اسلام آباد مذاکرات نے تاریخ رقم کر دی

تحریر : عدیل وڑائچ


پوری دنیا امریکہ ایران جنگ کو رکوانے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان ہی اس وقت وہ ملک ہے جو اس خطرناک ترین جنگ کو رکوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 اس کی ثالثی کی بدولت ہی ابتدائی جنگ بندی ہوئی اور مستقبل قریب میں ایک تاریخی معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔اسلام آباد مذاکرات نے دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا جب پاکستان کی دعوت پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی اور ایران کی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی اعلیٰ سطح وفد اسلام آباد پہنچے۔ ان وفود کا اسلام آباد آ کر مذاکراتی میز پر بیٹھنا نہ صرف حیران کن تھا اور اس سے دونوں ملکوں کوپہلی مرتبہ بے مثال کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ 20 سے 21 گھنٹے کی مذاکراتی نشست میں ایران اور امریکہ ایک امن معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ اس میں فوری کامیابی نہیں مل سکی مگر آنے والے چند دنوں میں ہونے والے معاہدے کی بنیاد ڈال دی گئی۔

اسلام آباد مذاکرات کے دوران 11 اپریل کو پہلے امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم سے ملاقاتیں کیں، اس کے بعد دونوں ممالک کو کئی گھنٹوں کی نشست میں آمنے سامنے بٹھایا گیا۔ 12 اپریل کی صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی مگر  کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے کیونکہ ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اس امید کا اظہار کیا کہ بات چیت کا عمل جاری رہے گا اور امید ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سیز فائر برقرار رہے ۔ جے ڈی وینس کے واپس جانے کے بعد کچھ حلقوں نے یہ تاثر دیا کہ شاید مذاکراتی عمل ناکام ہو گیا ہے مگر حقیقت اس کے الٹ تھی۔ مذاکراتی عمل نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس نے مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی راہ ہموار کر دی اور سیز فائر تا حال برقرار ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ سے خطاب میں بتایا کہ پاکستان کی کاوشوں سے امریکہ ایران جنگ بندی برقرار ہے۔

دنیا بھر نے پاکستان کی ان کامیاب کاوشوں پر سکھ کا سانس لیا۔ عالمی مارکیٹ کو کسی حد تک سہارا ملا۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر دنیا کی بڑی طاقتوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔ اور تو اور اقوام متحدہ، جس نے اس جنگ کو رکوانے کیلئے کردار ادا کرنا تھا، وہ بھی پاکستان کی شکر گزار نظر آئی۔پاکستان نے اس تمام صورتحال میں انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور اس کے متعلقہ حکام کی جانب سے مذاکراتی عمل پر کوئی غیر ضروری گفتگو نہیں کی گئی جس پر کئی صحافتی حلقوں کی جانب سے اعتراض بھی کیا گیا مگر عقلمندی کا تقاضا یہی تھا کہ ایک میزبان کے طور پر پاکستان اس میں صرف فریقین کو بٹھانے کا کردار نبھائے اور حساس صورتحال کو خراب ہونے سے بچائے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ خود ایران اور امریکہ اسلام آباد میں ہونے والی مذاکراتی نشست کے دوران بات چیت کے نکات دنیا کے سامنے نہیں لائے۔ امریکہ کی جانب سے صرف ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سرسری سی بات کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے حوالے سے امریکہ نے کیا حل تجویز کیا یا آبنائے ہرمز کے مستقبل اور اس کے کنٹرول سے متعلق کیا اصل بات چیت ہوئی، کوئی بھی فریق سامنے نہیں لایا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران واقعی اس جنگ کے خاتمے کیلئے سنجیدہ ہیں اور جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں سے پس پردہ بہت بڑی پیش رفت ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے احکامات اور اس پر عملدرآمد بھی شروع ہوا مگر امریکہ اس سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔  صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ چین بہت خوش ہے کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں، میں یہ کام ان کیلئے بھی کر رہا ہوں اور پوری دنیا کیلئے بھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیش نہیں آئے گی۔ صدر ٹرمپ مئی میں ہونے والے دورۂ چین سے قبل اس صورتحال سے نکلنا چاہتے ہیں۔

 جنگ کے مکمل خاتمے کیلئے امریکہ اور ایران ایک مرتبہ پھر پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں بیٹھنے کے خواہشمند ہیں۔ خود امریکی صدر عندیہ دے رہے ہیں کہ آنے والے چند دنوں میں اسلام آباد میں دوبارہ ایک نشست ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک جانے کے امکانات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہ ہو۔ ایرانی عہدیدار بھی کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد میں مذاکرات ہماری پہلی ترجیح ہیں۔ ترجمان ایرانی دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اب جو مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کیلئے ہوں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ایران پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر گزشتہ روز تہران پہنچے جہاں انہوں نے ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی قیادت کو اہم پیغام پہنچایا۔اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر بڑی بیٹھک سجنے جا رہی ہے اور اس مرتبہ دونوں فریق حتمی معاہدے کیلئے ہی بیٹھیں گے۔ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے تاریخی معاہدہ اس کی کوششوں سے ہو رہا ہے اور اس کا کریڈٹ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جاتا ہے۔بلاشبہ آج کا پاکستان دنیا میں تاریخی مقام حاصل کر چکا ہے۔

11 اپریل کو ہونے والا اسلام آباد مذاکرات کا پہلا سیشن درحقیقت ایک بڑی کامیابی ہے، اس نے ایک ایسی بنیاد قائم کر دی ہے جس پر آنے والے دنوں میں امن کی عمارت کھڑی ہوگی۔ اگر یہ امن معاہدہ ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایران سے پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو یہ خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس معاہدے کی تکلیف شاید صرف انہیں ہو جو پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنا چاہتے تھے اور خطے کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے تھے ۔ امن اور سلامتی کے معاملے میں سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر اسلامی ممالک کا انحصار مستقبل میں پاکستان پر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور آنے والے کچھ عرصہ میں مزید شراکت داریاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جہاں پاکستان اور سعودی کے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہونے جارہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ مہنگائی زدہ عوام کو کون جوابدہ ہے؟

بیرونی محاذ خصوصاً سفارتی حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث دنیا میں پاکستان کی زبردست پذیرائی ہوئی ہے اور امریکہ ایران تنازعے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔

کراچی: بحران در بحران

سیاست کا مطلب بات چیت، دلیل اور مفاہمت ہے، اور سنا تو یہی تھا کہ سیاستدانوں کی قوتِ برداشت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے اور یہی قوت تنقید برداشت کرنے اور غلطیاں درست کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

مردان جلسہ، وزیر اعلیٰ کا امتحان

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 19پریل کو مردان میں جلسے کا اعلان کیاگیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ ایک تاریخی جلسہ ہوگا جس کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع ہیں ۔

بیانات نہیں عملی اقدامات کی ضرورت

بلوچستان اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل دیا۔

13ویں آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج، سیاسی سرگرمیاں تیز

آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی متنازع 13 ویں آئینی ترمیم کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اس آئینی ترمیم کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے جو 21 اپریل کو اس کی سماعت کرے گا۔

چھوٹا کاروبار، بڑی کامیابی

خواتین کے لیے ہوم بیسڈ بزنس آئیڈیاز