"AYA" (space) message & send to 7575

پیغام رسانی کافی نہیں

اب تک جو پاکستان نے کیا حالات کے مطابق وہی مناسب تھا لیکن اس لمحے سے آگے پاکستان کو پیغام رسانی سے کچھ آگے جانا چاہیے۔ اِس وقت امریکہ کو صاف بتانے کی ضرورت ہے کہ جو زور زبردستی والا رویہ اُس نے اپنایا ہوا ہے اُس سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ عقل کی بات تو کر نہیں رہا‘ وہ ایران کو بے عزت کرنا چاہتا ہے جس کے لیے ایران تیار نہیں۔ رویے یہی رہے تو کوئی بتائے مذاکرات کیسے آگے چل سکتے ہیں‘ کجا اس کے کہ کوئی قابلِ عمل معاہدہ ہو جائے؟
پاکستان کی مشہوری ہو گئی‘ قیادت کی بلّے بلّے ہو گئی‘ جیسا کہ کہا جا رہا ہے پاکستان کا پروفائل بڑھ گیا۔ سب باتیں درست ہیں لیکن امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات بگڑ گئے تو اس پروفائل کو ہم کیا کریں گے؟ بازار میں کتنے دام یہ پروفائل بِکے گا؟ کچھ پیسے سعودیہ سے ملے ہیں جس سے بمشکل وہ خسارہ پورا ہو گا جو یو اے ای کے پیسے واپس کرنے سے پیدا ہوا تھا۔ باقی ہمارے حالات وہی رہیں گے جو پہلے تھے‘ وہی مانگے پر گزارا‘ ادھر اُدھر سے ادھار لینا تاکہ پچھلے ادھار کی ادائیگیاں پوری ہو سکیں۔ جہاں تک ٹرمپ کی تعریف ہے وہ ہمارے کس کام کی۔ وقتی طور پر دل خوش ہو گئے‘ اپنے آپ کو ہم نے تھپکی دے دی لیکن اس سے زیادہ کیا؟ بات تو تب ہے کہ دیرپا معاہدہ طے پائے لیکن اُس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اپنی اکڑ‘ اپنی ہٹ دھرمی کچھ کم کرے۔ ایران نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بے عزتی کے لیے تیار نہیں۔ جارحیت اور زور آزمائی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوتے تو اب تک کر دیے ہوتے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران نے نقصان برداشت کیا لیکن جھکنے سے انکار کیا۔
اس صورتحال میں پاکستان کو امریکہ کے سامنے کچھ کھل کے کہنا چاہیے کہ ثالثی کے ضمن میں پاکستان جو کرسکتا تھا اُس نے کیا لیکن اب امریکی ایڈمنسٹریشن کچھ عقل اور شعور کا مظاہرہ کرے‘ نہیں تو معاہدہ نہیں ہوگا اور جنگ کے شعلے پھر سے بھڑک سکتے ہیں۔ امریکہ کے عجیب مطالبات ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے‘ آبنائے ہرمز کھول دے‘ صدر ٹرمپ جشنِ فتح منائے اور اس کے بدلے ایران کو اپنے ضبط شدہ اثاثے ملیں‘ دھیرے دھیرے اور قسطوں میں اور جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے وہ بھی ہٹیں تو آہستہ آہستہ۔ ایران گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑ کر بیٹھا ہوتا پھر تو ایسے مطالبات درست تھے کیونکہ فاتح پھر اپنی مرضی کرتا ہے لیکن امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ بھلے کہتے رہیں کہ ہم نے ایران کی ایئر فورس نیست ونابود کر دی‘ اُن کی نیوی تباہ ہو گئی لیکن اس جنگ میں ایران کو شکست نہیں ہوئی۔ نقصانات کے باوجود قیادت اور نظام قائم دائم ہیں‘ ایرانی قوم کی ہمت بدستور دکھائی دے رہی ہے اور گو ایران جنگ نہیں چاہتا‘ اُس پر پھر سے حملے ہوئے تو جواب دینے کی صلاحیت اُس کے پاس موجود رہے گی۔ ایسے میں امریکی مطالبات بے وقوفی کا مظہر لگتے ہیں۔ پاکستان جو کر سکتا ہے کر رہا ہے، سکیورٹی کے لیے پورا اسلام آباد بند پڑا ہے۔ لیکن مذاکرات کی بات کرنا اور ساتھ ہی صبح شام ایران کو دھمکیاں دینا اور خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قابض ہونا یہ کوئی ماحول نہیں ہے جس میں مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔
صرف پاکستان ہی نہیں اب وقت آن پہنچا ہے کہ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ بھی بہ آوازِ بلند کہیں کہ امریکہ کے ان رویوں سے کوئی بہتری نہیں ہو سکتی۔ ان سارے ممالک نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن صحیح بات کرنے کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں پر نہ پڑے۔ مل کر پاکستان اور باقی تین ممالک کو واشنگٹن کو بتانا چاہیے کہ ایسے کام نہیں چلے گا‘ امریکہ کو کچھ عقل کی بات کرنا ہو گی۔ جب ایران اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ اُس کے پاس افزودہ یورینیم کمزور کر دیا جائے اور وہ اگلے پانچ سال تک افزدوگی کی طرف نہیں جائے گا تو امریکہ کو اور کیا چاہیے؟ اس ایرانی پوزیشن کو امریکہ جھٹ سے پکڑے اور امن معاہدے کی بنیاد بنائے۔ حالات کے بگاڑ کی وجہ سے خود صدر ٹرمپ کی سیاسی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی عوام کی بھاری اکثریت اس جنگ کی حمایت میں نہیں ہے۔ آنکھیں بند کر کے صدر ٹرمپ نے یہ آتش تیار کیا لیکن اب موقع ہے کہ ان انگارو ں کو ٹھنڈا کیا جائے۔ نہ کہ ہر روز ایک نئی اشتعال کی صورت پیدا کی جائے۔ لہٰذا وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان ذرا کھل کر امریکہ سے بات کرے۔ اور ساتھ ہی باقی تینوں ممالک بھی امریکہ کو کچھ سمجھائیں۔
شعلے پھر بھڑک اُٹھے تو اس میں نقصان سب کا ہے۔ معاشی اثرات امریکہ تک پہنچ رہے ہیں اور اگر حالات خراب ہوئے ان اثرات کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ گلف کے عرب ممالک کا بھاری نقصان ہوا ہے‘ ایران کا کتنا ہوا ہے۔ فائدے میں ہے تو صرف اسرائیل کیونکہ اُس کی پرانی خواہش ہے کہ سارے اسلامی ممالک تباہ ہوں۔ پہلے راؤنڈ کی میزبانی پاکستان نے خوب کی اور اس کی ساری دنیا معترف ہے لیکن یہ بھی کیا ہوا کہ ایک بار پھر ہمارے لڑاکا جہاز اڑان بھریں مہمانوں کے استقبال کیلئے‘ مذاکرات کے عوامل پورے ہوں اور سب کچھ کرنے کے بعد خاطر خواہ نتیجہ کچھ نہ نکلے۔ اس بار بار کی بے سود میزبانی کے متحمل ہم نہیں ہو سکتے۔
ویسے بھی امریکہ کو اس خطے سے نکلنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ گلف ممالک نے امریکی تحفظ کے مزے چکھ لیے۔ امریکی اپنے اڈوں کا تحفظ نہ کر سکے‘ اُنہوں نے عربوں کا کیا تحفظ کرنا تھا۔ کیا کمال کے جنگی مقاصد امریکہ نے حاصل کئے ہیں کہ جس آبنائے ہرمز سے آمدورفت اس جنگ سے پہلے جاری و ساری تھی جنگ کے نتیجے میں یہ آمدورفت بند ہو گئی ہے۔ بے شعور پن کی کچھ حد ہونی چاہیے‘ لیکن صدر ٹرمپ کی صدارت میں لگتا ہے امریکہ تمام ایسی حدیں پھلانگ رہا ہے۔ اور نقصان صرف امریکہ کا نہیں ساری دنیا کا ہو رہا ہے۔
مسلم ممالک نے اور کسی سے کچھ سیکھنا ہے یا نہیں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ اس جنگ کا نام نہیں لیا لیکن جنگوں کے خلاف کھل کے بول رہے ہیں۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے کچھ لوگ جو ایران جنگ کو عیسائیت کے لبادے میں ڈھانپ رہے تھے اُن کے خلاف پوپ نے تنبیہ کی ہے۔ مسلم ممالک بھی اپنا حجاب ذرا پرے کریں اور امریکہ سے کھل کر بات کریں۔ شاہ فیصل بھی ہوا کرتے تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو مغربی ممالک کے حوالے سے تیل کی بندش کا اعلان کر دیا۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں تین چار گنا بڑھ گئیں۔ اب بھی ایسے ہی کسی عمل کی ضرورت ہے‘ لیکن شاہ فیصل کہاں سے آئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو تھے پاکستانی پائلٹ شام کی مدد کیلئے بھیجے ۔ آج کے سربراہانِ اُمہ احتیاط کے کچھ زیادہ ہی شیدائی نظر آتے ہیں۔ لیکن سمجھنا چاہیے کہ ایران کا نقصان اُمہ کا نقصان ہو گا۔ پچھلے بیس سالوں میں کتنے مسلم ممالک تباہ ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ کہیں تو رکے۔ ایرانی قوم کی ہمت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا سامنا کیا۔ لیکن یہ موقع ہے کہ اور کچھ نہیں تو سفارت کاری میں رعنائی آئے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دھمکیاں ایرانی تہذیب کو مٹانے کی ہوں اور اُمہ پر سناٹا چھایا رہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں