صحت اور فراغت کے ساتھ سیاحت بھی مل جائے تو گویا تین حسین دیویاں آپ پر مہربان ہو گئیں۔ رات کو گہری نیند کی دیوی بھی مجھ پر مہربان رہی تھی۔ احسان اکبر کی باکمال نظم ''ایک دابی پور کماد کی‘‘ کے مصرعے کیسے ہر جگہ یاد آتے ہیں۔ ''اک پوری نیند کی شانتی تری کجلے والی لہر‘‘۔ ہوٹل کا ناشتہ بھرپور تھا اور اس میں مسافر کی شکم سیری کا سامان تھا۔ ہماری کوشش تھی کہ آج کا دن ضائع نہ ہو‘ رات آٹھ بجے ڈھاکہ واپسی کی فلائٹ تھی‘ اس لیے یہ دن ممکن حد تک چٹاگانگ کی ہریالی‘ پھولوں‘ پیڑوں اور ہواؤں کے ساتھ گزارنا لازمی تھا۔ سعود میاں! زمین کے اس ٹکڑے پر دوبارہ آنے کا وقت ملے نہ ملے‘ یہ فراغت یہ صحت پھر میسر ہو نہ ہو گی‘ کشید کر لو جو کشید کر سکتے ہو۔ہوٹل کو خیرباد کہہ کر خوشبو کشید کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ سامان ساتھ رکھا کہ ہمیں شام کو سیدھا ایئر پورٹ پہنچنا تھا۔ چٹاگانگ نیم پہاڑی علاقہ لگا۔ کافی حصہ میدانی لیکن یہیں سے چھوٹی سرسبز پہاڑیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو چٹاگانگ ہل ٹریکٹ کی صورت میں بھارتی سرحد سے جا ملتا ہے۔ بٹالی ہلز کا علاقہ شہر کے اندر ہے۔ اسے جلیبی ہلز بھی کہا جاتا ہے‘ اس لیے کہ اس کا گھومتا ہوا راستہ یہی یاد دلاتا ہے۔ یہاں پہلے ہمیں سینٹرل ریلوے بلڈنگ یعنی سی آر بی جانا تھا۔ اس قدیم علاقے میں اب بھی وہ ریلوے دفاتر‘ ہسپتال اور رہائشی عمارتیں موجود ہیں جو انگریز دور میں 1897ء کے لگ بھگ بنائی گئیں۔ یہ چٹاگانگ کی قدیم ترین عمارتوں میں سے ہیں۔ اترتے ہی اردگرد بہت سے غیر معمولی بڑے‘ قدیم اور چھتنار درختوں کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اتنے اونچے گھنے درخت عام طور پر دیکھے نہیں جاتے اور ان کے تنے اور شاخیں کہتی تھیں کہ یہ کم از کم سو ڈیڑھ سو سال پرانے ہیں۔ بعد میں کہیں پڑھا کہ یہ سریس یا شریش(Albiziak) ہیں اور ایک زمانے میں شریش میلہ بھی یہیں لگتا تھا۔ اس وقت بھی کچھ ملنگ ان کے سائے تلے بیٹھے تھے۔ درختوں کے بیچ سے سورج کی کرنیں چھن کر آتی تھیں۔ ہم ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چالیس پچاس سیڑھیاں چڑھے اور سی آر بی ہمارے سامنے تھی۔ سرخ رنگ کی عمارت نوآبادیاتی دور کی یادگار تھی‘ لاہور میں ریلوے سٹیشن اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز کی یاد دلاتی ہوئی! چٹاگانگ سے لاہور تک ایک طرزِ تعمیر‘ ایک ہی رنگ والی عمارتیں‘ جیسے جڑواں بہنیں ہوں۔ اس پہاڑی پر بھی گھنے درخت جابجا تھے۔ ان کی چھائوں خنک تھی اور ہوا تالی بجاتے پتوں سے سرسراتی ہوئی گزرتی تو لگتا کہ درخت باہم سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ عمارت آباد تھی۔ ایک سو تیس سال پہلے یہاں گورے بیٹھتے تھے اور گہرے رنگ کے مقامی ان کی ماتحتی میں چٹاگانگ کو لوہے کی پٹڑیوں کے ذریعے پورے ہندوستان سے جوڑتے تھے۔ گورے نے اپنا راج سمیٹا اور بنگالی ان کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ جنہوں نے یہ عمارتیں بنائی ہوں گی‘ اب کوئی ان کا نشان بھی نہیں جانتا۔ جانے کہاں کس مٹی میں پڑے ہیں‘ کوئی کتبہ ہے بھی یا نہیں۔ شریش کے پیڑو! سچ ہے 'انسان سے زیادہ درختو ں کی عمر ہے‘۔
ہم پھر سے چٹاگانگ کی سڑکوں پر رواں تھے۔ اب ہمیں شہرسے باہر قریب 15 کلومیٹر دور بھٹیاری جانا تھا۔ سیدھی میدانی سڑک آہستہ آہستہ بل کھاکر بتدریج پہاڑی راستے میں تبدیل ہوتی گئی۔ پُرہجو م ٹریفک پسپا ہوا اور شہر کی آوازیں پچھڑتی گئیں۔ ہم ایک لہراتے راستے پر چڑھائی کی طرف جا رہے تھے جہاں سبزہ‘ درخت‘ سکون اور سکوت اسے خوابناک بناتے تھے۔ ہم چلتے گئے۔ دائیں طرف ایک ریسٹورنٹ کا بورڈ آیا لیکن ابھی اور اوپر جانا تھا۔ درختوں کے سائے پوری سڑک پر پھیلے ہوئے تھے اور ہلکی ٹھنڈ لگنے لگی تھی۔ ہمیشہ کی طرح دور سے سڑک بند لگتی تھی اور آگے بڑھنے پر راستہ دیتی جاتی۔ سڑک ہو یا زندگی‘ دونوں کا مزاج‘ دونوں کا انداز ایک ہے۔ ایک چیک پوسٹ آئی اور بتایا گیا کہ آگے گاڑی کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہ بھٹیاری ہلز تھی جو بنگلہ دیش آرمی کے کنٹرول میں ہے۔ ہمسفر نے نگران سے بات چیت کی اور بتایا کہ پاکستان سے مہمان ہیں۔ ذرا سے تردد کے بعد اجازت ملی اور ہم مزید ایک دو کلومیٹر آگے کے لیے چل پڑے۔ میں سڑک کی خوبصورتی میں محو تھاکہ گاڑی رک گئی۔ ہمیں یہیں اترنا تھا۔ اترا تو یقین نہیں آیا کہ اتنی بلندی پر ایسی بڑی جھیل بھی ہو سکتی ہے۔ بائیں طرف ایک بڑی جھیل تھی جو ہمارے سامنے اور پیچھے لمبائی میں دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ سڑک کی دوسری طرف بھی اسی جھیل کا ایک حصہ تھا۔ اس پہاڑی سڑک پر جہاں ہم کھڑے تھے‘ سڑک کنارے گھنے درخت اور پودے تھے۔ سڑک کے دونوں طرف گہرائی تھی اور کافی نیچے سبز پانی جو دھوپ میں پارے کی طرح چمکتا تھا۔ میں نے سڑک کنارے سنگ میل پڑھا جو بتاتا تھا کہ یہاں سے ہاٹ ہزاری بہت قریب ہے۔ ہمارے بائیں ہاتھ جھیل کی طرف اترنے کا راستہ اور سیڑھیاں تھیں۔ یہاں دو فوجی کھڑے تھے۔ پچاس کے قریب سیڑھیاں اتر کر پانی میں لکڑی کا ایک خوبصورت پلیٹ فارم تھا جس کے ساتھ کئی کشتیاں اور موٹر بوٹس کھڑی تھیں۔ ہم سے ایک فوجی نے ٹکٹ مانگے جو پیش کر دیے گئے۔ پھر اس نے مجھ سے بنگالی میں کچھ کہا۔ میرا سوالیہ چہرہ دیکھ کر اس نے حذیفہ سے پوچھا کہ کیا یہ غیر ملکی ہے؟ کہاں سے ہے؟ یہ جان کر کہ میں پاکستانی ہوں وہ خوش ہوا اور مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ پھر اس نے ایک غیر متوقع جملہ کہا: ''پاکستان ہمارا بھائی ہے، بھارت بھی ہمارا بھائی ہے‘‘۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس نے بھارت کا ذکر کیوں کیا۔ ابھی ہم بات کر ہی رہے تھے کہ دوسرا فوجی وہاں سے چلا گیا۔ اس کے ذرا دور جاتے ہی اُس فوجی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ''پاکستان ہمارا سگا بھائی ہے‘ یہ میرے ساتھ ہندو فوجی ہے اس لیے مجھے بھارت کا نام بھی لینا پڑا لیکن یہ مجبوری تھی‘ اب وہ نہیں تو بتاتا ہوں کہ ہم صرف پاکستان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بہت پسندکرتے ہیں۔ جب میری تعیناتی سوڈان میں امن مشن میں ہوئی تھی تو کوئی ہمارا خیال نہیں کرتا تھا صرف پاکستانی فوجی ہماری مدد کرتے تھے‘‘۔ بنگلہ دیش میں ایک پاکستانی جب یہ جملے سنے گا تو اس کا سینہ فخر سے چوڑا کیوں نہیں ہو گا۔ اس نے ساتھ تصویر کھنچوانے سے منع کیا لیکن بعد میں اس شرط پر کھنچوا لی کہ اسے سوشل میڈیا پر نہیں لگایا جائے گا نہ اس کا نام ذکر کیا جائے گا۔
جھیل میں پانی ہلکا ہلکا چلتا تھا لیکن رکے ہوئے پانی کی بو نہیں تھی۔ ہم سیڑھیاں اتر کر پلیٹ فارم پر پہنچے۔ سامنے آبی پودے تھے جنہوں نے پانی کا کچھ حصہ ڈھک رکھا تھا۔ انہی کے بیچ کہیں کہیں کنول کے پھول نظر آتے تھے۔ موٹر بوٹ والے سے بات ہوئی اور ہم کشتی میں بیٹھ گئے‘ جس نے ہمیں آدھ گھنٹہ جھیل کی سیر کرانی تھی۔ جھیل کی چوڑائی زیادہ نہیں تھی لیکن لمبائی اتنی کہ تیس منٹ بعد بھی ہم اس کی حد تک نہیں پہنچ سکے۔ کناروں پر سبزے کی اتنی بہتات تھی کہ لگتا تھا یہ قدم بڑھا کر پانی میں اُتر آئے گا۔ کشتی والے نے اشارہ کیا اور ہم نے ایک بڑا لدھرکسی طرف جاتا دیکھا۔ کئی جگہ بڑی مچھلیاں بھی نظر آئیں۔ دور کنارے کے گھاس کے تختوں پر کئی جگہ مچھلی پکڑنے والے اپنی ڈوریاں پانی میں ڈالے بیٹھے تھے۔ بھٹیاری کی اس جھیل میں گزرے وقت کی یہ کشمکش یاد رہے گی کہ ہم اس مختصر وقت میں وڈیوز بنائیں‘ تصویریں کھینچیں یا سب ایک طرف رکھ دیں اورگہرے لمبے سانس لے کر شاداب ہوا کو روح میں اتار لیں۔ اس منظر کو دل میں محفوظ کریں یا تصویروں میں؟ یہ بڑا سوال تھا۔ سعود میاں! فراق کو بھی تو یہی سوال پیش آیا تھا:
وہ مخاطب بھی ہیں قریب بھی ہیں
ان کو دیکھیں کہ ان سے بات کریں