انمول پنکی جن کو منشیات سپلائی کرتی تھی ان کی لسٹ بھی فراہم کی جائے۔ انمول پنکی جن لوگوں کو منشیات دیتی تھی وہ جتنے بھی بڑے ہوں ان کے نمبر شیئر کریں میں ان سب کو ری ہیب سینٹر بھجواؤں گا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اس معاملے پر سندھ پولیس کے حکام کو طلب کرنے کا کہا اور ساتھ ہی بولے کہ یہ صوبائی معاملہ نہیں بلکہ منشیات کا ہے!
منشیات فروش انمول عرف پنکی کی منظر عام پر آنے والی آڈیوز اور عدالت میں دندناتے ہوئے وڈیو کلپس کو دیکھ کر مجھے ابتدائی طور پر سزا ملنے پر ہنستے ہوئے وکٹری کا نشان بنائے شاہ رخ جتوئی یاد آگئے ساتھ ہی اس خاتون ڈرائیور کا چہرہ بھی ذہن میں گھوم گیا جو کارساز پر کئی لوگوں کو کچلنے کے باوجود کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔یہ دندنانا، فتح کا نشان بنانا اور کیمرے کو مسکراتے ہوئے دیکھنا اناکارسس کے اُس قول پر پورا اترتا ہے کہ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جسے طاقتور یا امیر توڑتے ہوئے نکل جاتا ہے اور کمزور یا غریب اس میں پھنس جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ لوگ سسٹم کا مذاق ہی تو اڑاتے ہیں۔ کون سا ایسا کچھ ہوگیا جو ان کو پابندِ سلاسل رکھا، بالآخر دیت ادا کر کے با عزت بری ہوگئے۔ اب جس طرح پنکی کہہ رہی ہے کہ عقل گھٹنوں میں ہے حکام کی اور اگر اسے روک سکو تو روک لو، ماضی کی مثالوں اور موجودہ نظام میں موجود سقم کے باعث واقعی ایسا لگتا ہے کہ شاید اسے بھی کوئی نہ روک سکے!