فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ
فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں
فٹ بال کی دنیا کا سب سے بڑا میلہ، فیفا ورلڈ کپ 2026، اس بار نہ صرف اپنی وسعت بلکہ جغرافیائی اور سیاسی تناظر میں بھی تاریخ ساز ہونے جا رہا ہے۔ شمالی امریکہ کے تین ممالک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار 48 ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ تاہم حالیہ مہینوں میں جو ٹیم سب سے زیادہ خبروں میں رہی، وہ ایران کی قومی فٹ بال ٹیم ہے۔
فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا۔ ایران ایونٹ میں گروپ جی میں موجود ہے جہاں اس کا مقابلہ بیلجیئم، مصر اور نیوزی لینڈ سے ہوگا۔ ایرانی ٹیم کے تینوں گروپ میچ امریکہ میں شیڈول ہیں۔ خیال رہے کہ ایران کی ایونٹ میں شرکت پر شبہ اس وقت پیدا ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ ایران نے بائیکاٹ کی دھمکی دی اور فیفا سے درخواست کی کہ میچ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کیے جائیں، لیکن یہ درخواست مسترد کردی گئی۔تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں ۔
ایران نے فیفا ورلڈکپ میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میگا ایونٹ میں شرکت کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وزارتِ کھیل و نوجوانان نے ٹیم کی شرکت کیلئے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ یہ تیاریاں وزیر کھیل کی ہدایت پر کی گئی ہیں تاکہ ٹیم کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ فیفا صدر جیانی انفانتینو نے 16 اپریل کو کہا تھا کہ ایران ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا۔وہ اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، کھلاڑی کھیلنا چاہتے ہیں۔ کھیل کو سیاست سے الگ ہونا چاہیے۔
دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اٹلی کی ٹیم کے ورلڈ کپ میں شامل ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ چار بار کی عالمی چیمپئن اٹلی مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امریکی ایوان صدر کے قریبی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ ایران کی جگہ اٹلی کو شامل کیا جائے، لیکن اٹلی کے وزیر کھیل آندرے ابودی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کھیل کے اصولوں کی پاسداری کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں جگہ صرف’’پچ‘‘پر جیت کر بنائی جا سکتی ہے، کسی سیاسی فیصلے سے نہیں۔
ایران کا اپنے گروپ جی میں انتہائی مضبوط ٹیموں سے سامنا ہو گا۔ بیلجیئم(یورپی فٹ بال کی ایک بڑی قوت ہے)،مصر( افریقی خطے کی سخت جان ٹیم ہے)، نیوزی لینڈ ’’ اوشنیا‘‘ (Oceania) کی نمائندگی کرتی ہے۔ایران کے تمام گروپ میچز امریکہ کے مختلف شہروں میں شیڈول ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کیلئے بیلجیئم اور مصر جیسی ٹیموں کے خلاف پوائنٹس حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، ٹیم کی فارم اور عزم کو دیکھتے ہوئے اسے کمزور تصور نہیں کیا جا سکتا۔
فیفا ورلڈکپ 2026ء کی نمایاں خصوصیات کا جائزہ لیا جائے تو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ٹورنامنٹ کی میزبانی تین ممالک کر رہے ہیں۔اس بار32 کے بجائے 48 ٹیمیں شرکت کریں گی، جس سے چھوٹے ممالک (جیسے ازبکستان اور اردن)کو پہلی بار عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔اس میگا ایونٹ کی میزبانی کے بعد میکسیکو دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جس نے تین بار(1970ء، 1986ء اور 2026ء)ورلڈ کپ کی میزبانی کی ہے۔فیفا ورلڈکپ کے شیڈول کی واپسی ہوئی ہے یعنی قطر ورلڈ کپ کے برعکس یہ ٹورنامنٹ دوبارہ اپنے روایتی وقت یعنی جون اور جولائی میں منعقد ہوگا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026ء صرف ایک کھیل نہیں بلکہ عالمی اتحاد کا امتحان بھی ہے۔ ایران کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ فٹ بال کے میدان میں گیند کی گردش سیاسی سرحدوں اور جنگی حالات سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ 11 جون سے شروع ہونے والا یہ ٹورنامنٹ دنیا بھر کے شائقین کے لیے سنسنی خیز مقابلوں کی نوید لے کر آ رہا ہے۔