عہدِ جدید کے ہائبرڈ حکمرانوں کا آرٹ آف گورننس دیکھ کر پرانے زمانے کے ڈرامے کا ایک کردار یاد آ رہا ہے۔ ایک ایسا فُقرا کردار جس کے ہاتھ میں چونی کا سکہ تھا‘ وہ محلے میں نکلتا اور جہاں چند لوگ جمع دیکھے وہاں کھڑا ہو جاتا تھا۔ پہلے کھنکھارتا پھر چونی کو ہوا میں اُچھالتا۔ بڑی حقارت سے محلے والوں کی طرف دیکھتا پھر چونی کو جھپٹ کر پکڑ لیتا اور ڈائیلاگ یہ بولتا کہ ''پیسہ بڑا ہے‘‘۔ اس وقت فارم 47 سے راج دربار میں آنے والے ملک کے 25کروڑ لوگوں کے سامنے کہتے نہیں تھکتے جب سے ہم واپس لوٹے ہیں پھر سے ترقی واپس آ گئی اور پاکستان کے پاس پیسہ بڑا ہے۔ سرکاری اداروں کے اعداد و شمار بھی کہتے ہیں کہ پیسہ بڑا ہے۔ لیکن کوئی یہ بتانے کی اخلاقی جرأت نہیں رکھتا کہ یہ سارے کا سارا بے پناہ و بے تحاشا پیسہ قرضوں کا ہے۔ ایسے قرضے جنہیں قوم نے اپنی ہڈیاں نچوڑ کر واپس بھی کرنا ہے۔
آپ ٹیسٹ کیس کے طور پر کسی شعبۂ زندگی کو ہاتھ لگائیں‘ کہیں بھی کوئی بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ جس کے نتیجے میں بے روزگاری ہے اور کنزیومر بدحال ہے۔ جب لوگوں کی قوتِ خرید ہی مر گئی ہو تب سمجھیں تاجر بے حال ہے۔ زراعت کی دنیا میں کسان کے لیے بجلی‘ ڈیزل‘ مشینری‘ لیبر ٹاسک اور باقی اخراجات میں سینکڑوں فیصد اضافہ ہوا جس سے آمدن محال ہے لہٰذا کسان کنگال ہے۔ دنیا بھر میں صنعتی انقلاب کے بعد سے ہر جگہ زندہ ریاستیں انڈسٹری کو اپنی رگوں میں دوڑنے والا تازہ خون سمجھ کر بچاتی ہیں۔ اپنے ہاں حکمرانوں کی توجہ صرف تین طرح کی انڈسٹری پر فوکس ہے۔ پہلی فلم انڈسٹری‘ دوسری تشہیر انڈسٹری اور تیسری ذاتی کاروبار انڈسٹری۔ پرائیویٹ سیکٹر کا ہر شعبہ نڈھال ہے ۔ ایسے میں جب معیشت کا پہیہ گڑھے میں اٹک چکا ہو بڑا پیسہ آئے گا کہاں سے؟
زیرو ریفارم والی ہائبرڈ سرکار کے دیہاڑی لگانے اور پیسہ بنانے کی سادہ ترین مثال پٹرول کے ایک لیٹر سے اخذ کی جا سکتی ہے۔ ہمارے سا منے اس وقت نو مئی 2026ء کے روز کے پٹرول بل کی تفصیل پڑی ہے جس کے آغاز میں پٹرول کے ایک یونٹ یعنی ایک لیٹر کی قیمت 216.68روپے درج ہے‘ جس کے بعد پہلا ٹیکس پٹرولیم لیوی کے نام سے 117.41 روپے کا لگایا گیا ہے۔ دوسرا ٹیکس کسٹم ڈیوٹی کا کہہ کر 22.7 روپے کا تھوپا گیا ہے۔ اگلا ایک نا معلوم پریمیم ٹیکس 29 روپے فی لیٹر نافذ ہے۔ آئلز کمپنیز کا پرافٹ 8.64 روپے فی لیٹرچارج ہوا۔ کرنسی ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ2.69 روپے فی لیٹر۔ کلائمیٹ سپورٹ لیوی2.50 روپے فی لیٹر۔ ایک عدد مزید حیران کن ٹیکس کا نام فریٹ مارجن رکھا گیا جو پاکستانی عوام کی جیب سے 7.25 روپے فی لیٹر مزید نکلوا لیتا ہے ۔ عین جمہوری ملک میں ایک لیٹر پٹرول کا بل ابھی جاری ہے‘ جس میں ڈسٹری بیوشن مارجن 7.87 روپے اینٹھا جا رہا ہے۔
آٹھ مختلف قسم کے ان لیویز اور ٹیکسز کو جمع کریں تو 216 روپے لیٹر والے پٹرول پر 198 روپے فی لیٹر ٹیکس لگایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ایشیا کا مہنگا ترین پٹرول پسماندہ ملکوں میں سے ایک کے بدحال ترین عوام کو 416.78 روپے میں بیچا جا رہا ہے۔ ایک وزیر نے تو ٹی وی کیمرے پر صاف کہہ دیا ''ہماری حکومت سے ٹیکس جمع نہیں ہو پا رہا‘ ایسے میں ہم پٹرول پر ٹیکس نہ لگائیں تو اور کیا کریں؟‘‘ اس بے بس نظام میں جو تاریخ لکھی جا رہی ہے اس میں انرجی سیکٹر کا کردار تباہ کن ہے۔ ملاحظہ کریں!
لڑکھڑاتی قوم پر پٹرول بم کا تسلسل: بے روزگاری کی ماری ہوئی لڑکھڑاتی قوم اور لُولی لنگڑی معیشت نے کس طرح قوم کو لوٹا‘ اس کا ایک ثبوت سرکاری اعداد و شمار سے سامنے آیا جن کے مطابق ملک کی صرف دس بجلی کمپنیوں کی حد تک بجلی کے نام پر‘ باقی کھانچے اس میں شامل نہیں‘ مالی سال 2022-23ء سے شروع کر کے مالی سال 2024-25ء کی کلوزنگ پر صارفین سے 1900 ارب روپے سے زائد بھاری ٹیکس کی وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ صرف گزشتہ سال بجلی استعمال کرنے والے صارفین سے 700 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا۔
زیرِ زمین پانی پر ٹیکس: ہم اس خطے کے باسی ہیں جہاں مشرق اور مغرب دونوں میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے چار ملکوں میں سے دو ملک چین اور بھارت ہمارے بارڈر پر ہیں۔ بھارت میں ٹیکس کے مقدمات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین میں Alternate Dispute Resolution کا قانون رائج ہے۔ عدالتیں کسی ٹیکس پیئر سے ہیرا پھیری یا دو نمبری پر انگریزی محاورے کے مطابق دم پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ امریکی ڈالر سو روپے سے نیچے لانے کے دعوے داروں نے ملک کو ٹیکسستان بنا چھوڑا ہے۔ سورج ٹیکس‘ گوبر ٹیکس کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے میں زیرِ زمین پانی ٹیکس کی تفصیل بھی آ گئی۔ جس گھر میں بورنگ ہو گی‘ واٹر پمپ ہو گا وہ ٹیکس دے گا۔ سرکاری نلکے پر دو ٹیکس پہلے سے موجود ہیں۔
ریفارمز پر سرکاری دروغ گوئی: ٹیکس نظام کو ہائبرڈ نظام نے سنجیدہ ادارے کے بجائے نوٹنکی بنا دیا ہے۔ کبھی ٹیکس جمع کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بڑھکیں‘ کبھی آئی ٹی کے ذریعے ٹیکس نظام کو ٹرانسپیرنٹ اور منصفانہ بنانے کی اداکاری۔ کبھی ٹیکس کنسلٹنٹ کمپنیاں لا کر زبانی کلامی ریفارمز کے دعوے۔ مگر ہر ایسے شغلیہ ریفارم پروگرام کے بعد پتا چلتا ہے کہ نہ تو ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھایا جا سکا ہے‘ نہ ہی ٹیکس سسٹم میں ریفارمز ہوئی ہیں۔ بڑے ٹیکس چور ٹیکس نہ دیں‘ اپنے بھاری خزانے‘ جائیدادیں دنیا کے دوسرے ملکوں میں بنائیں مگر وہاں جا کر اوورسیز پاکستانیوں کو کہیں کہ آپ پیسے پاکستان لے آئیں۔ ایسے نظام اور اس کے اہلکاروں پر کون اعتبار کرے گا۔ ابھی تک ''قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ والے زخم بھرے نہیں۔
انگلش لاء کی اصطلاح ہے Tainted hands۔ جن ہاتھوں پر کالک لگی ہو کوئی سفید پوش اسے کیوں گلے لگائے گا ؟ اور کون نوجوان اسے گال تھپتھپانے دے گا۔
راج دربار کی مناسبت سے یہ دو شعر موزوں ہوئے۔
بڈھوں کے ہاتھ آئے جوانوں کے محکمے
سارے ہی کاسہ لیس ترقی پسند ہیں
جتنے قصیدہ گو تھے‘ ہوئے اب وظیفہ خور
طُوطی جو بولتے تھے سب نظر بند ہیں