سندھ ، اصلاحات کے دعوے، مسائل برقرار

تحریر : طلحہ ہاشمی


سندھ کابینہ کا ایک اہم اجلاس چند روز قبل ہوا جس میں نظام حکمرانی، تعلیم، معیشت اور عوامی فلاح کے کاموں کے لیے اصلاحات کی منظوری دی گئی۔

فوتی کوٹے کی بحالی ،روہڑی سٹیشن کی اپ گریڈیشن اور 20ہزار کے قریب سکالر شپس کا اعلان بھی کیا گیا۔کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کسانوں اور تاجروں کے لیے بھی اعلانات کیے۔کہا گیا ہے کہ  فوتی کوٹے کے لیے مخصوص کیسز پر کام ہوگا اور میرٹ پر کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کی زیرصدارت ایک اور اجلاس بھی ہوا جس میں انہوں نے منصوبوں میں مالی نظم و ضبط اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ترقیاتی کاموں میں لاگت میں اضافہ یا غیرضروری ترمیم ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے مختلف منصوبوں کے لیے اربوں روپے جاری کردیے ہیں،لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ منصوبوں کی تعمیر میں تاخیر ہوتی ہے، وقت زیادہ لگنے سے لاگت بڑھ جاتی ہے، اربوں روپے تو یوں ہی اڑ جاتے ہیں اور ناقص کاموں کی وجہ سے تعمیراتی کام جلد ہی کھنڈر بن جاتے ہیں۔ کسانوں کے لیے ترغیبات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ کسانوں سے گندم کی خریداری کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی اورمحکمہ خوراک کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر کاشتکار کو ادائیگی کی جائے، اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ادھر کراچی میں سیاسی پارہ کچھ کچھ ہائی ہورہا ہے۔ جماعت اسلامی کے کراچی کو حق دو بینرز نے میئر مرتضیٰ وہاب کو ناراض کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینرز اور پوسٹرز سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ میئرنے بینرز اور پوسٹرز بنانے والوں کو خبردار کیا کہ ان کے کاروبار کو سیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سڑکوں کی غیرقانونی کھدائی روکنے کے لیے وجیلنس سکواڈ بھی بنا دیا ہے۔ ہمارے خیال میں میئر صاحب بینرز اور پوسٹرز کو جماعت اسلامی سے وابستہ نہ کریں بلکہ شاہراہوں یا دیواروں پر جس جماعت یا دوا بیچنے والے یا عامل بابا کا بھی بینر یا پوسٹر ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

خیرپور میں کاروکاری کے نام پرخاتون کے قتل کے وقوعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ غیرقانونی جرگہ کرنے والے وڈیرے کو بھی عدالتی حکم پر گرفتار کیا جاچکا ہے۔پولیس نے وڈیرے کا ریمانڈ بھی لے لیا ہے۔سوال یہ ہے کہ جرگہ ہوکیسے جاتا ہے؟ اس علاقے کی پولیس کہاں تھی؟ رپورٹس کے مطابق سندھ میں رواں برس کے تین ماہ میں 27خواتین سمیت 36 افراد کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ چاربرس میں 600 افراد کو ان الزامات کے تحت قتل کیا گیا، ان میں 466 خواتین اور 129مرد شامل تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی سب سے زیادہ بات کرنے والی پیپلز پارٹی کے اپنے صوبے میں یہ حالت ہے۔ جرگہ جب بھی ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی وڈیرا ہی ملوث پایا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملزمان کو نشان ِعبرت بنا دیا جائے، اتنی سرعت سے گرفتاریاں اور سزائیں ہوں کہ لوگ کسی خاتون کو کاری کے نام پر قتل کرنے کا سوچتے ہوئے بھی کانپ اٹھیں۔

ادھر کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹے سے زخمی 65سالہ بزرگ ہسپتال میں چل بسا۔ صوبے میں ریبیز سے اموات نوہوگئی ہیں۔ صوبے میں ہزاروں افراد کو کتے کاٹ چکے ہیں، آوارہ کتوں کے غول کے غول ہر طرف نظر آتے ہیں۔ سنا ہے کہ کسی نے کتوں کو تلف کرنے سے حکومت کو روک رکھا ہے۔ اگر حکومت کتے مارنا نہیں چاہتی تو ان کو پکڑ کر کسی ایسی جگہ رکھے جہاں وہ اپنی طبعی عمر پائیں لیکن کتوں کو نہ مارنے کی وجہ سے شہریوں کا مرنا تو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

امریکا ایران مذاکرات کا مستقبل۔۔۔؟

امریکہ ایران جنگ پاکستان کی کوششوں سے اپنے خاتمے کی جانب جا تی دکھائی دے رہی ہے۔

بیرونی محاذ پر پذیرائی ، داخلی استحکام کی ضرورت

امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کرانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے سے عالمی سطح پر پاکستان کی بھر پور پذیرائی ہوئی۔

جلسوں کی سیاست اور گورننس کے چیلنجز

پاکستان تحریک انصاف کے کریڈٹ پر 19اپریل کو ایک اور جلسہ آگیا۔یہ جلسہ بھی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے سلسلے میں کیاگیا۔جلسے کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کی۔

بلوچستان، سیاسی استحکام اور امن کی جدوجہد

صدر مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات نے نہ صرف صوبائی سیاسی ماحول کو گرما دیا بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا ہے۔

مہمان نوازی کے آداب‘ چھوٹی باتیں، بڑا اثر

ہمارے معاشرے میں مہمان نوازی صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک تہذیبی قدر ہے جسے عزت، محبت اور خلوص کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

نئی مہارتیں، نئی راہیں، سیکھنے کا سفر جاری رکھیں

آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سیکھنا صرف طلبہ یا نوجوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہر عمر کی خواتین کے لیے یہ لازمی ہو چکاہے۔