خطبہ حجۃ الوداع

تحریر : مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان


احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے

نبی اکرمﷺ نے کار نبوت کا آغاز کوہ صفا سے کیا تھا۔ آپﷺ کی باتیں اہل مکہ کے کانوں تک پہنچیں تو وہ آپﷺ کے مخالف اور جان کے دشمن بن گئے۔ مخالفت کی انتہا ہو گئی تو آپﷺ کو اپنے اصحابہؓ کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرناپڑی لیکن جس کام کا آغاز آپﷺ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا سے کیا تھا اور شدید مجبوری کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نقل مکانی کی تھی۔ اس کی تکمیل بھی وہیں آ کر ہوئی ، جسے میدان عرفات کہا جاتا ہے۔ یہیں آپﷺ نے اپنا تاریخ ساز خطبہ دیا، جسے ’’حجۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس خطبہ کے بعد قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی جس میں تکمیل دین کی صراحت کی گئی: ’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔ (المائدہ: 3)

10ھ میں آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ حج ادا کیا اور آپﷺ نے انسانی حقوق کے تحفظ کا عالمی و ابدی خطبہ دیا۔اختتام خطبہ پر پورے مجمع نے بیک آواز کہا بیشک آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو ہم تک پہنچا دیا اور اسے ہم دوسروں تک پہنچائیں گے۔ اس اقرار کا عملی نمونہ بھی انہوں نے آپﷺ کی زندگی میں اور آپﷺ کے دنیا سے وصال کر جانے کے بعد پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلام مختصر مدت میں دنیا کے دور دراز خطوں میں پہنچ گیا۔

خطبہ حجۃ الوداع

خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ نے انسانیت کی عظمت، احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے۔ آپﷺ کی پوری زندگی انسانیت نوازی اور تکریم انسانیت کی تعلیمات سے عبارت ہے۔ آپﷺ کی حیات مبارکہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور عملی نفاذ کے حوالے سے خطبہ فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ حج کے دن حضورﷺ عرفہ تشریف لائے اور آپﷺ نے وہاں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھلنے لگا تو آپﷺ اپنی اونٹنی (قصویٰ) پر بطن وادی میں تشریف فرما ہوئے اور اپنا وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں دین کے اہم امور بیان فرمائے۔ امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی نے خطبہ حجۃ الوداع کے درج ذیل اہم نکات تحریرکیے ہیں۔

آپ ﷺ نے خطبے کی یوں ابتدا فرمائی۔ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا، اس نے اپنے بندے (رسول) کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے باطل کی ساری مجتمع قوتوں کو زیر کیا۔ لوگو! میری بات سنو، میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے۔

مساواتِ اِنسانی کا تصور

 ’’لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے‘‘۔ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے‘‘۔

نسلی تفاخر کا خاتمہ

قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں۔

زندگی کا حق

’’لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسی اس دن کی اور اس ماہ مبارک (ذی الحجہ) کی خاص کر اس شہر میں ہے۔ تم سب خدا تعالیٰ کے حضور جاؤ گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس فرمائے گا۔ دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ہی کشت و خون کرنے لگو‘‘

مال کے تحفظ کا حق

’’اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے‘‘۔

اَفرادِ معاشرہ کا حق

لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

خادموں کا حق

 اپنے غلاموں کا خیال رکھو،انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔

لاقانونیت کا خاتمہ

دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا، زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلاانتقام جسے میں کالعدم قرار دیتا ہوں، میرے اپنے خاندان کا ہے۔

نومولود کا تحفظِ نسب

بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا سنگساری ہے، ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاں ہو گا۔

قرض کی وصولی کا حق

قرض قابلِ ادائیگی ہے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دو اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے، وہ تاوان ادا کرے۔

ملکیت

کسی کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے۔

میاں بیوی کے حقوق

عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اِجازت کے بغیر کسی کو دے۔ دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت نہ کریں، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو خدا کی جانب سے اجازت ہے کہ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ۔

قانون کی اِطاعت

میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، اگر اس پر قائم رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور ہاں دیکھو، دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک ہوئے۔

اللہ کے حقوق

لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو،روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو، اپنے خدا کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل اَمر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

اِنصاف کا حق

 آگاہ ہو جائو! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہو گا، اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اور نہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا۔

پیغامِ ہدایت 

سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔

نبی اکرمؐ کا حق

اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (خدا کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپﷺ نے امانتِ (دین) پہنچا دی اور آپﷺ نے حقِ رِسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔

اثرات و نتائج

خطبہ کے آخر میں آپﷺ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچادیا ہے؟ تو تمام حاضرین نے اقرار کیا کہ بے شک آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک پہنچادیا ہے۔ حاضرین کے اقرار پر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے فرمایا: اے اللہ، تو گواہ رہنا۔ اس کے بعد آپﷺ نے دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہمیشہ کیلئے امتِ محمدیہﷺ کو سونپتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’جو لوگ حاضرہیں، وہ غائب تک پہنچا دیں، ہو سکتا ہے کہ جس کو (اللہ تعالیٰ کا پیغام) پہنچایا جائے، وہ حاضر کی نسبت اس کو زیادہ یاد رکھنے والا ہو‘‘(صحیح بخاری، حدیث: 67)

  رسول اللہﷺ کے اس پیغام کے اوّلین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے۔ سیرتِ صحابہؓ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ نے ان کو جو مشن تفویض فرمایا تھا، اس کی بجا آوری میں صحابہ کرامؓ نے ہر دستیاب موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

حج کا روحانی فلسفہ

ہر سال لاکھوں مسلمان دنیا کے مختلف حصوں سے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں تاکہ حج جیسے مقدس فریضے کو ادا کر سکیں۔ حج کا آغاز ذوالحجہ کے مہینے میں ہوتا ہے۔

فرض حج نہ کرنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ کیلئے بیت اللہ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں‘‘ (رواہ الترمذی)

یوم عرفہ! برکتوں اور رحمتوں کا دن

جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں اس دن کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔ یہ دن بہت ہی برکتوں اور رحمتوں کا دن ہے، اس دن کی بڑی فضیلت ہے۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔