قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار
پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں
پاکستان میں کرکٹ کے جنون اور تاریخی فتوحات کا جب بھی ذکر ہوتا ہے، لاہور کے قذافی سٹیڈیم کا نام سب سے نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہ صرف ایک کھیل کا میدان نہیں بلکہ ملکی کرکٹ کی تاریخ، جذبات اور کئی یادگار ریکارڈز کا امین ہے۔
قذافی سٹیڈیم کی تعمیر 1959ء میں معروف ماہرِ تعمیرات نصر الدین مراد خان کی نگرانی میں ہوئی، اور اس کا ابتدائی نام’’لاہور سٹیڈیم‘‘رکھا گیا تھا۔ 1974ء میں لیبیا کے صدر معمر قذافی کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کی حمایت میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے دوران کی گئی تاریخی تقریر کے بعد اس کا نام بدل کر ’’قذافی سٹیڈیم‘‘رکھ دیا گیا۔ اپنی تعمیر کے وقت اس خوبصورت سٹیڈیم میں تقریباً60 ہزار سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، تاہم 1996ء کے ورلڈ کپ کے موقع پر جب اس کی پہلی بڑی تزئین و آرائش کی گئی اور تمام سٹینڈز میں باقاعدہ کرسیاں نصب کی گئیں تو گنجائش کم ہو کر تقریباً 27 ہزار تک محدود ہو گئی۔آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی2025ء کے انعقاد کے پیشِ نظر اس سٹیڈیم کی جدید خطوط پر دوبارہ مکمل تعمیر نو کی گئی، جس کے بعد اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیااورتماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش کو ایک بار پھر بڑھا کر تقریباً 35 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان کر دیا گیا ہے تاکہ شائقینِ کرکٹ عالمی معیار کی سہولیات کے ساتھ میچز سے لطف اندوز ہو سکیں۔
اگر قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے مجموعی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ میدان قومی ٹیم کیلئے ہمیشہ سے ایک مضبوط قلعہ ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے اس تاریخی میدان پر ٹیسٹ، ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی ٹونٹی فارمیٹس کو ملا کر مجموعی طور پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں۔ ان میچوں میں پاکستان کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے جہاں قومی ٹیم نے 65 سے زائد میچوں میں شاندار فتوحات حاصل کیں، جبکہ تقریباً 40 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیسٹ میچوں کی روایت کے مطابق متعدد مقابلے ڈرا پر ختم ہوئے۔ یہاں کی پچز عام طور پر بلے بازوں کیلئے سازگار اور اسپنرز کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے یہاں کئی بڑے ہائی سکورنگ معرکے اپنے نام کئے ہیں۔
آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کے ہوم ریکارڈ اور قذافی سٹیڈیم کے مقابلوں کا تجزیہ کیا جائے تو دونوں ٹیموں کے درمیان اس میدان پر اب تک تمام فارمیٹس (ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹونٹی) میں مجموعی طور پر 25 سے زائد میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ ان مقابلوں میں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت ٹکر دیکھنے کو ملی ہے، جس میں پاکستان کا جیت کا تناسب تقریباً 40 سے 45 فیصد کے قریب رہا ہے، جبکہ کینگروز نے بھی اس میدان پر پاکستانی کنڈیشنز کو بھانپتے ہوئے کئی یادگار فتوحات سمیٹی ہیں۔
آسٹریلیا کی ٹیم ایک بار پھر ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کیلئے پاکستان کی سرزمین پر موجود ہے اور شیڈول کے مطابق قذافی سٹیڈیم لاہور میں 2 اور 4 جون کو دو اہم ترین ون ڈے میچز کھیلے جانے ہیں۔ تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس سے قبل قذافی سٹیڈیم کے تاریخی میدان پر پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 11 ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے جا چکے ہیں۔ ان 11 معرکوں میں سے 5 میچوں میں کینگروز نے میدان مارا جبکہ 6 میچوں میں پاکستان نے آسٹریلیا کو دھول چٹائی۔ خاص طور پر 2022ء کی تاریخی سیریز کے دوران اسی میدان پر پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ریکارڈ ہدف عبور کر کے ون ڈے میچ جیتا تھا اور سیریز اپنے نام کی تھی۔ اب جون کے ان تپتے دنوں میں ہونے والے دو ون ڈے میچ جہاں دونوں ٹیموں کے اعصاب کا امتحان ہوں گے، وہیں قذافی سٹیڈیم کی نئی اور جدید عمارت میں شائقین کرکٹ کو ایک بار پھر روایتی حریفوں کے درمیان سنسنی خیز اور تاریخی مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
شاہین بمقابلہ کینگروز
قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 11 ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن میں سے 5 میچوں میں کینگروز نے میدان مارا جبکہ 6 میچوں میں پاکستان نے آسٹریلیا کو دھول چٹائی۔
سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز
قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک روزہ میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں شعیب ملک سرفہرست ہیں، جنہوں نے 23 میچ کھیل کر 1030 رنز بنائے ہیں۔ ان کا بہترین سکور 115 رنز ہے۔ وہ قذافی سٹیڈیم میں 3 سینچریاں اور 6 نصف سینچریاں بنا چکے ہیں۔ اس میدان میں ٹی 20 کے سب سے بہترین بلے باز بابر اعظم ہیں، جنہوں نے26 میچ کھیل کر 877رنز بنائے ہیں۔ ان کا بہترین سکور 101 رنز ناٹ آئوٹ ہے۔
زیادہ سے زیادہ مجموعی سکور
ایک روزہ میچز میں اس میدان میں سب سے زیادہ مجموعی سکور پاکستان کا ہے ، 26 مئی 2015ء کو کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے زمبابوے کیخلاف 3 وکٹس کے نقصان پر 375 رنز بنائے تھے ۔ ٹی 20 میں 209 رنز کا سب سے زیادہ مجموعہ انگلینڈ نے جوڑا تھا۔ اس نے یہ کارنامہ 2اکتوبر2022ء کو کھیلے گئے میچ میں پاکستان کیخلاف 3 وکٹوں کے نقصان پر سر انجام دیا تھا۔ویمن کرکٹ کی بات کی جائے تو اس میدان میں پاکستانی خواتین کی ٹیم نے آئرلینڈ کے خلاف 335 رنز بنائے تھے اور ان کی صرف3وکٹس گری تھیں۔