بوعلی سینا کے اقوال

تحریر : روزنامہ دنیا


بو علی سینا980ء میں پیدا ہوئے اور 1037ء میں وفات پائی۔ وہ اسلام کے سنہری دور کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

 وہ طبیب، ماہر لسانیات، شاعر اور سائنس دان تھے۔ بوعلی سینا نے تقریباً 450کتب اور رسالے لکھے ۔ وہ فارسی اور عربی کے عالم تھے۔ آئیے ان کے چند اقوال پر نظر ڈالتے ہیں۔ 

٭: دل آزاری سب سے بڑی معصیت ہے۔

٭: زیادہ خوش حالی اور زیادہ بدحالی دونوں برائی کی طرف لے جاتی ہیں۔

٭: میری دو تمنائیں ہیں۔ اوّل یہ کہ خدا کا کلام سنتا رہوں، دوسری، خدا کا کوئی بندہ دیکھتا رہوں۔

٭: اتنا کھائو جتنا ہضم کرسکو، اتنا پڑھو جتنا جذب کرسکو۔

٭: بیماریوں میں سب سے بری بیماری دل کی ہے، اور دل کی بیماریوں میں سب سے بری دل آزاری ہے۔

٭: زندگی میں تین چیزیں نہایت سخت ہیں: (1) خوفِ مرگ، (2) شدتِ مرض، (3) ذلت قرض۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔

ڈریگون فلائی

ڈریگون فلائی کو بچے ہیلی کاپٹر بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ہیلی کاپٹر کی طرح آگے پیچھے اُڑ سکتی اور فضا میں کھڑی ہوسکتی ہے۔

خدایا ! ملے علم کی روشنی

خدایا ! ملے علم کی روشنی

ذرا مسکرایئے

بیٹا (باپ سے) :ابو آپ تو مجھ سے بالکل محبت نہیں کرتے جبکہ یہ پڑوس والے انکل اپنے بیٹے کو چاند اور تارا کہہ کر پکارتے ہیں۔

پہیلیاں

کوئی نہ چھین سکے اک شے،جس کی ہے بس اُس کی ہے