مہمان نوازی کے آداب‘ چھوٹی باتیں، بڑا اثر

تحریر : آمنہ خان


ہمارے معاشرے میں مہمان نوازی صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک تہذیبی قدر ہے جسے عزت، محبت اور خلوص کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

 ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ مہمان خدا کی رحمت ہوتا ہے ،اسی سوچ کے تحت گھروں میں مہمانوں کی آمد کو خوشی اور برکت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بدلتے ہوئے دور میں جہاں مصروفیات بڑھ گئی ہیں وہاں مہمان نوازی کے انداز میں بھی کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس خوبصورت روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں سادگی، نفاست اور سمجھداری شامل کریں تاکہ مہمان بھی راحت محسوس کریں اور میزبان بھی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

 پہلا تاثر اہم ہوتا ہے

سب سے پہلے بات آتی ہے مہمانوں کے استقبال کی۔ ایک خوشگوار مسکراہٹ اور خلوص بھرا سلام مہمان کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ یہ چھوٹی سی بات بظاہر معمولی لگتی ہے لیکن یہی پہلا تاثر مہمانوں کے ذہن میں گھر کر جاتا ہے۔ خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہمانوں کے آنے سے پہلے خود کو اور گھر کے ماحول کو مناسب حد تک تیار رکھیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ  نہیں کہ گھر کو بے حد سجاوٹ یا غیر ضروری تکلفات میں مبتلا کیا جائے بلکہ صفائی، ترتیب اور سادہ خوبصورتی کو ترجیح دی جائے۔

گھر کا ماحول اور بیٹھنے کا انتظام

مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام بھی نہایت اہم ہے۔ ایک آرام دہ اور صاف ستھری جگہ جہاں روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہو، مہمانوں کو سکون فراہم کرتی ہے۔ اگر گھر چھوٹا ہو تو بھی تھوڑی سی ترتیب اور صفائی سے ماحول خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔  خواتین کو چاہیے کہ مہمانوں کی ضروریات کا اندازہ لگائیں مثلاً پانی، چائے یا کسی ہلکی پھلکی چیز کی پیشکش بروقت کریں۔

سادگی میں نفاست

کھانے پینے کی بات کی جائے تو ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ میزبان اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہمان نوازی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف میزبان کے لیے تھکن اور پریشانی کا باعث بنتا ہے بلکہ بعض اوقات مہمانوں کے لیے بھی تکلف کا سبب بن جاتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ سادہ مگر معیاری کھانے کا اہتمام کیا جائے۔ چند اچھی اور ذائقہ دار اشیا خوبصورت انداز میں پیش کی جائیں تو وہ زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔

شائستہ گفتگو

مہمانوں کے ساتھ گفتگو بھی مہمان نوازی کا اہم حصہ ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ مہمانوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، ان کی بات غور سے سنیں اور غیر ضروری سوالات یا ذاتی معاملات پر گفتگو سے گریز کریں۔ خاص طور پر ایسے سوالات جو مہمانوںکو غیر آرام دہ محسوس کروائیں جیسے آمدنی یا نجی زندگی کے معاملات، ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔

بچوں کی تربیت

بچوں کی تربیت بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ مہمانوں کے سامنے کیسے پیش آنا ہے۔ سلام کرنا، آہستہ بولنا اور شور شرابے سے گریز کرنا بنیادی آداب میں شامل ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی تربیتی باتیں نہ صرف گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہیں بلکہ بچوں کی شخصیت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہیں۔

وقت اور توجہ

ایک اور اہم پہلو وقت کی پابندی اور مہمان کے قیام کا دورانیہ ہے۔ اگر مہمان پہلے سے اطلاع دے کر آ رہے ہوں تو میزبان کو چاہیے کہ وقت کا خیال رکھیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا اور موبائل فون کے استعمال کو محدود رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ مہمانوں کو مکمل توجہ دی جا سکے۔

خوشگوار رخصتی

مہمانوں کے رخصت ہونے کا انداز بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ استقبال۔ خوشگوار انداز میں رخصت کرنا، دروازے تک چھوڑنے جانا اور دوبارہ آنے کی دعوت دینا مہمانوں کے دل میں اچھا تاثر قائم کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مہمان نوازی کا اصل حسن خلوص اور نیت میں ہے نہ کہ دکھاوے میں۔ اگر دل سے عزت اور محبت دی جائے تو سادہ سے سادہ  اہتمام بھی مہمانوں کے لیے یادگار بن جاتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مہمان نوازی کے آداب میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہی اصل میں بڑا اثر رکھتی ہیں اور یہی چھوٹی باتیں گھروں کو محبت اور خوشیوں کا گہوارہ بناتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

نئی مہارتیں، نئی راہیں، سیکھنے کا سفر جاری رکھیں

آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سیکھنا صرف طلبہ یا نوجوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہر عمر کی خواتین کے لیے یہ لازمی ہو چکاہے۔

آج کا پکوان:چکن مکھنی ہانڈی

اجزا : چکن بون لیس:ایک کلو ، پیاز:دو عدد، ٹماٹو پیوری:پانچ ٹیبل سپون، پسے بادام:چار ٹیبل سپون، ادرک لہسن پساہوا:دو ٹیبل سپون، پسی لال مرچ:ایک ٹیبل سپون،

علامہ محمداقبالؒ کا کلام :عشقِ بلاخیز کا قافلہ سخت جاں!

علامہ اقبالؒ کا کلام خودی، عشق اور فقر کی جس طِلائی مثلث پر استوار ہے،عشق اس کا مرکزی زاویہ ہے

ایران کی تہذیبی قوت اور اقبالؒ کی بصیرت

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیواشاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے:امم را ازشہان پایندہ ترداننمی بینی کہ ایران ماندوجم رفت

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل) 11:پشاور زلمی کی حکمرانی برقرار

پشاور زلمی کے کوشل مینڈس بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں سرفہرست، بائولنگ میں سفیان مقیم سب سے آگے، آل رائونڈ کاردگی کے لحاظ سے شاداب خان پہلے نمبرپر:بابراعظم نے پی ایس ایل میں 4ہزار رنز جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 100نصف سنچریوں کا سنگ میل عبور کر لیا، رائلی روسو پی ایس ایل میں 100 میچ کھیلنے والے پہلے غیرملکی کھلاڑی بن گئے

ایشین بیچ گیمز: پاکستانی دستے کا اعلان

22 سے 30 اپریل تک ہونیوالی گیمز میں 45ممالک کے 1790کھلاڑی قسمت آزمائیں گے:پاکستان کا40رکنی قومی دستہ چین کے شہر سانیا میں شیڈول 6 ویں ایشین بیچ گیمزمیں اتھلیٹکس، ہینڈبال، جوجتسو، کبڈی ،ٹرائی تھلون اور ریسلنگ میں حصہ لے گا