صحافت ایک دلچسپ اور پُرلطف پیشہ ہے‘ بشرطیکہ آپ اسے دل سے اپنائیں۔ اگر محض اس لیے اس میدان میں آنا چاہتے ہیں کہ یہاں ٹھاٹ باٹ ہے‘ شہرت ہے‘ بڑے لوگوں سے تعلقات بنتے ہیں اور تھانہ کچہری کے معاملات آسان ہو جاتے ہیں تو پھر یہ شوق نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے‘ جسے آپ شاید انجوائے نہیں کر سکیں گے۔ یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ اس پیشے میں آپ کو ہر طرح کے کردار ملتے ہیں‘ اور مختلف النوع لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہر شخص سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے‘ چاہے وہ اچھا ہو یا برا‘ لیکن سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس پیشے میں ایک خاص طرح کا ایڈونچر بھی موجود ہے۔ آپ لوگوں کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد یا تو وہ آپ سے آگے نکل جاتے ہیں یا آپ ان سے آگے بڑھ جاتے ہیں‘ اور یوں ان کی شخصیت یا باتوں میں وہ کشش باقی نہیں رہتی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پرویز مشرف کے دور میں‘ 2002ء میں پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تو بہت سے پارلیمنٹرینز سے متاثر ہوا۔ اپوزیشن کے دنوں میں ان کی تقاریر ہمیشہ متاثر کرتیں‘ اور یہ سلسلہ پانچ سال تک جاری رہا۔ لیکن 2008ء میں جب وہی سیاستدان اقتدار میں آئے اور اکثر وزیر بنے تو وہ لوگ ہمارے ساتھ ٹاک شوز میں بیٹھ کر انہی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہوتے بلکہ بعض اوقات ہم سے الجھ بھی پڑتے تھے‘ جنہیں وہ کبھی پرویز مشرف کے وزیروں کے خلاف پارلیمنٹ میں چارج شیٹ کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔
اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ بعض لوگ طویل عرصے تک اداکاری تو کر سکتے ہیں مگر جب وہ کسی منزل پر پہنچتے ہیں تو ان کی اصل شخصیت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ چند واقعات ایسے ہیں جنہوں نے مجھے گہرائی تک متاثر کیا۔ ان میں ایک واقعہ یہ تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن نے وزیراعظم بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف قومی اسمبلی میں سرے محل سکینڈل اٹھایا۔ یہ ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ پر مبنی تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرے کاؤنٹی میں ایک گھر خریدا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے فوری طور پر اس کی تردید کی اور اسے مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔جب نواز شریف اور ان کی جماعت اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تقاریر کر رہے تھے تو ایک دن کابینہ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے وزیراعظم سے براہِ راست سوال کیا کہ آیا یہ خبر درست ہے یا نہیں۔ بینظیر بھٹو نے پورے اعتماد سے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے‘ ایسا کوئی گھر نہیں خریدا گیا۔ ڈاکٹر شیر افگن نے وزیراعظم کی بات پر یقین کیا اور ہر فورم پر اس کا دفاع کیا لیکن جب بعد میں سرے محل بیچ کر دبئی میں گھر خریدنے کی خبریں پوری دنیا میں چھپیں تو وہ افسردہ ہو گئے۔ میری ان سے روزانہ ملاقات ہوتی تھی‘انہوں نے ایک روز کہا کہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سامنے سچ بولنا چاہیے تھا۔ اگر گھر خریدا بھی تھا تو اس میں ایسا کیا جرم تھا کہ اسے چھپایا جاتا؟ ایسی باتیں کب تک چھپ سکتی ہیں؟ اب جب سب کچھ سامنے آ گیا تو افسوس کے سوا کچھ نہیں۔
ڈاکٹر شیر افگن کے افسوس کو ایک طرف رکھیں اور نواز شریف اور ان کی جماعت کے کردار پر نظر ڈالیں۔ جس وقت وہ سرے محل سکینڈل کی فوٹو کاپیاں ایوان کے اندر اور باہر تقسیم کر رہے تھے اسی وقت وہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں فلیٹس خرید چکے تھے‘ جو برسوں بعد پاناما لیکس میں منظر عام پر آئے۔ یعنی جس عمل پر وہ دوسروں کو کرپٹ ثابت کر رہے تھے وہی کام خود بھی کر رہے تھے۔ اس طرح اگر یاد ہو تو عمران خان یوسف رضا گیلانی کے ترک ہار کی باتیں اپنے ہر جلسے جلوس اور ٹی وی انٹرویو میں سناتے تھے‘ لیکن پھر پتا چلا کہ وہ خود بھی سب سرکاری تحائف اپنے گھر لے گئے اور انہیں بیچ بھی دیا۔میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ کیسی انسانی نفسیات ہے کہ جو کام آپ خود کر رہے ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ غلط ہے‘ وہی کام جب کوئی دوسرا کرے تو آپ اسے مجرم قرار دیتے ہیں۔ انسان خود کو کیسے قائل کر لیتا ہے کہ وہ درست ہے اور دوسرا غلط؟
1997ء میں جب سوئٹزرلینڈ کے بینک میں زرداری صاحب کے ساٹھ ملین ڈالرز کا انکشاف ہوا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل میاں فاروق ( موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے والد)نے سوئس حکومت کو خط لکھا کہ یہ دولت پاکستان سے لوٹی گئی ہے اور پاکستان کے عوام کی ہے لہٰذا اسے واپس کیا جائے‘ جس پر اس رقم کو منی لانڈرنگ قرار دے دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں نواز شریف خاندان پر بھی پاناما لیکس میں اسی نوعیت کے الزامات لگے۔ شہباز شریف پر 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس بھی بنا جو عمران خان کے دورِ حکومت میں زیرِ تفتیش رہا۔ اگر وہ وزیراعظم نہ بنتے تو شاید اس کیس میں انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ مگر وہی شہباز شریف زرداری صاحب کو لاڑکانہ کی گلیوں میں گھسیٹنے کی باتیں کرتے رہے۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ میں درجنوں واقعات بیان کر سکتا ہوں جہاں لوگ اسمبلی میں دوسروں کی کرپشن کے قصے سناتے تھے جبکہ خود بھی کسی نہ کسی سکینڈل میں ملوث ہوتے تھے۔ ایک واقعہ لیاقت بلوچ نے سنایا تھا کہ 2002ء میں ایم ایم اے کے ارکان سائیکلوں پر پارلیمنٹ آئے لیکن 2007ء میں وہی ارکان پجارو اور پراڈو میں واپس گئے۔
ہمارے ہاں یہ نعرہ بہت مقبول ہے کہ غریب کو اقتدار میں لایا جائے تو ملک کی حالت بدل جائے گی‘ مگر اپنی چوبیس سالہ پارلیمنٹ رپورٹنگ میں مَیں نے یہی دیکھا ہے کہ اگر کوئی غریب پس منظر کا آدمی پارلیمنٹ میں پہنچ بھی جائے تو دو سال بعد وہ غریب نہیں رہتا۔ ترقیاتی فنڈز میں‘ بقول سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ تیس فیصد کمیشن لے کر لوگ چند سالوں میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ اگر میں نے کسی سیاستدان کو پانچ سال پہلے جیسے کپڑوں یا گاڑی میں اسمبلی آتے اور ویسے ہی واپس جاتے دیکھا تو وہ میانوالی کے ڈاکٹر شیر افگن نیازی تھے۔ وہ ایسی وزارت قبول ہی نہیں کرتے تھے جس میں مالی فوائد کا امکان ہو۔ اسی لیے وہ زیادہ تر وزیر پارلیمانی امور ہی رہے‘ جن کا کام صرف پارلیمانی امور دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر شیر افگن جیسا سادہ اور اصول پسند سیاستدان میں نے کم ہی دیکھا ہے۔
اب ایک اور دلچسپ مگر تلخ پہلو دیکھیں۔ ایک تصویر میں دیکھا کہ ایک سابق بیوروکریٹ لاہور کی سول سروسز اکیڈمی میں زیرِ تربیت افسران کو لیکچر دے رہے تھے۔ اس سیریز کا نام ''اخلاقی لیکچر سیریز‘‘ رکھا گیا ہے۔ بظاہر اس کا مقصد مستقبل کے بیوروکریٹس میں اخلاقیات کو فروغ دینا ہے‘ مگر اسی دوران خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ پاکستانی بیوروکریٹس پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے کہ بیرونِ ملک جائیدادیں خرید سکیں‘ غیر ملکی شہریت حاصل کریں اور اپنے بچوں کو باہر منتقل کریں؟ ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ زیرِ تربیت افسران پر زیادہ اثر کس بات کا ہوگا‘اخلاقی لیکچرز کا یا اس تلخ حقیقت کا کہ سینئر افسران بیرونِ ملک اثاثے بنا رہے ہیں۔ نتیجتاً اکثر افسران سروس جوائن کرتے ہی اپنے ''کھاتے‘‘ کھول لیتے ہیں۔ سنا ہے کہ اب تو اکیڈمی سے فارغ ہوتے ہی‘ حتیٰ کہ پروبیشن پیریڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اُس اکیڈمی کے تربیت یافتہ افسران کا حال ہے جہاں آج کل اخلاقیات پر لیکچر سیریز جاری ہے۔