مرزا غالب کی عصری معنویت
شاعری اپنے مزاج اور ماہیت کے اعتبار سے کسی مخصوص زمانے میں شاعر کے وجدان یا تجربات و مشاہدات کا عکس تو ضرور ہوتی ہے مگر معرضِ اظہار میں آتے ہی وہ لا زمانی بھی بن جاتی ہے۔
اسی باعث کسی بھی بڑی شاعری کی وقتی معنویت اس کے لیے بہت جلد نا کافی محسوس کی جانے لگتی ہے۔ اردو شاعری کی پوری تاریخ میں یہ بات جس حد تک مرزا غالب کی شاعری پر صادق آتی ہے اس حد تک اس کا مصداق کسی اور کو قرار دیا جانا مشکل ہے۔ یہی وہ بنیادی مقدمہ ہے جس کی بنیاد پر مرزا غالب کی عصری معنویت کو مختلف زمانوں میں متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان کی شاعری اگر بعد کے زمانے کی فکری یا عملی صورتحال کا آئینہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کے اسباب و علل کیا ہیں؟
گزشتہ تین چار دہائیوں میں غالب کی شاعری پر کبھی جدید ذہن کے حوالے سے، کبھی عصرِ جدید میں غالب کی معنویت کے نقطہ نظر سے اور کبھی عہدِ جدید سے غالب کی مناسبت کے سیاق و سباق میں متعدد مضامین لکھے جا چکے ہیں جن میں نمائندہ نقادوں نے غالب کی معاصر معنویت کی توجیہیں پیش کی ہیں اور اس طرح کسی نے نظریاتی اور کسی نے تفہیمی انداز میں غالب کے شعری طریق کار اور لا زمانی اندازِ فکر کو اپنے اپنے طور پر سمجھا ہے۔بعض نقادوں نے غالب کے یہاں وہ کلیدی الفاظ تلاش کیے ہیں جو اپنی استعاراتی معنویت کے سبب کلام غالب میں ایسی طلسمی فضا تخلیق کرتے ہیں جو وقتی سے زیادہ لا زمانی اور تاریخی سے زیادہ عصری تناظر کی حامل بن جاتی ہے۔ بعض لکھنے والوں نے بعد کے زمانے کی شاعری پر غالب کے اثرات کی نشاندہی کے ذریعے غالب کی ہمہ گیری کا نقشہ کھینچا ہے اور بعض نے روایتی موضوعات اور لفظیات کے بر خلاف نسبتاً ایک نیا ڈکشن بنانے کے سبب غالب کو مختلف زمانوں میں با معنی اور اثر انداز بنانے پر اصرار کیا ہے۔
غالب اور دانشِ حاضر کے مسئلے پر غور کرتے ہوئے پہلا سوال تو یہ سامنے آتا ہے کہ دانشِ حاضر سے ہماری مراد کیا ہے ؟ تو اس ضمن میں پہلی وضاحت تو یہ ہے کہ یہاں دانشِ حاضر سے مراد معاصر دانش بھی ہے اور ہماری عام عصری صورتحال بھی۔ اس صورتحال میں آج کے زمانے کی وہ عام سوجھ بوجھ سب سے پہلے شامل ہے جس کو بنانے میں تاریخی اور سماجی ارتقا کے تمام محرکات روبہ عمل رہے ہیں، جسے سائنس کی ترقی اور ہماری فکری اورسماجی حکمت عملی نے بڑی حد تک غیر قطعی انسانی رویوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ غالب کی عصری معنویت پر غور کرنے والے بیشتر نقادوں نے اگر غالب کے بعد سے لے کر آج تک کی شاعرانہ کاوشوں میں غالب سے کسبِ فیض کے رجحان کا ذکر کیا ہے تو اس کا سبب بھی غالب کے غیر قطعی رویے کو بتایا ہے تا کہ یہ واضح کیا جاسکے کہ عصری معنویت زمانی تغیر و تبدل کے ساتھ کیونکر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
اگر ہم دانشِ حاضر کو ہم عصر دانشوری کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں تو دوسرے فاضل نقادوں کی طرح ہمیں پہلے اس بات کا تعین کرنا پڑے گا کہ آج کی دانشوری کن بنیادی مسائل اور سوالات سے نبرد آزما ہے شاید یہ وضاحت نا مناسب نہ ہو کہ گزشتہ صدی کے نصف اول میں بالعموم اور جدید ادبی رجحانات کے فروغ کے ساتھ بالخصوص جن فلسفیانہ موشگافیوں کے سبب تنہائی، مایوسی اور انسان کی داخلی شکست و ریخت سے جدید انسان کو مزاحم دیکھا گیا تھا۔مگر آج کی بدلی ہوئی صورتحال میں جب دنیا کے عالمی گاؤں میں تبدیل ہو جانے ، ذرائع ابلاغ کے غیر معمولی و فور یا پھر کسی ایک جگہ پر کسی مخصوص فلسفیانہ رویے کے فروغ کو آنکھ جھپکتے ہی عالمی سطح پر قبول کر لیے جانے کا امکان اپنی آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے تو کسی فکری اور فلسفیانہ زاویہ نظر سے اپنی مناسبت تلاش کر لیے جانے کا امکان بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے عالم میں آج کوئی بھی انسانی رویہ مشکل سے ہی مشرق و مغرب یا شمال و جنوب میں تقسیم کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم انسانی رویوں کے تنوع کو ہنوز کسی خاص نظریے یا اصطلاح میں قید کر کے دیکھنا آسان نہیں۔ اس لیے شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ دانشِ حاضر کی سب سے بڑی شناخت اس کا تنوع اور رنگا رنگی ہے۔ یہی سبب ہے کہ شعری اظہار کی ماہیت اور اس کے پس منظر میں موجود افکار تک کے بارے میں دانشِ حاضر نہ تو کسی فکر کو حتمی قرار دینے کی روادار ہے اور نہ شعری اظہار کو کسی مخصوص خانے میں رکھ کر دیکھنے کا انداز قابل قبول رہ گیا ہے۔