خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم
آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا
انگلینڈ اور ویلز میں شیڈول آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء نے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی کامیابیوں کی نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور ٹکٹوں کی ریکارڈ فروخت نے اس ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا ہے۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے میں تقریباً ایک ماہ باقی ہے، لیکن شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کی بدولت ایک لاکھ پینتالیس ہزار سے زائد ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں، جو کہ آسٹریلیا میں منعقدہ 2020ء کے ورلڈ کپ کی مجموعی حاضری کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنے کیلئے کافی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف خواتین کی کرکٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاس ہے بلکہ یہ اس کھیل کے عالمی منظر نامے پر ایک نئے دور کا پیش خیمہ بھی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ افتتاحی میچ تک ٹکٹوں کی فروخت کا یہ عدد ڈیڑھ لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ برطانیہ اور دنیا بھر کے شائقین کرکٹ اس میگا ایونٹ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز برمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا، تاہم اس سے قبل ٹیموں کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کیلئے کارڈف، ڈربی اور لوفبرو میں وارم اپ میچز کا ایک جامع شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔ 6 جون سے 10 جون تک جاری رہنے والے ان مشقی میچوں میں دنیا کی بہترین ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جس سے شائقین کو اپنے پسندیدہ ستاروں کو ایکشن میں دیکھنے کا بھرپور موقع ملے گا۔
آئی سی سی اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے کی گئی مارکیٹنگ مہم’’سپرٹ ویک‘‘اور ٹرافی ٹور جیسے اقدامات نے ایونٹ کے گرد ایک ایسا جادوئی ماحول پیدا کر دیا ہے جس نے نہ صرف روایتی کھیلوں کے مداحوں بلکہ عام عوام کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ بالخصوص’’کرکٹ 4 گڈ‘‘جیسی مہمات کے ذریعے مقامی کمیونٹیز اور نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی ستاروں سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے، جو اس ایونٹ کے سماجی اثرات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
آئی سی سی کے حکام اور ٹورنامنٹ انتظامیہ کے مطابق یہ سنگ میل خواتین کے کھیل کو فروغ دینے کے طویل مدتی عزم کی کامیابی ہے۔ 12 بہترین عالمی ٹیموں کے درمیان ہونے والا یہ 24 روزہ مقابلہ نہ صرف انگلینڈ اور ویلز کے سات تاریخی مقامات پر کھیلا جائے گا بلکہ یہ نشریاتی اور حاضری کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ میدان میں پہلی گیند پھینکے جانے سے پہلے ہی آسٹریلیا جیسے بڑے کرکٹنگ ملک کا ریکارڈ ٹوٹنا اس بات کی گواہی ہے کہ خواتین کی کرکٹ اب ایک عالمی برانڈ بن چکی ہے۔ جیسے جیسے ایونٹ قریب آ رہا ہے، شائقین کے جوش و خروش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 2026 ء کا یہ ایڈیشن خواتین کے کھیلوں کی تاریخ میں ایک یادگار باب کے طور پر درج ہوگا، جہاں کرکٹ کا حقیقی جذبہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آئے گا۔
آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء میں شرکت کیلئے پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم بھرپور عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کیلئے تیار ہے، جس کیلئے پی سی بی نے ٹیم منٹور وہاب ریاض کی قیادت میں ایک جامع تربیتی اور سیریز کا پروگرام تشکیل دیا ہے۔ قومی ٹیم کی تیاریوں کا آغاز حال ہی میں زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز سے ہوا، جہاں پاکستان نے ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کرنے کے بعد ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی اپنی برتری برقرار رکھی، بالخصوص عائشہ ظفر کی شاندار سنچری اور فاطمہ ثنا کی عمدہ بائولنگ نے ٹیم کے مورال کو بلند کیا ہے۔ ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل پاکستان ٹیم آئرلینڈ میں ایک سہ فریقی ٹی 20 سیریز میں بھی شرکت کرے گی جس میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی شامل ہوگی۔ یہ سیریز مئی کے آخر اور جون کے آغاز میں کلونٹارف کرکٹ کلب میں کھیلی جائے گی جو کھلاڑیوں کو انگلینڈ کے موسمی حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے گی۔
ورلڈ کپ کے باضابطہ آغاز سے قبل پاکستان کارڈف اور ڈربی میں دو وارم اپ میچ کھیلے گا، جس میں پہلا مقابلہ 6 جون کو سری لنکا اور دوسرا 9جون کو سکاٹ لینڈ کے خلاف ہوگا، تاکہ ٹیم اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر میگا ایونٹ کیلئے مکمل طور پر تیار ہو سکے۔
ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج میں پاکستان کے میچوں کا شیڈول انتہائی سخت اور دلچسپ ہے، جہاں گرین شرٹس اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے بڑے مقابلے سے کریں گی۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم 17 جون کو اسی مقام پر جنوبی افریقہ کا سامنا کرے گی، جبکہ 20 جون کو ٹیم یوٹیلیٹی بال میں بنگلہ دیش کے خلاف میدان میں اترے گی۔ گروپ مرحلے کے آخری دو اہم میچ 23 جون کو آسٹریلیا کے خلاف ہیڈنگلے اور 27 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف گلوسٹر شائر میں کھیلے جائیں گے۔
ٹیم کی قیادت نوجوان فاطمہ ثناء کر رہی ہیں اور سکواڈ میں سدرہ امین، منیبہ علی اور نشرہ سندھو جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ امبر کائنات اور سائرہ جبین جیسی باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد انگلینڈ اور ویلز کی مشکل کنڈیشنز میں بہترین نتائج حاصل کرنا اور پہلی بار ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔