کراچی: بحران در بحران

تحریر : طلحہ ہاشمی


سیاست کا مطلب بات چیت، دلیل اور مفاہمت ہے، اور سنا تو یہی تھا کہ سیاستدانوں کی قوتِ برداشت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے اور یہی قوت تنقید برداشت کرنے اور غلطیاں درست کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

 ہم سیاست پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے دو تین دل دہلا دینے والی خبریں۔ پہلی خبر میرپورخاص میں ایک طالبہ کی خودکشی کی ہے، دوسری خبر کراچی میں ٹوٹی سڑک کے باعث موٹرسائیکل سے گرنے والی دو بہنوں کی جنہیں پیچھے سے آنے والے ٹینکر نے کچل دیا،اور تیسری کراچی کے سٹی کونسل اجلاس میں ارکان کی ایک دوسرے پر لاتوں اور مکوں کی بارش کی خبر ہے۔ کچھ روز پہلے میر پور خاص سے خبر آئی تھی کہ ایک طالبہ نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا،تحقیقات شروع ہوئیں تو پتا چلا کہ طالبہ کو کالج میں ہراسانی کا سامنا تھا اور اس میں کالج پرنسپل، اس کی اہلیہ، فارماسسٹ اور دو طالب علم ملوث پائے گئے۔ کیس میں اب تک دو ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، صوبے میں طالبہ کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ دوسری خبر کی تفصیل یہ ہے کہ کراچی کے علاقے ناظم آباد میں جہاں مرکزی شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، موٹرسائیکل سے دو کم عمر لڑکیاں سڑک پر گریں جو پیچھے سے آنے والے ٹینکر تلے کچلی گئیں، یہاں قصور ٹینکرسے زیادہ سڑک نہ بنانے والی انتظامیہ کا ہے، شہر میں ٹریفک حادثات میں 280سے زائد شہری جاں بحق اور 3000سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، بھاری گاڑیوں سے مرنے والوں کی تعداد 97تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں ٹریلر سے 45اور واٹر ٹینکر سے 28افراد مارے گئے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سیف سٹی فیز 2 کی منظوری دے دی ہے۔ ہزاروں کیمرے نصب ہوں گے جو سکیورٹی اور نگرانی کے کام آئیں گے۔

ایک اور خبر بھی سُن لیں یہ بھی اتفاق سے کراچی ہی کی ہے کہ میٹرک بورڈ امتحانات میں ایک بار پھر بدانتظامی اپنے عروج پر رہی۔ طلبہ کو ایڈمٹ کارڈ وقت پر نہ ملے، طلبہ اور والدین امتحان سے ایک دن پہلے تک بورڈ آفس کے چکر کاٹ کاٹ کر ہلکان ہوتے رہے، امتحانات کا شیڈول تبدیل کیا گیا، محکمے نے ذمہ دار ڈیجیٹل سسٹم کو قرار دے دیا۔ ہمیشہ کی طرح امتحانی مراکز میں پانی، بجلی اور ڈیسک نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ پیسے لے کر نقل کرانے کی باتیں بھی سامنے آئیں۔ کچھ سنٹرز کو بلیک لسٹ بھی کیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے مطابق صوبے میں تقریباً 78لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، 76فیصد تعلیمی ادارے بجلی ، 30فیصد پینے کے پانی اور 25فیصد واش روم کی سہولت سے محروم ہیں۔

یہاں سے سیاسی رہنماؤں کا کردار شروع ہوتا ہے۔ طالبہ کی خودکشی، خراب سڑکیں، امتحانی نظام میں غفلت اور نااہلی آج کی بات تو نہیں۔ ملزمان کیس کی طوالت اور گواہوں اور شواہد کی کمی پر بچ نکلتے ہیں۔ سڑک بنتی ہے تو کچھ ہی دن میں ادھڑ جاتی ہے یا کوئی ادارہ ادھیڑ جاتا ہے۔ شہری الزام لگاتے ہیں کہ امتحانی نظام مبینہ طور پر نااہلوں کے سپرد ہے جو مبینہ نااہلوں کی فوج جمع کررہے ہیں۔ برسوں سے ان مسائل نے عوام کو گھیر رکھا ہے لیکن وہ کہاں ہیں جن کا کام نظام کی اصلاح ہے؟سوال یہ ہے کہ بھاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی کس پیمانے پر ہوئی؟ تعلیمی شعبہ کی بہتری کے لیے کیا کیا گیا؟ سڑکیں بار بار کیوں ٹوٹتی ہیں، انجینئر اور ٹھیکے دار ہر بار کیسے بچ نکلتے ہیں؟ کیا حکومت نے اصلاح کے لیے کوئی قانون یا پروگرام اسمبلی سے پاس کروایا؟ وزیراعلیٰ ہوں یا کوئی وزیر مشیر یا پیپلز پارٹی کے سیاسی رہنما، سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں، کوئی تنقید کرے تو اپوزیشن کا رہنما یا پارٹی مخالف قرار پاتا ہے۔ اس کا مظاہرہ میئر کراچی کچھ روز پہلے کرچکے ہیں جب انہوں نے سوال کرنے پر مخاطب کے خضاب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ادھر کراچی سٹی کونسل کے اجلاس میں اس بار ہاتھا پائی، لاتوں، گھونسوں اور مکوں کی بارش ہوگئی۔ جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کے کچھ اراکین گتھم گتھا ہوگئے۔ اس کے بعد جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے واک آؤٹ کیا۔ جب سے نئی انتظامیہ وجود میں آئی ہے اب تک ایوان کا بزنس پرسکون انداز میں نہیں چل سکا۔ یہ ہیں وہ لوگ جنہیں شہر کے حالات درست کرنا ہیں۔ یہ لوگ باہمی تعلقات تک نبھانے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی قوت سے محروم ہیں۔ امید ہے سیاستدان شواہد اور منطق سے کی گئی باتوں پر کان دھریں گے، ناراض ہونے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں گے اور اپنی قوت برداشت دوسروں سے برتر ہوکر دکھائیں گے۔

مگرایک اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے ہم نے ابوالحسن اصفہانی روڈکی حالت ِزار کا ذکر کیا تھا، انتظامیہ نے یہاں گڑھے بھرنے اور استر کاری کا کام شروع کردیا ہے۔مگر اس کام کو مکمل ہونے میں کتنا عرصہ لگے گا اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن میئر کراچی صاحب کا شکریہ انہیں شہر کی دوسری سڑکوں پر بھی استر کاری و جھاڑ پونچھ کا کام شروع کرواناچاہیے۔ اسی کے ساتھ تجاوزات بھی اُن کی توجہ کی منتظر ہیں۔ صوبہ بھر میں انتظامیہ کو شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ صوبے میں پیپلز پارٹی جیسی مضبوط جماعت کوئی نہیں لیکن اگر عوام پولنگ بوتھ کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آپ یعنی سیاستدان غلطی پر ہیں، اور اسے درست کرلینا ہی وقت کا تقاضا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔

مہنگائی کا طوفان، حکومت کیلئے امتحان

پاکستان اس وقت دلچسپ صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر بیرونی اور سفارتی محاذ کی بات کی جائے تو دنیا پاکستان کی امن کوششوں کی معترف ہے لیکن اندرونی محاذ کی بات کی جائے تو عوام مسائل کی آگ میں سلگ رہے ہیں۔

منشیات نیٹ ورک، تہلکہ خیز انکشاف

کراچی میں انمول عرف پنکی سمیت دیگر ہائی پروفائل منشیات فروش گروہوں کی گرفتاری کے معاملے پر دنیا نیوز نے تحقیقات کیں تو ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ چھ ماہ قبل سندھ حکومت نے وفاقی سول حساس ادارے سے اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست کی تھی جس پر انسداد منشیات مہم کے لیے سندھ حکومت سے فری ہینڈ مانگا گیا تھا۔

وزارتیں، ناراض اراکین اور بڑھتا سیاسی دباؤ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ سے چند ہفتے قبل کابینہ میں توسیع کرکے حکومت سے نالاں پارٹی رہنماؤں کو اعتراضات کاسنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔

بلوچستان: چیلنجز کے باوجود پیش رفت

رواں ہفتہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کااجلاس اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ اورسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب جبکہ گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کوئٹہ اور مختلف منصوبوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا چاہتی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست نئے موڑ پر

آزاد جموں و کشمیرقانون ساز اسمبلی کے اس پانچ سالہ دور کی مدت دو اگست کو پوری ہو جائے گی۔ یوں آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ قانون ساز اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل انتخابات کو یقینی بنائے۔