ویمن اِن گرین کابڑاامتحان

تحریر : زاہداعوان


سہ ملکی سیریز اور ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء

آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کا دسواں ایڈیشن 12 جون سے 5 جولائی 2026ء تک انگلینڈ اور ویلز کی میزبانی میں منعقد ہونے جا رہا ہے، جہاں دنیائے کرکٹ کی 12 بہترین ٹیمیں چیمپئن بننے کی جنگ لڑیں گی، جن میں میزبان انگلینڈ، گزشتہ ایڈیشن کی ٹاپ پانچ ٹیمیں، آئی سی سی رینکنگ کی دو اعلیٰ ترین ٹیمیں اور کوالیفائر رائونڈز کے ذریعے جگہ بنانے والی چار ٹیمیں شامل ہیں جبکہ ہالینڈ نے تاریخ میں پہلی بار کوالیفائی کر کے سب کو حیران کیا ہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم بطور دفاعی چیمپئن اپنے اعزاز کا تحفظ کرنے میدان میں اترے گی۔

 پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم، جسے ’’ویمن ان گرین‘‘بھی کہا جاتا ہے،نے اپنے سفر کا آغاز اوائل 1997ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میچ سے کیااور اسی سال کے آخر میں بھارت میں منعقدہ ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی، جبکہ ٹیم نے اپنا پہلا تاریخی ٹیسٹ میچ اپریل 1998ء میں سری لنکا کے خلاف کھیلا۔ 

اپنے ابتدائی برسوں میں پاکستانی ٹیم کو اعلیٰ سطح کی خواتین ٹیموں میں سب سے کم مسابقتی ٹیموں میں شمار کیا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ 1997ء میں پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے کے بعد یہ ٹیم طویل عرصے تک کوالیفائی نہ کر سکی اور بارہ سال کے تعطل کے بعد 2009ء کے ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔تاہم وقت کے ساتھ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور وہ اب تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تمام ایڈیشنز، ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز میں باقاعدگی سے شرکت کر رہی ہے۔

 اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جائے تو9 مئی 2009ء میں آئرلینڈ کے خلاف اپنے پہلے میچ سے لے کر اب تک پاکستان نے مجموعی طور پر 187 بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں جن میں سے 75 میں کامیابی، 105 میں شکست، 3 ٹائی اور4 بغیر نتیجے کے رہے۔  ورلڈ کپ کے مقابلوں میں گرین شرٹس نے تمام 9 ایڈیشنز کے 36 میچوں میں شرکت کی جہاں انہیں 9 میں فتح اور 26 میں ہار کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر مستقل مزاجی اور بڑے میچ جیتنے کی صلاحیت میں ابھی مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ 

موجودہ صورتحال میں، قومی ٹیم نوجوان اور باصلاحیت آل رائونڈر فاطمہ ثنا کی قیادت میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء کی تیاریوں کے سلسلے میں آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈبلن میں سہ ملکی سیریز کھیل رہی ہے۔ سیریز کے دو میچ کھیلے جا چکے ہیں اور دونوں ہی میچوں میں ویسٹ انڈیز ویمن کو آئرلینڈ اور پاکستان کیخلاف کامیابی ملی ہے۔ اس سیریز کو  ورلڈ کپ کیلئے کمبینیشن کو حتمی شکل دینے کیلئے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

موجودہ سکواڈ کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں منیبہ علی، گل فیروزہ، عائشہ ظفر، ارم جاوید، ایمان فاطمہ اور عالیہ ریاض جیسی ہونہار بیٹرز موجود ہیں، وہیں بائولنگ کو مضبوط کرنے کیلئے نتالیہ پرویز، سائرہ جبین، طوبیٰ حسن، رامین شمیم، سعدیہ اقبال، نشرہ سندھو، ڈیانا بیگ اور تسمیہ رباب کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ ایمان فاطمہ، نتالیہ پرویز، رامین شمیم، سائرہ جبین اور تسمیہ رباب پہلی مرتبہ عالمی سٹیج پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں

فاطمہ ثناء:برق رفتار پاکستانی بلے بازوکپتان

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت فاطمہ ثناء کر رہی ہیں، جن کا شمار تیز ترین خواتین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تیز ترین بلے بازی کا مظاہرہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آنے والی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف کیا تھا۔

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭