یوم عرفہ! برکتوں اور رحمتوں کا دن

تحریر : مولانا قاری محمد سلمان عثمانی


جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں اس دن کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔ یہ دن بہت ہی برکتوں اور رحمتوں کا دن ہے، اس دن کی بڑی فضیلت ہے۔

 اسی روز اسلام کی تکمیل اور نعمتوں کا اتمام ہوا تھا۔ سیدنا حضرت عمر فاروق اعظمؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا حضرت عمرؓ سے کہا کہ اے امیر المومنینؓ آپ ایک آیت قرآن مجید میں پڑھتے ہیں اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن مناتے۔سیدنا فاروق اعظم فرمانے لگے وہ کون سی آیت ہے؟ اُس نے کہا ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا(المائدہ)۔ تو حضرت عمرؓ فرمانے لگے: ہمیں اس دن اور اس جگہ کا بھی علم ہے جب یہ آیت نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی۔ وہ جمعہ کا دن تھا اور حضور پاک ﷺ عرفہ میں تھے۔ یہ عرفہ میں وقوف کرنے والوں کیلئے عید کا دن ہے۔ 

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یوم عرفہ اور یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل ایمان کیلئے عید کے دن ہیں اور یہ سب کھانے پینے کے دن ہیں۔ حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت جمعہ اور عرفہ کے دن نازل ہوئی اور یہ دونوں ہمارے لئے عید کا دن ہے۔ یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ نے قسم اٹھائی ہے۔ عظیم الشان اور مرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان چیز کی اٹھاتی ہے اور یہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ نے اپنے اس فرمان میں فرمایا کہ وشاہد ومشہود (البروج) حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے ۔

 سیدنا حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب کریم ﷺ نے ارشا د فرمایا کہ (یوم موعود قیامت کا دن اور یوم مشہود عرفہ کا دن اور شاہد جمعہ کا دن ہے)۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور یہی دن الوتر بھی ہے جس کی اللہ نے اپنے اس فرمان میں قسم کھائی ہے (والشفع والوتر) ’’اور جفت اور طاق کی قسم‘‘ (الفجر)۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ الشفع عید الاضحی اور الوتر یوم عرفہ ہے۔ اس بابرکت دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ حضرت قتادہؓ سے مروی ہے کہ آقا کریمﷺ  نے عرفہ کے دن کے روزہ کیلئے فرمایا کہ یہ گزرے ہوئے اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ یاد رہے کہ یہ روزہ حاجی کیلئے رکھنا مستحب نہیں، اس لئے کہ نبی پاکﷺ نے اس کا روزہ ترک کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ رسول پاکﷺ نے یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ 

یہ وہ مقدس یوم ہے جس میں میدانِ عرفات میں وقوف کرنے والوں کے گناہوں کی بخشش اور آگ سے آزادی ملتی ہے۔ سیدہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ کسی اور دن میں اپنے بندوں کو آگ سے آزاد نہیں کرتا اور بلاشبہ اللہ ان کے قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے ان سے فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔

 حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کے ساتھ فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میرے ان بندوں کو دیکھو میرے پاس گرد و غبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں۔اللہ اس دن میں ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادات کرنے، روزہ رکھنے، ذکر و درود و سلام پڑھنے، اپنے گناہوں پر نادم ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔  آمین

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

خطبہ حجۃ الوداع

احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے

حج کا روحانی فلسفہ

ہر سال لاکھوں مسلمان دنیا کے مختلف حصوں سے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں تاکہ حج جیسے مقدس فریضے کو ادا کر سکیں۔ حج کا آغاز ذوالحجہ کے مہینے میں ہوتا ہے۔

فرض حج نہ کرنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ کیلئے بیت اللہ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں‘‘ (رواہ الترمذی)

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے

عید کی سچی خوشی !

فضہ اور نور بہت اچھی سہیلیاں اورہمسائی ہیں۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتیں اور اکثر ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی مدد لیتیں۔