علامہ محمداقبالؒ کا کلام :عشقِ بلاخیز کا قافلہ سخت جاں!

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین


علامہ اقبالؒ کا کلام خودی، عشق اور فقر کی جس طِلائی مثلث پر استوار ہے،عشق اس کا مرکزی زاویہ ہے

علامہ اقبالؒ کا کلام خودی، عشق اور فقر کی جس طِلائی مثلث پر استوار ہے،عشق اس کا مرکزی زاویہ ہے۔ یہ وہ زاویہ ہے جس کے بغیر اطراف کے زاویے یعنی خودی اورفقر کے جذبے بھی خودنگری و خودگری سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ فکر اقبالؒ کی اساس ہے اور بغور دیکھیں تو کائنات کی بنیادبھی ۔ ازل سے سارے عالم میں عشق کی روانی اور جولانی ہے اور یہی جذبہ ہے جو فرد کو تحرک و تغیر پر اُکساتا ہے، ستاروں پر کمندیں ڈالنے پر مائل کرتا ہے اور زمان و مکاں سے ماورا ہو جانے کی ترغیب دلا کر فرد کو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے احساس سے آشنا کر دیتا ہے۔ اس کی برتر صورت نبی مکرّم محمد مصطفی، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کے عشق میں خود کو فنا کر لینا ہے اور یوں درحقیقت مقامِ رنگ و بُو کا راز پا جانا ہے۔

اقبالؒ نے اس کلیدی جذبے کو متعدد ناموں سے پکارا ہے، یہ عشق بھی ہے، جنوں بھی، ذوق بھی ہے اور شوق بھی،جذب بھی ہے اور سُرور بھی۔یہ بے پناہ وسعتیں اور جدتیں رکھتا ہے اور وجود انسانی اور بقائے انسانی کا راز اسی جذبے میں مضمر ہے۔ اس کی قوت و طاقت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ تمام تر عقلی تاویلات اور استدلالات پر حاوی آ جاتا ہے۔ یہ آتش نمرود میں بے خطر کود جانے کا عمل ہے اور ازل سے امروز تک ہر دورمیں چراغِ مصطفویؐ شرارِ بولہبی کے ستیزہ کار رہنے کا نام ہے۔ یہ وہ چنگاری ہے، جو ہر مادی و روحانی ترقی کی بنیاد ہے۔ اس کے بے شمار ابعاد ہیں اور اقبالؒ یہ چاہتے ہیں کہ قوتِ بازوئے مسلم اس سے تقویت حاصل کرے، بالخصوص اس آتشِ عشق کا قیام وہ نوجوان مسلمان کے دل میں گردانتے ہیں۔

کلامِ اقبال میں عشق کی اس زبردست قوت کو جو روحانی بنیاد رکھتی ہے، بحرِ بیکراں کی صورت میں دکھایا گیا ہے اور اقبالؒ اسے فرد کے تحرک اور اس کے نظامِ عمل کیلئے ضروری شمار کرتے ہیں۔ یہ استحکام خودی کا وسیلہ ہے اور مکارمِ اخلاق کے حوالے سے دیکھیں تو اقبالؒ کے الفاظ میں عشق شاہوں کا شاہ اور میروں کا میر ہے۔ عشق سراپا یقین ہے، سو ہمیشہ فتح یاب رہتا ہے۔ اقبالؒ نے اسے محض کسی شے کی جستجو اور لگن کو من میں جذب کرنے کے بجائے جزوِحیات بنا کر اپنے لینے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کے متعدد روپ ہیں، جن کی ارفع صورت وہ ہے جسے وہ ’’مسجد قرطبہ‘‘ میں یوں بیان کرتے ہیں:

عشق دمِ جبرئیل، عشقِ دلِ مصطفیؐ

عشق خدا کا رسولؐ، عشق خدا کا کلام

عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا

اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

اقبالؒ یہ سمجھتے ہیں کہ عشق ایک انسانی، روحانی، تخلیقی اور کائناتی جذبہ ہے۔ یہ ایسی قدر، طرز یاصفت کا نام ہے جو فرد کے زاویۂ نظر کو تبدیل کر دیتی ہے۔ بغور دیکھیں تو اپنی بلندصورت میں یہ دین اور شریعت کا راستہ اور روحانی اور اسلامی اخلاقیات کا دوسرا نام ہے۔ کلام اقبالؒ کی رُو سے یہ اسلام کا راستہ ہے اور اسلام بھی وہ نہیں کہ محض رسمی و روایتی ہو بلکہ اسلام کی وہ صورت جو ’’ہر لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلی‘‘ کے مصداق قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دینے کا نام ہے۔ انقلاب خیزی و انقلاب انگیزی اس کے اجزائے لاینفک ہیں۔ عشق، حق و باطل کی آویزش میں اس رویے کا نام ہے جو سرتاسر خیر، بقا، تکریم انسانی اور مقامِ انسانی سے باخبر ہونے سے عبارت ہے۔ یہ دین اور شریعت کی روح ہے اور اس کے استحکام اور پختگی کی دلیل ہے۔ یہ فرد کے ریشے ریشے میں یوں سما جاتا ہے جیسے بادِ صبح گاہی کا نم گلستانی منظرنامے کو حیات کی نوید دیتا ہے۔ یہ جذبہ مثبت قدروں کا امین ہے اور فرد کو حیات کی نعمت افروز وادیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔ گویا اقبالؒ کے نزدیک دین اور شریعت کا پیمانہ راہِ عشق پر گامزن ہو کر محبوبِ فطرت بن جانے کے خواہاں فرد کیلئے ضروری ہے۔ عشق کے ہونے سے کافر میں مسلمانی شان پیدا ہوتی ہے او رنہ ہونے سے مردِ مسلماں بھی کافر وزندیق ٹھہرتا ہے۔  علامہ فرماتے ہیں:

عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق

عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات

صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق

معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

٭٭٭

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی

نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق

اقبالؒ کے مطابق جذبۂ عشق انفرادیت ،بوقلمونی، تنوع اور رنگارنگی رکھتا ہے۔ اسے کسی ایک حالت میں قرار نہیں۔ یہ نوع بہ نوع روپ بدلتا ہے، لہٰذا ازل سے ابد تک کائنات میں تغیر و تبدل اسی کے دم سے ہے۔ ذیل کے ابیات دیکھیے جہاں وہ اسلامی فکر کے تناظر میں عشق کے رنگ دکھاتے ہیں:

کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق

کبھی سوز و سُرورِ انجمن عشق

کبھی سرمایۂ محراب و منبر

کبھی مولا علیؑ، خیبر شکن عشق

٭٭٭

کبھی آوارہ و بے خانماں عشق

کبھی شاہِ شہاں نوشیرواں عشق

کبھی میداں میں آتا ہے زرّہ پوش

کبھی عریان و بے تیغ و سناں عشق

اسی بوقلمونی کے نتیجے میں عشق زمان و مکاں سے ماورائیت رکھتا ہے۔ اس میں ایسی تیزی اور مستعدی ہے کہ اس کے حامل فرد کا اضطراب اسے زمان و مکاں کی قید سے آزاد کرکے اس کے عشق کو پوری کائنات پر محیط کر دیتا ہے۔ اس کا حامل نئے افق کا متلاشی رہتا ہے جس کے باعث زمانے کی بظاہر تیزی اور روانی اس کے راستے میں حائل نہیں ہوتی۔ علامہ فرماتے ہیں:

تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو

عشق خود اک سیل ہے، سیل کو لیتا ہے تھام

عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا

اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

اقبالؒ کے مطابق اس جذبے کے طفیل فرد عناصرِ فطرت سے نبردآزما ہو جاتا ہے بلکہ بسااوقات اس سے ماورا بھی ’’جاویدنامہ‘‘ میں اقبالؒ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جذبۂ عشق کے سامنے پہاڑ، ایک پرِکاہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور مکاں تو ایک طرف یہ لامکاں پر شب خون مارتا ہے، نمرود کے غرور کو توڑتا ہے، آزر کے تکبّر کو مٹاتا ہے اور بُت شکنی اس کی صفتِ عالیہ ہے۔ جس کے باعث نئے آسمانوں اور نئی زمینوں کا متلاشی رہتا ہے اور دمادم ’’صدائے کن فیکون‘‘ سنتا ہے اور اس کائنات کو ہر لحظہ ناتمام ہی سمجھتا ہے۔ شعر دیکھیے:

شیوۂ عشق ہے آزادی، دہر آشوبی

تُو ہے زُنّاری بُت خانۂ ایام ابھی

اقبالؒ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ جذبۂ عشق ایک لافانی جذبہ ہے لہٰذا اس کے تحت جن اعمال و افعال اور عزائم کی بنیاد رکھی جاتی ہے، وہ بھی لافانی ٹھہرتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ سلسلۂ روزوشب نِت نئے واقعات و حادثات کا نقش گر ہے عشق لافانی ہے:

ہے مگر اُس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام

جس کو کیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ

عشق ہے اصلِ حیات جس میں نہیں رفت و بود

جذبۂ عشق فرد میں جرأتِ رندانہ پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ مستی عطا کرتا ہے جس میں ’نیستی‘نہیں بلکہ سرتاسر ’ہستی‘ ہے۔ مصلحت کوشی سے گریز کرتے ہوئے بے خوفی، بے باکی اور بہادری کے ساتھ میدانِ عمل میں کُود پڑنا اس کا خاصہ ہے۔ اقبالؒ کے مطابق اس قدر جدت، حدت اور شدت کی وجہ یہ ہے کہ خالقِ ازل کی جانب سے جذبے میں بلا کی قوت و طاقت رکھی گئی ہے۔ محنت شاقہ اس کے حامل کا شعار ہے اور ایمان و ایقان اس کا وطیرہ،ایمان کی لذت اس کے اعتماد کو بڑھاتی ہے۔ دیکھیے صاحبِ عشق کی لذتِ ایمانی و ایقانی کو اقبالؒ کس طرح محسوس کرواتے ہیں:

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصّہ تمام

اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں

دل چسپ بات تو یہ ہے کہ اقبالؒ کے ہاں جذبۂ عشق تمام تر کامیابیوں کے باوصف فرد کو فراقی الاصل ہی رکھتا ہے۔ اقبالؒ اس نفسیاتی حقیقت سے آگاہ ہیں کہ حالت فراق عشق کے جذبے کو مہمیز کرتی ہے۔ سو، فرد ایک کے بعد دوسری منزل کی جانب لپکتا ہے اور اپنی آرزوئوں ،امنگوں اور تمنائوں کی ایک دنیا آباد کرتا چلا جاتا ہے۔دراصل اقبالؒ کے نزدیک عشق کا خمیر ہی فراق سے اُٹھایا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ فرد کی تمنائیں تازہ تر رہتی ہیں۔ یہاں علامہ کے شعر دیکھیے کیسی تاثیر رکھتے ہیں:

عالمِ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراق

وصل میں مرگِ آروز، ہجر میں لذتِ طلب 

اسی طرح زبانِ فارسی میں فرمایا:

تو نشناسی ہنوز شوق بمیرد ز وصل

چیست حیاتِ دوام؟ سوختنِ ناتمام!

(تو نہیں جانتا کہ ملاپ، عشق کی موت ہے، کیا تمھیں معلوم ہے کہ ہمیشہ کی زندگی کیا ہے؟ جان لو، یہ ہمہ وقت حالتِ فراق میں جلنا ہے)

علامہ اقبال ؒکے مطابق عشق انقلابی تاثیر رکھتا ہے، لہٰذا اس کے ہونے سے فرد کندن بن جاتا ہے اور نہ ہونے سے محض خاک کی مٹھی بن کر رہتا ہے جسے اجزا کی حرارت کبھی پریشان نہیں کرتی۔ اسی طرح اس کے ہونے سے قومیں عروج پکڑتی ہیں، فرمایا:

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی

کیا ہے اس نے فقیروں کو وارثِ پرویز

جیسا کہ آغاز میں ذکر ہوا اقبالؒ کے ہاں خودی اور فقر کا بنیادی عنصر عشق ہے لہٰذا کہنا چاہیے کہ یہ اقبالؒ کے تصورِ مردِ کامل کا لازمہ اور اس کے تصورِ شاہین کا اختصاص ہے۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ عظیم شخصیات عشق سے صاحب فروغ ہوئیں۔ وہ خواہ ابنیائے کرامؑ ہوں یا خلفائے اسلام، یا پھر اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کی سرکردہ شخصیات اور سب سے بڑھ کر نبی آخرالزمان حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺکی ذاتِ مبارکہ جن کے جذبۂ عشق کی وضاحت علامہ یوں کرتے ہیں:

اخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آواز

سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات

رہِ یک کام ہے ہمت کے لیے عرشِ بریں

کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

اقبالؒ نے دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دینے کی بات بھی اسی لیے کی ہے تاکہ مسلم میں بلند تر مقاصد، حیات پیدا ہوں۔وہ جان گئے تھے کہ عشق کے ہونے سے ترقی ہی ترقی اور نہ ہونے سے تنزل ہے، اس لیے انھوں نے اپنے کلام میں حیاتِ انسانی کی متنوع جہات، شخصیات اور واقعات سے اس کا ربط ضبط ظاہر کیا اور جہاں کہیں بھی انھوں نے مسلمانوں میں عشق کی آگ بجھی ہوئی دیکھی یا اسے راکھ کے ڈھیر کی صورت محسوس کیا،وہیں نو بہ نو طریقوں سے آتشِ عشق کو قلب مسلمان میں فروزاں کر دینے کی بات کرتے رہے ۔ وہ اسی کے لیے دعاگو رہتے تھے اور افرادِ ملتِ اسلامیہ کے لیے یہ دعا چھوڑ گئے:

عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر

شریکِ زمرۂ لایحزنوں کر

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں

مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

شاعرِ مشرق ؒ

تو سینئہ مشرق کی صدا شاعر مشرق

تو دیدہ ملت کی ضیاء شاعر مشرق

مربوط ترا فلسفہ اور فکر منظم

انداز ترے سب سے جدا شاعر مشرق

تو بادِ آزادی اظہار کا ساقی

تو برط فطرت کی نوا شاعر مشرق

گرماتی ہے سینوں کو تری گرمی گفتار

تڑپاتی ہے ہر تیری ادا شاعر مشرق

مشرق ترے نغموں سے ہے معمور و منور

مغرب تری سوچوں پہ فدا شاعر مشرق

ہوگا ابھی چرچا ترے پیغام کا کچھ اور

چمکے گا ابھی نام ترا شاعر مشرق

(حفیظ تائب) 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ایران کی تہذیبی قوت اور اقبالؒ کی بصیرت

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیواشاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے:امم را ازشہان پایندہ ترداننمی بینی کہ ایران ماندوجم رفت

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل) 11:پشاور زلمی کی حکمرانی برقرار

پشاور زلمی کے کوشل مینڈس بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں سرفہرست، بائولنگ میں سفیان مقیم سب سے آگے، آل رائونڈ کاردگی کے لحاظ سے شاداب خان پہلے نمبرپر:بابراعظم نے پی ایس ایل میں 4ہزار رنز جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 100نصف سنچریوں کا سنگ میل عبور کر لیا، رائلی روسو پی ایس ایل میں 100 میچ کھیلنے والے پہلے غیرملکی کھلاڑی بن گئے

ایشین بیچ گیمز: پاکستانی دستے کا اعلان

22 سے 30 اپریل تک ہونیوالی گیمز میں 45ممالک کے 1790کھلاڑی قسمت آزمائیں گے:پاکستان کا40رکنی قومی دستہ چین کے شہر سانیا میں شیڈول 6 ویں ایشین بیچ گیمزمیں اتھلیٹکس، ہینڈبال، جوجتسو، کبڈی ،ٹرائی تھلون اور ریسلنگ میں حصہ لے گا

درخواست کی کلاس!

سکول کے صحن میں ہلکی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور بچے اپنی اپنی کلاسوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ہوا کا سفر

ایک سہانی صبح کو سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑی تو اس کی ملاقات بارش کی ننھی سی بوند سے ہوئی۔ ہوا آج بہت خوش تھی، وہ کبھی درختوں کے پتوں سے ٹکراتی تو کبھی پھولوں کو چھیڑتی۔

جاپانی کہاوتوں میں محنت کرنے کا سبق

ہر ملک میں الگ الگ کہاوتیں مشہور ہیں جو وہاں کے رہن سہن کی عکاسی کرتی ہیں۔ جدوجہد کرنے اورعلم حاصل کرنے کی تلقین کرنے والی جاپانی کہاوتیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔