اسلام میں راز داری

تحریر : مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی


انسانی وقار کا تحفظ اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل راز فاش کرنے سے جہاں دوسرے کی عزت مجروح ہوتی ہیں، وہیں آپس میں نفرت کا سبب بھی بنتا ہے جب کوئی شخص کوئی بات کہے پھر اِدھر اُدھر دیکھے (یعنی چاہے کہ یہ بات دوسروں تک نہ پہنچے) تو وہ بات امانت ہے (ابو داؤد)

انسانی زندگی کا حسن اس کے اخلاق، کردار اور باہمی تعلقات میں پوشیدہ ہے۔ ایک مہذب اور پرامن معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ انہی بنیادی اخلاقی اصولوں میں ایک نہایت اہم اصول ’’ حفظ السِر‘‘ یعنی راز کی حفاظت ہے۔ اسلام جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح کیلئے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ نہ صرف عبادات بلکہ معاملات، تعلقات اور اخلاقیات کے ہر پہلو میں اعتدال اور پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔ راز کی حفاظت بھی انہی تعلیمات کا اہم حصہ ہے، جو فرد کی عزت، معاشرتی اعتماد اور باہمی محبت کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

راز کی حفاظت کا 

مفہوم و بنیادی پہلو

راز کی حفاظت دراصل ایک امانت داری ہے، جو انسان کے اعلیٰ اخلاق کی علامت ہے۔ یہ دو بنیادی پہلوئوں پر مشتمل ہے۔

اپنے راز کی حفاظت

انسان کو چاہیے کہ اپنی ذاتی زندگی کے معاملات کو بلا ضرورت دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرے، خصوصاً وہ امور جو عیب یا گناہ سے متعلق ہوں۔ اگر کسی سے کوئی غلطی یا گناہ سرزد ہو جائے تو اسلام اس کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اسے پوشیدہ رکھے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے۔ اپنے گناہوں کو لوگوں میں بیان کرنا دراصل بے حیائی اور اللہ کی پردہ پوشی کے انعام کی ناقدری ہے۔

دوسروں کے راز کی حفاظت

اگر کوئی شخص اعتماد کے ساتھ اپنی کوئی خفیہ بات آپ کو بتاتا ہے تو اس کی حفاظت کرنا شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ کسی کے راز کو افشا کرنا نہ صرف اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ اس کی عزت و آبرو کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جو اسلام میں سخت مذموم عمل ہے۔

راز فاش کرنے کے نقصانات

انسان جب کسی کے راز کو افشاں کرتا ہے تو اس کے دو بنیادی نقصانات سامنے آتے ہیں۔

(1)ایک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ اس کے اور آپ کے درمیان دشمنی قائم ہو جاتی ہے یعنی آپ کے دل میں اس کیلئے یا اس کے دل میں آپ کیلئے نفرت قائم ہو جاتی ہے۔ جبکہ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی مسلمان کیلئے آپ کے دل میں کوئی منفی جذبات ہوں۔

(2) اس کا دوسرا نقصان رسوائی ہے۔ اگر آپ کسی کے راز کو افشاں کر رہے ہیںتو اس شخص کی عزت مجروح ہوگی کیونکہ بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق پوشیدہ باتوں سے ہوتا ہے اور یہ ایسے پوشیدہ معاملات ہوتے ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے آجائیں تو انسان کی عزت غیر محفوظ ہو جاتی ہے ۔

اخلاقی رہنمائی

اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے رازوں کو پوشیدہ رکھتا ہے اور ان کے عیوب کو ظاہر نہیں کرتا،ورنہ ہر شخص اپنے بارے میں جانتا ہے کہ وہ کتنا پاک و صاف ہے۔ اگر لوگوں کے عیوب لوگوں کے سامنے آ جائیں تو لوگ ایک دوسرے کا سامنا نہ کر سکیں۔

رازداری کی اہمیت 

حدیث کی روشنی میں

اسلام نے انسان کو جن اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا ہے، ان میں سے ایک اہم صفت راز داری ہے، جس کی تاکید ہمیں احادیث نبویہ میں بار بار ملتی ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے بدترین شخص وہ ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے، پھر وہ اس کا راز افشاں کر دیتا ہے (صحیح مسلم:  3542)۔ یہ حدیث اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ میاں  بیوی کے درمیان ہونے والے معاملات انتہائی نجی اور راز کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ راز صرف ایک فریق تک محدود نہیں بلکہ دونوں پر لازم ہے کہ وہ ان معاملات کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کریں۔ ازدواجی زندگی کی باتوں کو عام کرنا نہ صرف اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے بلکہ یہ ایک سنگین گناہ بھی ہے، جس پر قیامت کے دن سخت وعید سنائی گئی ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ’’جب کوئی شخص کوئی بات کہے پھر اِدھر اُدھر دیکھے (یعنی چاہے کہ یہ بات دوسروں تک نہ پہنچے) تو وہ بات امانت ہے‘‘ (جامع الترمذی: 1959، ابو داؤد: 4868)

صحابہ کرامؓکی زندگی 

رازداری کا عملی نمونہ

صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں بھی راز کی حفاظت کے بے شمار عملی نمونوں سے بھری پڑی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف نبی کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی رازداری کو ایک اہم اخلاقی اصول کے طور پر اپنایا۔ ذیل میں ان کے چند ایمان افروز واقعات باحوالہ پیش کیے جا رہے ہیں۔

سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا راز داری میں عظیم نمونہ:حضرت عمر بن خطاب ؓکی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہاجو کہ اُم المومنین بھی ہیں وہ جب بیوہ ہوئیں تو سیدنا عمر بن خطاب ؓنے ان کا رشتہ عثمان بن عفان ؓ کو پیش کیا تو انہوں نے یہ کہہ کہ معذرت کر لی کہ ابھی میرا نکاح کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ رشتہ انہوں نے ابوبکر صدیق ؓکوپیش کیا۔ ابوبکر صدیق  ؓ نے اس رشتے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا، نہ اقرار کیا اور نہ انکار بلکہ خاموش رہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓاس پر ناراض ہوئے،کچھ دنوں کے بعد نبی ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو اس وقت ابوبکر صدیق ؓنے عمر بن خطاب ؓسے کہا نبی کریمﷺ نے (مجھ سے) حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا (مجھ سے مشورہ لیا تھا کہ میں ان سے نکاح کرلوں)اور میں نبیﷺ کا راز فاش نہیں کرسکتا تھا۔(صحیح بخاری : 4005)۔ یہ بات انہوں نے بتائی نہیں جب تک نبی ﷺنے ان سے نکاح نہیں کر لیا۔ تو یہ بھی راز کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔

سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی سیرت میں راز کی حفاظت: نبی کریم ﷺکی وفات کے قریب آپ ﷺ کے پاس ان کی ازواج موجود تھیں ۔اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں ، نبی کریمﷺ نے ان کو خوش آمدید کہا اور ان کو اپنے پاس بٹھا لیا اور پھر ان سے ایک راز کی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر نبی ﷺ  نے ایک اور راز کی بات کہی تو وہ مسکرانے لگیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ ؓپہلے روئیں اور پھر ہنسی کیوں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نبیﷺ کا راز نہیں کھول سکتی۔ (صحیح بخاری: 3624) ، پھر جب نبی کریم ﷺکی وفات ہوگئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پھر اصرار کیا کہ آپؓ مجھے بتائیں کہ آپ ﷺ نے کیا بات کہی تھی، تو انہوں نے کہا کہ ہاں!اب میں بتا سکتی ہوں کہ وہ بات کیا تھی، فرماتی ہیں:  پہلی بات جو کہی تھی وہ یہ تھی کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ قرآن کا دور(دہرائی)کرتے ہیں، اس سال جبرائیل علیہ السلام نے دو مرتبہ میرے ساتھ قرآن کا دور کیا ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ یہ میری موت کے قریب ہونے کی علامت ہے یعنی میں موت کے قریب ہو چکا ہوں تو لہٰذا آپ میری موت کے بعد جزع اور فزع(رونا دھونا)نہیں کرنا بلکہ صبر کا مظاہرہ کرنا اس کو سن کر میں روئی تھی اور جس بات کو سن کر میں مسکرائی تھی وہ یہ تھی کہ:اے فاطمہ!کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ آپ مومنین کی عورتوں کی سردار ہوں گی(صحیح بخاری :6285)۔ اس حدیث کے اندر بھی جہاں اور بہت سی باتیں ہیں وہاں یہ کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ بات نبی کریمﷺکی زندگی میں نہیں بتائی بلکہ آپﷺکی وفات کے بعد بتائی۔

راز داری اور معاشرتی آداب

راز کی حفاظت صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کسی کی بات آگے نہ پہنچائی جائے، بلکہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان دوسروں کی نجی زندگی میں بلا ضرورت تجسس نہ کرے۔لوگوں سے یہ سوال کرنا کہ:وہ کہاں جا رہے ہیں؟ان کی آمدن کتنی ہے؟ان کے گھریلو معاملات کیسے ہیں؟یہ سب غیر ضروری مداخلت ہے اور اسلامی آداب کے خلاف ہے۔

رزداری ایک عظیم اسلامی قدر ہے جو انسان کو باوقار بناتی ہے اور معاشرے میں اعتماد، محبت اور احترام کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی امانت داری، راز داری اور اعلی اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دوسروں کی عزت و آبرو کا محافظ بنائے۔ آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حج کے بعد کی زندگی اصل امتحان!

’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو‘‘ (سورہ محمد) حج کی قبولیت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان گناہوں والی زندگی کو چھوڑ کر نیکیوں والی زندگی اختیار کرے

اعتدال طعام …سنت نبوی ﷺ

’’مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری)

علم کی حقیقت و اہمیت

’’اللہ تم میں ایمان والوں اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے کے درجات بلند فرمائیں گے‘‘(المجادلہ:11) ’’بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘(سورۃ الزمر: 9)

مسائل اور ان کا حل

بغیر وضو اذان دینا سوال :میں بحری جہازپر بطور انجینئر کام کرتا ہوں، وہاں باقاعدہ اذان ہوتی ہے اور نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔شپ پر سپیکر کا مائیک مسجد ایریا کے بجائے دوسری جگہ پر لگا ہوا ہے۔ جب اذان کا وقت ہوتا ہے توہم وہاں سے گزرتے ہوئے بغیر وضو کے بھی اذان پڑھ دیتے ہیں ؟میرا سوال یہ ہے کہ بغیر وضو کے اذان دینا کیسا ہے اور کیا مسجد کے بغیر بھی اذان دینا ٹھیک ہے ؟(محمد عثمان، کراچی)

جامع القرآن ،پیکر تسلیم و رضا،خلیفہ سوم، ذوالنورین شہادتِ حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ

قرآن مجید کی اشاعت اور ایک ہی قرات پر عالمِ اسلام کو متفق کر نا آپؓ کا عظیم کارنامہ ہے

پیکرِ جو دو سخا

اسلامی تاریخ کی بے مثال اور عہد آفرین شخصیت