مروڑ اس لیے کہ ایران گھٹنے نہیں ٹیک رہا‘ امریکہ کے سامنے لیٹ نہیں رہا‘ امریکہ کی ہر لایعنی بات کو مان نہیں رہا۔ اس لیے وہ نادر شخصیت جو وائٹ ہاؤس میں براجمان ہے ‘ دانت پیس رہی ہے۔ اس کا بس نہیں چل رہا نہیں کہ ایران کو نیست و نابود کردے۔ اسرائیل کی کیا بات کرنا وہ تو شرارت پہ تلا ہوا ہے اور امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ کر اپنا مفاد پورا کر رہا ہے۔ مسئلہ تو امریکہ کا بنا ہوا ہے اور امریکہ کی وجہ سے ساری دنیا کا مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ تیل اور گیس کی قیمتیں اوپر چڑھ گئی ہیں۔ یہ معاشی ٹیکہ ساری دنیا کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ بیوقوفی کے نتائج سے نکلنے کے لیے امریکہ تکیہ کس پر کر رہا ہے؟ پاکستان پر‘ لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ نیک نیتی سے ثالثی کر سکتا ہے‘ ایران کے گھٹنے ٹِکوا نہیں سکتا۔ ایرانی ہماری بات سُن رہے ہیں لیکن ہماری باتوں کی وجہ سے اُنہوں نے زمین پر ڈھیر تو نہیں ہونا۔ لہٰذا امریکی صدر دانت پیسے جا رہا ہے۔
گھمنڈ تب کام آتا ہے جب آپ کی بات چلے‘ آپ کے ہتھکنڈے بارآور ثابت ہوں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ بغیر وجہ کے‘ بغیر اشتعال کے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ تو کر دیا‘ اس امید پر کہ ایران کی اسلامی ریاست ڈھیر ہو جائے گی اور امریکہ جو چاہے اس کے ساتھ کر سکے گا۔ ایسا ہوا نہیں‘ ایرانیوں نے حملے سہہ لیے‘ تباہی مول لے لی لیکن ڈٹے رہے اور امریکہ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے۔ صرف یہ نہیں انہوں نے پورے گلف میں تباہی پھیلا دی اور علاقے میں ہر امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ تباہی سہہ لی‘ نقصان اٹھایا‘ لیکن تباہی امریکہ‘ اسرائیل اور خطے میں امریکن اتحادیوں کو بھی پہنچائی۔ یہاں تک ہی نہیں بلکہ ایران نے آبنائے ہرمز کا گلا گھونٹ دیا اور اس ایک اقدام کے اثرات پوری دنیا تک پھیل گئے۔ اور امریکہ کا انوکھا صدر دھمکیاں دیتا اور دانت پیستا رہ گیا۔ آج تک صورتحال یہی ہے کہ صدر ٹرمپ پریشانی میں پھنسے ہوئے ہیں‘ دھمکیاں دیے جا رہے ہیں لیکن اپنے پیدا کردہ مخمصے سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ پاکستان کی ثالثی پر زور ہے کہ کچھ کرو‘ ہم کر بھی رہے ہیں‘ لیکن اگر امریکی میزائل اور بمبار ایران کو سرنڈر نہیں کرا سکے تو ہماری نیک نیتی کی وجہ سے تو ایران نے ہتھیار نہیں ڈالنے۔
چڑھائی کی کوئی وجہ ہو یا نہ ہو چڑھائی کرنے والے کی چڑھائی کامیاب نہ ہو تو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ امریکہ کی چڑھائی کامیاب نہیں ہوئی‘ سچ تو یہ ہے کہ اس کے دانت کھٹے پڑ گئے ہیں‘ لیکن مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ امریکہ اپنی بیوقوفی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ وجہ وہی پرانی ہے کہ پیچھے ہٹے تو ناک کٹ جائے گی‘ دنیا کیا کہے گی‘ امریکہ میں خود عوام کیا کہیں گے کہ کچھ حاصل نہیں ہوا تو جھک مارنے کی ضرورت کیا تھی۔ اس سبکی کے ڈر سے وائٹ ہاؤس مفلوج الحال ہو گیا ہے۔ ایران کے ہاتھوں سبکی ہو بھی گئی لیکن عقل کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ناک کٹ جائے گی۔ مسئلہ ناک کا بنا ہوا ہے‘ پاکستان کو چھوڑیے کوئی حکیم لقمان بھی اس بیماری کا علاج کیا کرے؟ ایرانی کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ جنگ ختم کرو اور جنگ بندی کا مطلب ہے ہر محاذ پر جنگ ختم ہو بشمول جنوبی لبنان کے۔ یعنی امن کی ایک شرط یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو لگام دیں۔ دوسرا ایرانی یہ کہہ رہے ہیں کہ یورینیم افزودگی کی ایک حد تک پابندی کے لیے وہ تیار ہیں۔ 2015ء کا جو معاہدہ تھا اس میں افزودگی پر پابندی 3.67 فیصد کی تھی۔ اتنی افزودگی سے نیوکلیئر ہتھیار نہیں بن سکتا۔ اب بھی وہ ایسا ہی کرنے کو تیار ہیں لیکن افزودہ یورینیم جو اُن کے پاس ہے اسے امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یعنی نیوکلیئر معاملے پر ایرانی ہر لچک دکھانے کو تیار ہیں لیکن اپنا منہ کالا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ اس بات پر مُصر ہے کہ گو اس کی چڑھائی کامیاب نہیں ہوئی‘ گو حملے کے مقاصد پورے نہیں ہوئے‘ پھر بھی ایران اپنا منہ کالا کرے اورامریکہ کے ہاتھوں بے عزت ہونے کے لیے تیار ہو ۔ ایرانی اس بات سے انکار کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ جو جنگ کی صورت میں آپ حاصل نہیں کر سکے مذاکرات کی میز پر تو ہم آپ کو دے نہیں سکتے۔ اس پر امریکی مزید دانت پیسنے لگ جاتے ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت شروع ہو لیکن اس گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول رہے گا۔ یعنی ایران یہ بات تسلیم کروانا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر حاکمیت (Sovereignty) ایران کی ہے۔ اس بے وجہ کی جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہی تو نکلا ہے کہ آبنائے ہرمز پر حاکمیت ایران کی قائم ہو گئی ہے۔ یعنی جو مسئلہ پہلے تھا ہی نہیں امریکہ نے اس جنگ کی وجہ سے مسئلہ بنا دیا ہے۔ اور اب امریکی شور مچا رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اِن سے کوئی پوچھے کہ آپ کے حملے سے پہلے تو کوئی رکاوٹ نہیں تھی‘ آپ نے ایسی صورتحال کیوں پیدا کی کہ ایرانی حاکمیت کی صورت میں رکاوٹ بن گئی؟ یعنی پنگا لیا تو اس کے نتائج اب بھگتو۔
ساتھ ایرانی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم سے رعایت مانگ رہے ہیں تو اپنی طرف سے بھی کچھ رعایت دیں۔ ایرانی تیل کی تجارت پر معاشی پابندیاں ختم کریں اور جو ہمارے منجمد اثاثے ہیں ان کو ہمارے حوالے کریں۔ اس پر بھی امریکہ خفگی میں مبتلا ہے۔ ان عقلمندوں سے کوئی پوچھے کہ پنگا آپ کا‘ جارحیت آپ کی‘ مذموم عزائم آپ کے‘ ایرانی قیادت پر قاتلانہ حملے آپ کے‘ اور یہ سب جب کامیاب نہیں ہوئے تو بیوقوفی کے مطالبات بھی آپ کے۔ ایران کا حشر وہ ہوتا جو ونیزویلا کا ہوا پھر آپ اپنی مرضی کرتے۔ ایران پر حکم چلاتے‘ من مانیاں کرتے۔ پرانے حساب چکاتے۔ اسلامی ریاست کو بے عزت کرتے۔ جب ایسا آپ کر نہیں سکے پھر تو کچھ لچک آپ پر لازم ہو جاتی ہے۔ ابھی تک ایسی لچک کی منطق کو ماننے کے لیے امریکہ تیار نہیں لیکن عارضی معاہدہ کوئی ہوتا ہے تو امریکہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی لچک دکھانی پڑے گی۔ کڑوا گھونٹ نگلنا پڑے گا۔ بھلے بعد میں فتح کے ڈھول پیٹے جائیں کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔ دروغ گوئی اور افسانہ تراشی میں امریکی صدر ویسے بھی بہت ماہر ہیں۔ کچھ یہاں مہارت زیادہ دکھانی پڑے گی کیونکہ دنیا پر واضح ہو گیا ہے کہ ایران حملے کے نتیجے میں امریکہ کا پلڑا کمزور پڑ گیا ہے اور اپنی بات منوانے میں وہ ناکام رہا ہے۔
کسی معاہدے کی خاطر پاکستانی قیادت تو لگی ہوئی ہے اور اس کے کردار کا اعتراف ہر کوئی کر رہا ہے۔ لیکن جہاں امریکی مطالبات حقیقت پسندی سے اتنے دور ہوں وہاں پاکستان کیا کر سکتا ہے؟ امریکی صدر کو کیسے کہا جائے کہ حضور ذرا اپنی حماقت کو کم کیجئے اور اگر آپ ایسا کریں تو جھٹکے میں امن معاہدہ تشکیل پا جائے۔ لیکن ٹرمپ اپنے ہی ہوا کے گھوڑوں پر سوار ہیں‘ لیکن ایک نئی بات ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بھی احساس بڑھ رہا ہے کہ جتنا جلد اس بلنڈر سے نکلا جائے اتنا صدر ٹرمپ کے لیے بہتر ہے۔ بس ناک کی بات رہ گئی ہے کہ جیسا بھی معاہدہ ہو امریکی پبلک کے سامنے اسے فتح کی صورت میں کیسے پیش کیا جائے۔