بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ مہنگائی زدہ عوام کو کون جوابدہ ہے؟
بیرونی محاذ خصوصاً سفارتی حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث دنیا میں پاکستان کی زبردست پذیرائی ہوئی ہے اور امریکہ ایران تنازعے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔
پاکستان اس حوالے سے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے جس پر پاکستان اور پاکستان سے باہر پاکستانی حکومت اور ریاست کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے اور پاکستانی ہونے پر فخر کرتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس دوران اندرونی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو مسائل میں اضافہ کا رجحان عوامی پریشانی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے پٹرولیم کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کے اثرات سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں بھی بے بہا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس ضمن میں حکومت اور انتظامی مشینری اپنی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر برتتی نظر آتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ منافع خور اور ذخیرہ اندوز پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور کوئی بھی خود کو حکومت کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھ رہا۔ خود حکومت بھی اس وقت عالمی محاذ پر پاکستان کو ملنے والی پذیرائی کے احساس سے سرشار ہے اور اندرون ملک بڑھتے ہوئے مہنگائی کے چیلنجز پر توجہ نہیں دے رہی۔ صوبوں کی سطح پر مہنگائی کا ایشوبنیادی طور پر گورننس کا ایشو ہے لہٰذا انتظامی مشینری کو منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔
مشرق وسطیٰ کے بحران کے پیش نظر درآمدی فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس کی بندش کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے سے لوڈشیڈنگ میں بھی بڑا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک بھر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے روزانہ چار سے چھ گھنٹے اور بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ نیشنل گرڈ سے بھی ڈسکوز کے کوٹے میں 40 فیصد تک کمی ہوئی ہے اور بجلی کا شارٹ فال پانچ ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے ۔ دوسری جانب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں ڈیڑھ روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کی شدید قلت کا مسئلہ بھی پیدا ہو چکا اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے جس سے صوبہ بھر میں شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے اثرات روزگار پر بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ صنعتی پہیہ سست روی کا شکار ہے اور کاروبار متاثر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ جہاں تک کاروباری مراکز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کے کا سوال ہے تو اس سے بجلی کی بچت ہو سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے کاروباری مراکز کو رات آٹھ بجے بند کرانے کو سنجیدہ حلقوں کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے۔اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف بہت پہلے سے یہ کہہ رہے تھے کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کاروباری مراکز کی رات آٹھ بجے تک بندش کو یقینی بنانا چاہئے۔ تاہم بجلی اور گیس کے بحران پر عوامی ردعمل میں اضافہ ہوتا دکھائی رہا ہے۔ حکومت کو اس ضمن میں ممکنہ اقدامات کرنا ہوں گے اور توانائی کے شعبہ میں مربوط منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔گرمیوں میں بجلی کی طلب بہت بڑھ جاتی ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے پیداوار کا بندوبست کیسے کرنا ہے اس پر ابھی سے توجہ دینا ہو گی۔بجلی کے انتہائی زیادہ لاسز بھی بہت بڑا مسئلہ ہیں۔آخر ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا وجہ ہے کہ نہ بجلی کی چوری پر قابو پایا جا سکا اور نہ ہی ڈسٹری بیوشن لاسز کا سدباب ہوسکا ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ لوڈشیڈنگ مسائل زدہ ، مہنگائی زدہ عوام کی پریشانی میں اور اضافہ کر رہی ہے ، اس صورتحال کو حکومت کو اپنے لئے چیلنج سمجھنا چاہیے۔
ادھر حکومت پنجاب کی جانب سے زراعت اور کاشتکار کے لیے ریلیف کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اس شعبہ میں مسائل اور مشکلات کا ادراک ہوچکا ہے اور پتہ چل گیا ہے کہ دن رات اپنا خون پسینہ ایک کرنے والے کسان پر اپنی فصلوں کے حوالے سے کیا بیت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کے کاشتکاروں کے لیے چھ ارب کا باردانہ مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رجسٹرڈ کاشتکاروں کو پرچیز سنٹرز سے فی ایکڑ دس بوری باردانہ دیا جائے گا ۔اس ضمن میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے گندم خریداری مہم اور گرین ٹریکٹرز سکیم کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ کاشتکار سے 3500روپے فی من کے حساب سے گندم کی خریداری کو یقینی بنایا جائے اور گندم کی ادائیگی72گھنٹے میں یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کسان کارڈ کے لیے نولاکھ کاشتکاروں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ گرین ٹریکٹرز کے حوالے سے بتایا گیا کہ30ہزار ٹریکٹرز کی فراہمی کے ہدف میں سے 20ہزار فراہم کئے جا چکے ہیں۔ مذکورہ اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ کسان کو کسی حوالے سے بھی مسائل کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ حکومتی اعلانات، بیانات اور اقدامات اپنی جگہ لیکن عملی طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسان کو درپیش مسائل کے تحت گندم اوپن مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچنا پڑرہی ہے اور اس میں مڈل مین فائدہ اٹھاتا نظر آرہاہے ۔
اس مرتبہ تو کسانوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کھاد، بیج، ڈیزل اور مہنگی بجلی کے ساتھ اپنی پیداواری لاگت بھی ملتی نظر نہیں آ رہی۔ چونکہ کسانوں کے پاس گندم محفوظ کرنے کا بندوبست نہیں ہوتا تو وہ اپنی مجبوریوں کے تحت فوری فروخت پر مجبور ہوتے ہیں۔ زراعت کے حوالے سے حکومت کو خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں اور خود وزیر اعلیٰ کو اس پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ آج تک اگر پاکستان میں قحط سالی اور فاقہ کشی کی نوبت نہیں آئی تو اس کی بڑی وجہ پاکستان کا زرعی ملک ہونا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری اسمبلیوں میں زراعت سے وابستہ اراکین کی بہتات کے باوجود کسانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور کچھ سالوں سے پنجاب جیسے صوبہ میں زراعت سے وابستہ خاندانوں کے لیے روٹی دال کی فراہمی بھی مشکل ہو چکی ہے۔حکومت کو اپنی طے شدہ پالیسی پر عمل درآمد کے ساتھ زراعت کے شعبہ میں اصلاحات اور کسان کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ اس بحران کو مینج کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ زرعی شعبہ کو فوڈ سکیورٹی اور قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔