ڈاکٹر انور سجاد: رجحان ساز ادیب کی ساتویں برسی
وہ جدید اردو افسانے کے بانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے براہ راست ابلاغ کے افسانے تحریر نہیں کئے:ان سے پوچھا گیا کہ’ ادب برائے ادب‘ اور’ ادب برائے زندگی‘ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ’ ادب برائے انسان‘ کے قائل ہیں، انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا‘ وہ کئی ادیبوں سے متاثر تھے لیکن سب سے زیادہ سعادت حسن منٹو نے انہیں متاثرکیا‘ انہوں نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا پوری محنت سے کام کیا
ڈاکٹر انور سجاد کا سوانحی خاکہ
اصل نام :سید محمد سجاد انور علی بخاری ادبی نام:انور سجاد۔پیدائش :27مئی1935لاہور۔
تعلیم: ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا، وطن واپسی پر طب کا پیشہ اختیار کیا۔
اعزازات:جمالیاتی فنون کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات پر 1989ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
ڈرامہ نگاری:1965ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کیلئے ڈرامے لکھے اور ان میں بطور اداکار کام بھی کیا۔ اداکاروں اور فنکاروں کے حقوق و مفادات کیلئے 1970ء میں آرٹسٹ ایکٹویٹی کی بنیاد رکھی۔1970ء میں حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ برلن میں 1973ء میں ڈرامے اور موسیقی کا جو میلہ منعقد ہوا تھااس میں پاکستانی وفد کے رکن کی حیثیت سے شرکت کی۔لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔کچھ عرصہ کراچی میں بھی قیام کیا۔ انتقال: 84برس کی عمر میں 6جون 2019ء کو لاہور میں فوت ہوئے۔
ڈاکٹر انور سجاد نے جدیدیت کے امتزاج سے اپنا اسلوب وضع کیا تھا، گو ابتدا روایتی بیانیہ سے کی تھی۔ وہ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب برصغیر کے طول وعرض میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ جلیانوالہ باغ میں بے گناہوں کے قتل عام نے بھگت سنگھ اور ان کے سرفروشوں کو برصغیر کے لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنا دیا تھا۔ اسی طرح متعدد تحریکیں تھیں جو بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں سے جڑی ہوئی تھیں۔ ہر شخص کے سینے میں اس یقین کا علم لہراتا تھا کہ آزادی اب ملی کہ اب ملی۔ اس وقت مذہب، مسلک، زبان اور علاقے کے نام پر کوئی تفریق نہ تھی۔ وہ لاہور میں پیدا ہوئے اور یہاں کی سیاسی، ادبی اور علمی زندگی کو قریب سے دیکھا، انہوں نے پرانے لاہورکی گلیوں میں اس حسین خواب کو طلوع ہوتے دیکھا جو ہر شخص کی پلکوں پر سجا ہوا تھا۔یہی دن تھے جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اور پنجاب کے طول وعرض سے غریب اور بھک مری کے شکار خاندانوں کے نوجوانوں نے برٹش راج کی گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کے لیے اپنی جانیں پیش کر دیں۔ ان کے ذہن میں بس یہی خیال تھا کہ ان کے گھروں میں ہر ماہ بر وقت منی آرڈر پہنچے گا ۔ اس زمانے میں دوسری جنگ عظیم اور اس سے جڑی ہوئی بھوک ہمارے نوجوانوں کو ایتھوپیا، مصر اور فرانس کے محاذوں پر لے گئی۔یہ وہ معاملات تھے جن پر احمد ندیم قاسمی اور ہمارے دوسرے اہم ادیب کھل کر لکھ رہے تھے۔ اس صورتحال پر احتجاج ہو رہا تھا، سینوں میں طیش پل رہا تھا۔ آزادی کو ایک ہتھیار کے طور پر دیکھا اور برتا جا رہا تھا۔
انور سجاد کو ابتدائے عمر سے ادب پڑھنے کا ہوکا تھا، وہ طلسم ہوشربا اورطوطا کہانی کے ساتھ ہی قصص الانبیا اور دوسری کتابیں بھی پڑھتے تھے۔ محلے کی مسجد میں اذان بھی دیتے تھے اور سماج میں جو نئے رجحانات کروٹیں لے رہے تھے ان سے بھی آگاہ تھے۔ آخرکار یہ ہوا کہ وہ 1917ء میں روس میں آنے والے انقلاب، اس کی تاریخ اور اس کے ادب میں غوطہ زن ہوگئے اور جب اس بحرِ ذخار سے باہر آئے تو ان کے پاس وہ سنہری مچھلی تھی جس کے بدن پر انقلاب کی ست رنگی لہریں جھلملاتی تھیں۔آزادی جس کے خواب 40ء سے 80ء اور 90ء کی دہائی تک ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں نے دیکھے تھے وہ یکے بعد دیگرے بجھتے چلے گئے۔ انور سجاد اور ان کے ساتھی ادیب اپنے قلم سے آ مریت کے خلاف لڑتے رہے۔ ان میں سے کئی اپنی ملازمتوں سے فارغ کیے گئے۔ احمد داؤد فشارِ خون کو برداشت نہ کرسکے اور ان کی شریانوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔بقول زاہدہ حنا انور سجاد کی نگاہوں میں لاطینی امریکہ کے ادیب اور ان کی مزاحمت تھی لیکن ہمارے یہاں اس نوعیت کی مستحکم مزاحمت نہیں ہوئی جو تیسری دنیا کے معتوب لوگوں کا مقدر بدل دیتی ہے۔ وہ آ مریت کے خلاف اپنی تحریروں سے مزاحمت کرتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں۔
’’لانبی سبز گھاس میں چھپی کئی زبانوں کی تڑپ، جناتی کانوں کی طرف بڑھتے جلوسوں کی چاپ، پھانسی کے چوکھٹے کے ساتھ لگی سیڑھی پر چڑھتے دو شخص، پل پار کرتے لوگوں کی پیٹھوں پر کوڑے، نیزوں کے کچوکے سہہ کر اذیت میں کھلتے دہن یہ سب کچھ الیکٹرانک ساؤنڈ سسٹم سے بہتی موسیقی کے آہنگ سے بار بار بچھڑ جاتا ہے۔ جسے نیزوں، بھالوں، کلہاڑیوں، کیل دار کوڑوں کی ضربوں سے بار بار اس آہنگ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘
انور سجاد کا شمارکثیر الجہات شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ میڈیکل ڈاکٹر بھی تھے اور افسانہ نگار بھی۔ انہوں نے ٹی وی ڈرامے بھی لکھے اور ناول بھی تخلیق کئے۔مصور بھی تھے اور کہا جاتا ہے کہ رقص کے اسرارو رموز سے بھی آگاہ تھے۔27مئی 1935ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے انور سجاد 50ء کی دہائی میں ایف سی کالج کے طالب علم تھے۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور ایک مدت تک کلینک چلاتے رہے۔ کالج کے دنوں میں وہ یونین کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اس کے علاوہ کالج کے جریدے کے مدیر بھی تھے۔ انہیں اس جریدے کے مدیر ہونے پر ہمیشہ فخر رہا۔ یہ وہ جریدہ تھا جس کے مدیر کرشن چندر اور برصغیر کے کئی نامور ادیب بھی رہے۔ ایک دفعہ ان سے استفسار کیا گیا کہ کیا وہ دوبارہ طالب علم بننا پسند کریں گے تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ میں تو اب بھی طالب علم ہوں۔انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا۔ وہ کئی ادیبوں سے متاثر تھے لیکن سب سے زیادہ متاثر انہیں سعادت حسن منٹو نے کیا۔ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ کسی شعبے میں مہارت رکھتے ہیں البتہ ان کا یہ اصرار تھا کہ انہوں نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا وہاں پوری محنت سے کام کیا اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔
ڈاکٹر انور سجاد نے علامتی اور استعارتی افسانہ نگاری میں کمال حاصل کیا اور اس میدان میں ایک منفرد مقام پایا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’استعارے‘‘ اس کی بڑی مثال ہے۔ ان کے لازوال افسانوں میں کونپل، کارڈیک دمہ، کیکر، سنڈریلا اور دیگر کئی افسانے شامل ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد افسانہ نگاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جن میں بلراج مین را، سریندر پرکاش، رشید امجد، سمیع آہوجا، مظہرالاسلام اور منشایاد شامل ہیں۔ وہ جدید اردو افسانے کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے براہ راست ابلاغ کے افسانے تحریر نہیں کئے بلکہ ان کے افسانوں کی تکنیک مختلف تھی اور انہیں سمجھنے کے لئے قاری کو ذرا محنت کرنا پڑتی ہے۔ انور سجاد ترقی پسند ادیب تھے اور ان کے نظریات کی پرچھائیاں ان کی تحریروں میں ملتی ہیں۔ 1989ء میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایوارڈز انہیں دیئے گئے۔ڈاکٹر انور سجاد نے کئی ٹی وی ڈرامے بھی تحریر کئے اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے بھی نام کمایا۔ خاص طور پر ان کے طویل دورانئے کے ڈرامے بہت پسند کئے گئے۔ ان کی ایک ٹیلی فلم ’’ذکر ہے ایک سال کا‘‘ بھی بہت پسند کی گئی۔ ان کے ٹی وی ڈرامے پکنک، رات کا پچھلا پہر، کوئل، صبا اور سمندر اور یہ زمیں میری ہے، خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ انور سجاد نے کئی ٹی وی ڈراموں میں کام بھی کیا۔ ’’صبا اور سمندر‘‘ میں شاندار اداکاری پر انہیں سرکاری ٹی وی کے ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا۔ ان کی ایک ڈرامہ سیریز ’’زرد دوپہر‘‘ بھی بہت مشہور ہوئی۔ اس سیریز میں شجاعت ہاشمی نے یادگارکردار ادا کیا تھا۔ یہ ڈرامہ سیریز 90ء کی دہائی میں سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی۔ڈاکٹر انور سجاد پاکستان آرٹس کونسل لاہور کے چیئرمین بھی رہے۔ 1977ء میں وہ تھوڑے عرصے کیلئے سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
وہ پیپلز پارٹی کے جلسوں سے خطاب کرتے تھے اور یہاں انہوں نے ثابت کیا کہ وہ بہت اچھے مقرر بھی ہیں۔ کچھ مدت کیلئے ایک نجی چینل سے بھی وابستہ رہے جہاں سکرپٹ ڈیپارٹمنٹ ان کے پاس تھا۔ انہوں نے نہ صرف اعلیٰ درجے کے سکرپٹ لکھے بلکہ کئی کامیاب پروگراموں میں پس پردہ آواز بھی ان کی تھی۔ ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ادب برائے انسان کے قائل ہیں۔ پھر ایک نقاد نے ان سے جب یہ کہا کہ جدید افسانہ نگاروں نے زبان کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے تو انہوں نے سختی سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے جدید افسانہ نگاروں نے زبان کو بگاڑا نہیں بلکہ اسے نئی جہتوں اور زاویوں سے نوازا ہے۔ڈاکٹر انور سجاد ایک شفیق اور درد مند دل رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے اپنے کلینک میں نادار مریضوں کا مفت علاج کیا۔ وہ ایک بہت اچھے ڈاکٹر تھے۔ ان کے والد ڈاکٹر دلاور بھی اپنے علاقے(چونا منڈی ) کی مشہور شخصیت تھے۔
کبھی کبھی یہ سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیا ایک انسان اتنی جہتوں کا مالک ہو سکتا ہے۔ وہ بلا کے ذہین تھے اور وسیع المطالعہ بھی۔ ایسے لوگ کہاں روز روز پیدا ہوتے ہیں۔اردو کا یہ یگانہ روزگارادیب 84 برس کی عمر میں 6جون 2019ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔
تصانیف:
1۔رگ سنگ(ناول/ 1955)، 2۔استعارے،3۔آج،4۔پہلی کہانیاں، 5۔چوراہا،6۔زرد کونپل،7۔خوشیوں کا باغ، 8۔نگار خانہ( ٹیلی کہانیاں)،9۔صبا اور سمندر،10۔جنم روپ (ناول)، 11۔نیلی نوٹ بک،12۔رات کا پچھلا پہر،13۔رسی کی زنجیر،14۔رات کے مسافر،15۔تلاش وجود،16۔سورج کو ذرا دیکھ،17۔مجموعہ ڈاکٹر انور سجاد