امریکا ایران مذاکرات کا مستقبل۔۔۔؟

تحریر : عدیل وڑائچ


امریکہ ایران جنگ پاکستان کی کوششوں سے اپنے خاتمے کی جانب جا تی دکھائی دے رہی ہے۔

 15 روزہ جنگ بندی کی پہلی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید طور پر منقسم ہے، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران پر اپنے حملے کو اس وقت تک روکے رکھیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے کوئی متفقہ تجویز پیش نہ کر سکیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس لیے میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل تیاری کی حالت میں رہا جائے؛ چنانچہ جنگ بندی اس وقت تک بڑھائی جاتی ہے جب تک کہ ان کی تجویز پیش نہ ہو جائے اور کسی بھی نتیجے کے ساتھ بات چیت مکمل نہ ہو جائے۔

صدر ٹرمپ کا یہ اعلان اور اس کے الفاظ بہت کچھ بتا رہے ہیں، ایک تو اس جنگ بندی کو کسی دن یا تاریخ کی ڈیڈ لائن کے  بغیر بڑھایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو ایران کی جانب سے متفقہ تجویز آنے تک بڑھایا ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے اندر قیادت ایک پیج پر نہیں ہے اور وہاں معاہدے کے معاملے پر مؤقف یکساں نہیں ہے، مختلف دھڑے مذاکرات پر الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔ اس کا تعلق حقیقت سے ہے یا نہیں مگر صدر  ٹرمپ کی جانب سے ایران کو کمزور دکھانے کی ایک حکمت عملی بھی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں صدر ٹرمپ فوری طور پر اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں وہیں وہ ایک دن میں کئی مرتبہ بیانات دے رہے ہیں کہ ڈیل کرنا ایران کی مجبوری ہے امریکہ کی نہیں، اور وہ اس سارے عمل میں امریکی بالادستی کو یقینی رکھنا اور دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ درجنوں بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کی فوج، نیوی اور ایئر فورس کو تباہ کر دیا ہے اور ایران کی جوہری طاقت ختم کر دی ہے، مگر ایرانی حکمت عملی انہیں مسلسل ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ امریکی قیادت اور اسرائیل جو اس جنگ میں شاید 48 گھنٹوں کا سوچ کر آئے تھے ایران میں رجیم چینج کا پلان ناکام ہوتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ اب صدر ٹرمپ نئی ایرانی قیادت جو کہ پہلی قیادت کا تسلسل ہے اسے ہی رجیم چینج کا نام دے رہے ہیں۔

امریکی صدر کی ایک چال نے ایران کو ٹف ٹائم دیا ہے جس کے اثرات آنا شروع ہو چکے ہیں۔ 13 اپریل کو جب امریکہ  کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا آغاز ہوا تو اس وقت تک اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ امریکی صدر دراصل اس اقدام سے کس حد تک کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا یہ اقدام کس حد تک سنجیدہ اور طوالت اختیار کرنے والا ہو گا  مگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے جہاں ہرمز پر صرف ایران کی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی وہاں اب امریکہ خود آ کر بیٹھ  گیا ہے اور ایرانی بندرگاہوں سے جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا۔ 17 اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹویٹ کر کے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا ہے تو یہ خبر پوری دنیا میں خوشی کی خبر بن گئی، اس کے بعد امریکی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مگر دوسری جانب امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو اگلے ہی روز ایران کی جانب سے ہرمز کو ایک مرتبہ پھر بند کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکہ نے ناکہ بندی جاری رکھ کر وعدہ خلافی کی۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جب تک امریکہ ایران سے آنے والے جہازوں کی آمد و رفت کو پوری طرح بحال نہیں کرتا اس وقت تک ہرمز کی سخت نگرانی رہے گی۔ آبنائے ہرمز دراصل وہ پوائنٹ بن چکا ہے جس کی بنیاد پر پہلے ایران اور اب امریکہ ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

چند روز قبل امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد اسے تحویل میں لے لیا گیا جسے ایران کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور امریکہ کے اسلام آباد میں مذاکرات کے حوالے سے چیزیں حتمی مرحلے میں پہنچ چکی تھیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ اتوار کو اعلان کیا کہ پیر کے روز اُن کے نمائندے ایران سے بات چیت کرنے کے لیے اسلام آباد میں ہوں گے۔ 20 اپریل پیر کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایرانی وفد امریکہ سے مذاکرات کیلئے نہیں جائے گا تاہم انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ پاکستان نے بھرپور سفارتی کوششیں کیں مگر  ایران کی جانب سے بدھ کے روز تک مذاکراتی ٹیم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایکس پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کی جانب سے باضابطہ جواب کا انتظار ہے اور پاکستان ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے قائل کرنے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو بتایا کہ جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مگر ایرانی قیادت نے معاملے غور کے لیے وقت مانگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کوملک سے باہر بھجوانے کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ 

ایسے میں اگر پاکستان سفارتی کوششیں جاری نہ رکھتا تو صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان نہ کیا جاتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ نے غیر معینہ مدت کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تو کیا اب مذاکرات آگے بڑھیں گے؟ کیا ایران امریکہ معاہدہ ہو گا یا یہ جنگ بندی یوں ہی ایک مستقل شکل اختیار کر لے گی؟ یہ سب شاید پہلے سے امریکی انتظامیہ کے ذہن میں تھا اور ہرمز کی ناکہ بندی ان کی جانب سے ایک سمارٹ حکمت عملی تھی۔ امریکہ کو اندازہ تھا کہ اس جنگ کو زیادہ طویل نہیں کیا جا سکتا مگر ایران کو دباؤ میں لائے بغیر معاہدے کی جانب بھی نہیں بڑھا جا سکتا۔ ہرمز کی ناکہ بندی کر کے امریکہ نے ایران کو معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بھی لاکھوں بیرل تیل ایکسپورٹ کر رہا تھا، جس کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ یہ ناکہ بندی نہ صرف اسے معاشی طور پر کمزور کر رہی ہے بلکہ سٹریٹجک لحاظ سے بھی ایران پر ایک بڑی نگرانی ہے۔ اب اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تو اسے معاشی مشکلات کے باعث اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے گی، جس میں کچھ وقت ضرور لگ سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بیرونی محاذ پر پذیرائی ، داخلی استحکام کی ضرورت

امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کرانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے سے عالمی سطح پر پاکستان کی بھر پور پذیرائی ہوئی۔

سندھ ، اصلاحات کے دعوے، مسائل برقرار

سندھ کابینہ کا ایک اہم اجلاس چند روز قبل ہوا جس میں نظام حکمرانی، تعلیم، معیشت اور عوامی فلاح کے کاموں کے لیے اصلاحات کی منظوری دی گئی۔

جلسوں کی سیاست اور گورننس کے چیلنجز

پاکستان تحریک انصاف کے کریڈٹ پر 19اپریل کو ایک اور جلسہ آگیا۔یہ جلسہ بھی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے سلسلے میں کیاگیا۔جلسے کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کی۔

بلوچستان، سیاسی استحکام اور امن کی جدوجہد

صدر مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات نے نہ صرف صوبائی سیاسی ماحول کو گرما دیا بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا ہے۔

مہمان نوازی کے آداب‘ چھوٹی باتیں، بڑا اثر

ہمارے معاشرے میں مہمان نوازی صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک تہذیبی قدر ہے جسے عزت، محبت اور خلوص کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

نئی مہارتیں، نئی راہیں، سیکھنے کا سفر جاری رکھیں

آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سیکھنا صرف طلبہ یا نوجوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہر عمر کی خواتین کے لیے یہ لازمی ہو چکاہے۔